جمعرات 14 مئی 2026 - 19:13
جنگ رمضان دو ممالک کی جنگ نہیں؛ دو تہذیبوں کا آمنا سامنا ہے

حوزہ/ تہران یونیورسٹی میں علمی کمیٹی کے رکن نے کہا:ایران پر مسلط کردہ جنگ رمضان محض دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں بلکہ یہ دو تہذیبوں کا آمنا سامنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران یونیورسٹی میں علمی کمیٹی کے رکن اور قرآن و حدیث تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین رضا برنجکار نے قم المقدسہ میں حوزہ علمیہ ایران کے میڈیا اور سائبر اسپیس سینٹر سے وابستہ میڈیا موکب "امت مبعوث" میں اپنی تجزیاتی گفتگو میں کہا:ایران پر مسلط کردہ جنگ رمضان محض دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں ہے بلکہ یہ "انسان، خدا اور انسان کے مستقبل کے بارے میں دو نقطۂ نظر کے درمیان ایک تہذیبی جنگ" ہے۔

انہوں نے اسلامی اور مغربی تہذیبوں کی تصویر پیش کرتے ہوئے کہا: اس کا مقابلہ گہرائی میں انسانی تہذیب کے وجودی فلسفے اور مقصد کو نشانہ بنا رہا ہے۔

قرآن و حدیث تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: جنگ رمضان کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے مغربی تہذیب کو پہچاننا ہوگا اور اپنی تہذیب کے مقام کو سمجھنا ہوگا۔ اسلامی ایرانی تہذیب کی تاریخ مغربی تہذیب سے کہیں زیادہ طویل ہے اور آج یہ دونوں تہذیبیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں۔ ایک تہذیب جس کا محور خدا سے الگ انسان ہے اور دوسری تہذیب جس کا محور خدا اور آسمان سے جڑا ہوا انسان ہے۔

حوزہ علمیہ قم کے استاد نے مغربی تہذیب کے تاریخی عمل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: جدید مغربی تہذیب وسطی دور کے بعد سولہویں صدی عیسوی سے سیکولر انسان محوری کے مرکز سے وجود میں آئی۔ ایک ایسا انسان جس نے خود کو علم، سیاست، ٹیکنالوجی اور طاقت کا محور سمجھا اور خدا کی موجودگی کو زندگی سے خارج کر دیا۔ اس نئے انسان نے دعویٰ کیا کہ وہ جنت جس کا وعدہ مذاہب نے کیا ہے، وہ خود زمین پر تعمیر کرے گا، بغیر کسی دین اور وحی کی ضرورت کے۔

حجت الاسلام والمسلمین برنجکار نے کہا: اس سوچ کا نتیجہ اقوام کا استحصال اور ان کے وسائل کی لوٹ مار تھی۔ مغربیوں نے مشرق کو دھوکہ دینے کے لیے لبرل ڈیموکریسی اور انسانی حقوق جیسے الفاظ استعمال کیے لیکن اس مخملی دستانے کے نیچے ایک لوہے کا ہاتھ چھپا ہے۔

انہوں نے کہا: جب ایران کے لوگ اسلام، عدالت اور انسانی عزت کا دفاع کر رہے ہیں تو وہ درحقیقت اس تہذیب کا دفاع کر رہے ہیں جو دنیا کا مستقبل بنائے گی۔ ایک ایسی تہذیب جو علم اور ایمان کو ایک ساتھ رکھتی ہے، دولت کو معنویت کے ساتھ جمع کرتی ہے اور انسان کو مادیت کی غلامی سے آزاد کرتی ہے۔

تہران یونیورسٹی میں علمی کمیٹی کے رکن نے آخر میں کہا: اگر اسلامی تہذیب صلاح، ایمان اور عوام کی موجودگی پر قائم رہتی ہے تو یہ جنگ رمضان دنیا میں تہذیبی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہو سکتی ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جو قم سے، ملت ایران کے دل سے شروع ہوئی ہے اور پوری دنیا تک پہنچے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha