حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام والمسلمین مؤمنی نے کہا کہ رہبرِ معظم انقلاب کے حالیہ پیغام میں اہم رہنما اصول اور تنبیہات موجود ہیں جن پر بالخصوص ذمہ داران اور مخلص انقلابی قوتوں کو سنجیدگی سے عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی تمام کامیابیاں حضرت امام حسین علیہ السلام کی تحریک کا ثمر ہیں۔ امام خمینیؒ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اسلامی انقلاب، عاشورا کے راستے کا تسلسل ہے، جبکہ دفاعِ مقدس کے محاذ بھی مجالسِ عزا اور حسینی ثقافت کی بدولت زندہ رہے۔ رہبرِ شہید انقلاب نے بھی تقریباً چار دہائیوں تک اسی فکر کی بنیاد پر امتِ مسلمہ کی رہنمائی کی۔
حجت الاسلام مؤمنی نے کہا کہ رہبرِ شہید کی پوری زندگی برکتوں سے بھرپور تھی اور ان کی شہادت نے اسلامی انقلاب کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مزید نمایاں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ صرف حسینی ہونے کا دعویٰ کافی نہیں بلکہ اسے عملی میدان میں ثابت کرنا ضروری ہے۔ انقلاب اسلامی، دفاعِ مقدس، مدافعانِ حرم اور حالیہ جنگ کے شہداء عاشورائی ثقافت کے عملی نمونے ہیں، جنہوں نے اسلام، انقلاب اور ولایت کے تحفظ کے لیے اپنی جان، مال اور آبرو قربان کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مکتبِ حسینی کی بنیاد ولایت کی پیروی، قربانی کے لیے آمادگی، دنیا سے بے رغبتی، لقاءِ الٰہی کی آرزو اور ولیِ خدا کے ساتھ آخر تک ثابت قدم رہنے پر قائم ہے، جبکہ اس مکتب کا حقیقی نتیجہ کامل اطاعت، وفاداری اور ایثار ہے، جس کا اعلیٰ نمونہ حضرت عباس علیہ السلام کی ذات میں نظر آتا ہے۔
انہوں نے رہبرِ شہید انقلاب کی عظیم الشان تشییع جنازہ میں عوام کی تاریخی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عاشورائی ثقافت آج بھی اسلامی معاشرے میں زندہ ہے اور ایرانی قوم اپنے الٰہی رہنماؤں کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین مؤمنی نے کہا کہ رہبرِ معظم انقلاب نے اپنے پیغام میں حالیہ جنگ کے مجرموں سے شہداء کے خون کا انتقام لینے پر واضح طور پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف رہبرِ معظم کی ہدایت ہی نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم کا مطالبہ بھی ہے اور یہ انتقام ہر صورت میں لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظم انقلاب نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ الٰہی مشن کسی ایک شخصیت یا چند ذمہ داران سے وابستہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے آزاد انسان اس مقصد کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
آخر میں انہوں نے رہبرِ شہید انقلاب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام، ولایت اور امت کی خدمت میں گزاری، ہمیشہ شہادت کی آرزو کی، اور بالآخر اسی عظیم منزل پر فائز ہوئے۔ یہی عاشورا کا راستہ ہے جس پر اسلامی انقلاب آج بھی گامزن ہے۔









آپ کا تبصرہ