حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام سید مفید حسینی کوہساری نے قم میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگی حالات عالمی سطح پر ایک بڑے تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “جنگِ رمضان” کو صرف ایک علاقائی جھڑپ سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جس سے دنیا کا پرانا نظام کمزور ہو رہا ہے اور ایک نیا توازن قائم ہو رہا ہے، جو محاذ مقاومت کے حق میں جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں اب مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کم ہو رہا ہے اور صہیونی پالیسیوں سے دوری بڑھ رہی ہے، جبکہ محاذ مقاومت اب صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ ایک مؤثر طاقت بن چکا ہے۔
سید مفید حسینی کوہساری نے کہا کہ اس جنگ کے دوران ایک نئی “سائبر فوج” بھی سامنے آئی ہے، جس میں مختلف ممالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں جو سچائی کو سمجھ کر مقاومت کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے مبلّغین کو ہدایت دی کہ وہ صرف سوشل میڈیا پوسٹس پر انحصار نہ کریں بلکہ لوگوں سے براہِ راست رابطہ بڑھائیں، کیونکہ ایک شخص کو قائل کرنا ہزاروں غیر حقیقی ویوز سے زیادہ مؤثر ہے۔
انہوں نے مبلّغین کے لیے چند اہم نکات بھی بیان کیے، جن میں مغربی ممالک کی عوام تک پیغام پہنچانا، اسلامی نظام اور محاذ مقاومت کی طاقت کو بیان کرنا، مغربی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کرنا، اور مختلف شبہات کا مؤثر جواب دینا شامل ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کام کرتے وقت احتیاط، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور علم میں اضافہ بہت ضروری ہے، اور کامیابی کے وقت غرور کے بجائے اللہ سے مدد اور استغفار کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ