بدھ 8 جولائی 2026 - 16:29
شہید رہبر کا خون انقلابِ اسلامی کی آبیاری اور بقا کا ضامن بنے گا، مولانا محمد تحسین ساجد

حوزہ/ حوزہ علمیہ زینبیہ لاہور کے مدیر اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین محمد تحسین ساجد نے کہا ہے کہ شہید امام سید علی حسینی خامنہ ایؒ نے اپنی زندگی میں انقلابِ اسلامی کی حفاظت کی اور ان شاء اللہ ان کا خون بھی انقلاب کی آبیاری، امت کی بیداری اور اس کے دوام کا ذریعہ بنے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ/ شہید امام سید علی حسینی خامنہ ایؒ کی تشییعِ جنازہ میں شرکت کے لیے پاکستان سے تشریف لائے حوزہ علمیہ زینبیہ لاہور کے مدیر اور وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام والمسلمین محمد تحسین ساجد نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت ایک عظیم، دردناک اور اندوہناک سانحہ ہے، تاہم ان کا خون انقلابِ اسلامی کے تحفظ اور اس کی بقا کا ذریعہ بنے گا۔

حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں رہبرِ معظم کی تشییع اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جس پر وہ پاکستان سے ایران پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ جب شہادت کی خبر موصول ہوئی تو کئی دن تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنی عظیم اور باوقار شخصیت کے ساتھ اس نوعیت کا ظلم بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’’رہبرِ معظم ایک عظیم شخصیت، امت کی امید اور انقلابِ اسلامی کے محافظ تھے۔ ان کی شہادت کا صدمہ صرف ایران تک محدود نہیں رہا بلکہ پوری دنیا، بالخصوص پاکستان میں محبانِ اہل بیتؑ اور تمام مکاتبِ فکر کے افراد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔‘‘

حجۃ الاسلام والمسلمین محمد تحسین ساجد نے کہا کہ شہید رہبر نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران انقلابِ اسلامی کی ترویج، اس کے فکری تحفظ اور نئی نسل کی تربیت کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ ان کے بقول، رہبرِ معظم نے جس فکر اور شعور کو امت کے اندر بیدار کیا، وہ آنے والی کئی دہائیوں تک زندہ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو اقتصادی اور دیگر داخلی مشکلات کا سامنا ضرور رہا، لیکن رہبرِ معظم کی شہادت نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ انقلابِ اسلامی کی جڑیں عوام کے دلوں میں بہت گہری ہیں۔ ’’انہوں نے اپنی زندگی میں انقلاب کی حفاظت کی اور ان شاء اللہ ان کا خون بھی رائیگاں نہیں جائے گا۔‘‘

پاکستانی عالم دین نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت کی تمنا محض ایک ذاتی آرزو نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے انقلاب کے دوام اور امت کی بیداری کا ایک عظیم فلسفہ کارفرما تھا۔ انہوں نے کہا کہ موت برحق ہے، لیکن شہید رہبر نے ایسی زندگی اور ایسی شہادت اختیار کی جو انقلابِ اسلامی کے لیے روحِ حیات بن گئی۔

انہوں نے پاکستان میں عوامی ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ، سنی، بریلوی، اہل حدیث اور دیگر مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس سانحے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ خاص طور پر محبانِ اہل بیتؑ اور شیعیانِ علیؑ نے امام بارگاہوں، مساجد اور مختلف اجتماعات میں جمع ہو کر غم و اندوہ اور محبتِ رہبر کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے دلوں میں شہید رہبر کے لیے محبت اس قدر گہری تھی کہ لوگ اس سانحے کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ ’’ہر طرف ایک ہی احساس تھا کہ امت نے اپنا عظیم رہبر، امید اور سہارا کھو دیا ہے۔‘‘

تشییعِ جنازہ کے مناظر کو بیان کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین محمد تحسین ساجد نے کہا کہ یہ اجتماع پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ رہبرِ معظم لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تشییع کا منظر انتہائی روحانی، رقت انگیز اور ناقابلِ فراموش تھا؛ ہر طرف اشکبار آنکھیں، نوحہ و گریہ اور رہبرِ معظم سے بے پناہ محبت کا اظہار دکھائی دے رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کو ہمیشہ عوامی اجتماعات میں لوگوں کے درمیان دیکھنے کے عادی تھے، لیکن جب ان کا تابوت تشییع کے لیے لایا گیا تو جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم صدمے کو رضائے الٰہی کے تحت قبول کرتے ہوئے ان کے راستے پر ثابت قدم رہنا ہی شہید رہبر سے حقیقی وفاداری ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ شہید رہبر کے افکار، ان کے راستے اور انقلابِ اسلامی کے پیغام کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ’’ان شاء اللہ ہم کبھی اس راہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اسی راستے کو ہموار کریں گے اور لوگوں کو آگاہ کریں گے کہ یہی صراطِ مستقیم اور حق کا راستہ ہے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha