منگل 14 اپریل 2026 - 11:19
حالیہ جنگ میں دفاعِ انقلاب اولین ترجیح، حوزوی حلقوں کو متحرک رہنے کی ضرورت ہے: آیت اللہ اعرافی 

حوزہ/ سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت‌ اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں “تیسری مسلط کردہ جنگ” اور انقلابِ اسلامی و ایرانی عوام کے دفاع کو حوزوی سرگرمیوں میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے، تاہم حوزہ ہائے علمیہ کی جاری تعلیمی و تنظیمی سرگرمیاں بھی مسلسل جاری رہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت‌ اللہ اعرافی نے 13 اپریل کو تہران میں حوزہ علمیہ صوبہ تہران کے مدیران، معاونین اور ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے “بلاغ مبین” کے عنوان سے قائم جنگی قرارگاہ کے تناظر میں گفتگو کی۔ انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت‌الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم سانحے نے ایرانی قوم میں ایثار، قربانی اور استقامت کے جذبے کو مزید مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “رمضان جنگ” کے دوران تہران کے عوام نے حوزوی قیادت کی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا اور اجتماعی سطح پر بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بقول، اساتذہ، طلاب، آئمہ جماعت، مبلغین اور خطباء نے عوامی اجتماعات میں شرکت اور دفاعِ انقلاب کے میدان میں مؤثر کردار ادا کیا۔

آیت‌الله اعرافی نے اس بات پر زور دیا کہ حوزہ ہائے علمیہ کو چاہیے کہ وہ علما اور طلاب کے اندر استقامت اور ایثار کے جذبے کو مزید فروغ دیں، کیونکہ یہی موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیاں جاری رہیں گی، لیکن تیسری مسلط کردہ جنگ اور دفاعِ وطن و انقلاب کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا ضروری ہے۔

انہوں نے تہران کے بعض مدارس، “سفیرانِ ہدایت” اور تخصصی مراکز کی علمی و تحقیقی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کامیابیوں میں صوبائی مرکزِ مدیریت کا کردار قابلِ تحسین ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے موجودہ حالات میں نظامِ ولایت فقیہ کی تقویت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملتِ ایران کی حالیہ کامیابیاں رہبرِ شہید کی حکمتِ عملی اور دوراندیشی کا نتیجہ ہیں، لہٰذا سب پر لازم ہے کہ ولی فقیہ کی اطاعت کو یقینی بنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha