حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، این ای ڈی یونیورسٹی آف اینجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے سید محمود عالم آڈیٹوریم میں ’’Academia’s Perception of War‘‘ کے عنوان سے ایک اہم علمی پروگرام منعقد ہوا، جس کا اہتمام مشترکہ طور پر NETA، انجمن اساتذہ، SPLA اور KUTS نے کیا۔ پروگرام کی صدارت رجسٹرار این ای ڈی یونیورسٹی ڈاکٹر غضنفر حسین نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل اسلامی ثقافتی مرکز ایران کراچی ڈاکٹر سعید طالبی نیا تھے۔ اس موقع پر سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔
سابق وفاقی وزیر برائے خزانہ پاکستان مفتاح اسماعیل نے اپنے خطاب میں کہا: حالیہ جنگ میں سب سے زیادہ نقصان امریکا و اسرائیل کا ہوا، انقلاب اسلامی ایران کے بعد سے پابندیوں کا سلسلہ ہے، اگر معاہدہ ہوا تو ایرانی معیشت تیزی سے ترقی کرے گی، اگلے چھ ماہ پاکستان کے لیے مشکل ہیں، لیکن ایران سے پابندی ہٹنے سے پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کی کوشش کریں تو سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو ہوا ہے۔
سابق وفاقی وزیر برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ انقلابِ اسلامی ایران کے بعد سے ایران کو مسلسل پابندیوں کا سامنا ہے، اگر اب معاہدہ ہوتا ہے تو ایران پرشین گلف کی بڑی طاقت بن کر ابھرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی 20 ہزار کے ڈرون کو گرانے کے لیے بھی 200 ملین ڈالرز استعمال ہوئے، امریکا کی 60 ٹریلین ڈالرز کی مارکیٹ کریش ہوئی، اب عوام الناس کی رائے کے مطابق نظر آرہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے الیکشن میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی ہار جائے گی۔ ایران کا جانی نقصان ناقابلِ تلافی نہیں لیکن اس جنگ کے نتائج ایران کے حق میں آئیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران سے پابندیاں ہٹیں تو پاکستان ایران گیس پائپ لائن سے بڑا فائدہ ہوگا جب کہ پاکستان کو ایران کی صورت میں بڑی تجارتی منڈی بھی میسر آئے گی۔

جامعہ کی ترجمان فرواحسن کے مطابق سیمینار کی صدارت رجسٹرار این ای ڈی یونیورسٹی سید غضنفر حسین نے کی، جب کہ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران ڈاکٹر سعید طالبی نیا مہمانِ خصوصی تھے۔
سیمینار کے دیگر مقررین میں سابق چیئرمین شعبہ ابلاغیات/ معروف کالم نگار ڈاکٹر توصیف احمد، ایس آئی یو ٹی کے ڈاکٹر فاخر رضا، جامعہ اردو سے ڈاکٹر اصغر دشتی، نیٹا سے ڈاکٹر کامران زکریا اور سپلا کے صدر منور عباس نے بھی خطاب کیے۔
تقریب کی خاص بات "کاروان زیر سایہ خورشید" کا حرم مطہر رضوی (ع) کے پرچم کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت تھی جہاں امریکہ و اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاج سمیت پوری فضا رضوی خوشبو سے معطر ہو گئی۔












آپ کا تبصرہ