حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں مجمع عالمی اہل بیت علیہم السلام کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس "شہید رہبرِ انقلاب کی فکر میں استکبار کی مخالفت" سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی و عالمی حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے نظامِ استکبار کے مقابلے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور اب جدوجہد کا اگلا مرحلہ ان کامیابیوں کے استحکام اور مستقبل کے خطرات سے تحفظ کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ استکباری نظام کی مخالفت اسلامی ثقافت کا حصہ ہے، جس میں ایک طرف ظلم، تسلط اور استعماری ڈھانچوں کی نفی کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب توحید، الٰہی حاکمیت، اخلاق اور معنویت پر مبنی نظام کی تشکیل کو ہدف بنایا جاتا ہے۔
سید مفید حسینی کوہساری نے واضح کیا کہ عالمی استکباری نظام کے خلاف مؤثر مقابلہ صرف عسکری میدان تک محدود نہیں، بلکہ یہ میڈیا، ثقافت، قانون، بیانیہ اور فکری محاذ پر بھی یکساں توجہ کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا وار اور قانونی محاذ غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں، کیونکہ استکباری قوتیں انہی ذرائع سے اپنی مرضی کی فکر دنیا پر مسلط کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملتوں کے عزم کو مضبوط بنانا، مزاحمتی افکار کو فروغ دینا، استعمار کی تاریخ سے آگاہی پیدا کرنا، اسلامی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانا اور عالمی سطح پر انسانی و اسلامی بیداری کو تقویت دینا، اس جدوجہد کے اہم تقاضے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس تقابل کی کچھ قیمت ادا کرنی پڑی ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران آج ایک مؤثر علاقائی اور بعض میدانوں میں عالمی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے، اور یہی راستہ مستقبل کی بڑی تبدیلیوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ