سیاسی کشمکش میں الجھے مزدور کی تقدیر

حوزہ/وہ پندرہ ہزار پاکستانی مزدور تھے۔ نہ سفارت کار، نہ سیاست دان۔ نہ کسی ایجنسی کے جاسوس، نہ کسی تنظیم کے پراکسی مجاہد۔ بس غریب تھے۔ محنت کش تھے اور ان کا اکلوتا جرم یہ تھا: پاکستانی ہونا اور اہلِ تشیع ہونا۔

تحریر: جواد پاروی

حوزہ نیوز ایجنسی| وہ پندرہ ہزار پاکستانی مزدور تھے۔ نہ سفارت کار، نہ سیاست دان۔ نہ کسی ایجنسی کے جاسوس، نہ کسی تنظیم کے پراکسی مجاہد۔ بس غریب تھے۔ محنت کش تھے اور ان کا اکلوتا جرم یہ تھا: پاکستانی ہونا اور اہلِ تشیع ہونا۔

متحدہ عرب امارات کی اُن سڑکوں پر، جہاں انہوں نے اپنی جوانی اور پسینہ بہا کر شہر تعمیر کیے تھے، آج وہی شہر ان کے خلاف ہو گئے۔ بینک اکاؤنٹ چھینے گئے۔ جائیدادیں ضبط ہوئیں۔ اور وہ بےرحمانہ طور پر پاکستان واپس بھیج دیے گئے۔ جیسے کوئی بھاری پتھر سینے سے اتار پھینکا گیا ہو۔ ابوظہبی کی شاہی عمارتوں کے نیچے ان کی لاشیں تو دفن نہ ہوئیں، لیکن تقدیریں ضرور دفن ہو گئیں۔

سوال یہ ہے: آخر ایسا کیوں ہوا؟

متحدہ عرب امارات، جو کبھی پاکستانیوں کا ’دوسرا گھر‘ تھا، اچانک سوتیلا کیوں ہو گیا؟

کیا ان مزدوروں نے سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کیا تھا؟

کیا وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث تھے؟

کیا ایرانی حملوں پر پاکستان کا مؤقف انہوں نے بنایا تھا؟

نہیں! تو پھر کمائی کیوں ضبط ہوئی؟

گھر کیوں لوٹے گئے؟

عزت کیوں مٹائی گئی؟

کوئی مقدمہ نہیں تھا۔ کوئی جرم نہیں تھا۔ صرف ایک الزام تھا: پاکستانی ہونا۔ صرف ایک جرم تھا: اہلِ تشیع ہونا۔ اور صرف ایک وجہ تھی: وہ کمزور تھے۔

یہ شاید پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سزا تھی۔ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ، ایران اسرائیل جنگ میں ثالثی، اور ایرانی جوابی حملوں پر وہ مؤقف جو امارات کو ’کمزور‘ لگا۔ سیاسی کشمکش کے اس کھیل میں غریب مزدور ہمیشہ سستا نشانہ ہوتا ہے۔ یہ سب ریاستِ پاکستان کے فیصلے تھے، لیکن قیمت کس نے چکائی؟ اُس مزدور نے جسے نہ سعودیہ سے غرض تھی، نہ ایران سے، نہ اسرائیل سے۔ وہ تو بس دو وقت کی روٹی سے مجبور، سہانے خواب لیے پردیس کی زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔ اقتدار کی سیاست کے اس ننگے ناچ میں مزدور اور کمزور طبقہ بس ایک مہرہ ہے۔ جب چاہے اُٹھایا جائے، جب چاہے پھینک دیا جائے۔

قرضوں کی واپسی ہو یا مزدوروں کی بے دخلی، امارات کا یہ فیصلہ دراصل مزدوروں کے خلاف نہیں، بلکہ پاکستان پر دباؤ کا ایک سستا اور ظالمانہ حربہ تھا۔ گویا امارات بلیک میل کر رہا ہے: یہ تو شروعات ہے، لاکھوں مزید واپس کیے گئے تو کیا ہو گا؟ قارئین! یہ معمول کی ڈیپورٹ ایشو نہیں، یہ ایک سفارتی اور سنگین وار ہے۔

جب طاقتور آپس میں ناراض ہوتے ہیں تو خمیازہ کمزور کو بھگتنا پڑتا ہے۔ وہ پندرہ ہزار مزدور، جنہوں نے برسوں امارات کے ریگستان کو اپنے پسینے سے نخلستان بنا دیا تھا، آج مفادات کی الجھن میں اپنی کھوئی ہوئی قسمت پر گریاں ہیں۔ اور وہ لوگ، جن کی سیاست کی وجہ سے یہ سب ہوا، اب بھی محلات میں اقتدار کی سرگوشیوں میں مصروف ہیں۔

سوال یہ ہے؟

کیا پاکستان اپنے ان سستے نشانوں کو بچانے کے لیے کوئی موقف رکھتا ہے؟

غریب مزدوروں کے تحفظ کی کوئی مضبوط حکمت عملی کیوں نہیں؟

جب تک جواب نہیں ملے گا، یہ ظالمانہ کارروائیاں جاری رہیں گی اور مزید مزدور اور غریب اس کشمکش کی نذر ہوتے رہیں گے۔

یو اے ای نے تو واضح کر دیا ہے کہ جب جغرافیائی مفادات ٹکراتے ہیں، تو پاکستانی فیصلوں اور مزدور کے پسینے کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی مجبور خارجہ پالیسی کا جائزہ لے۔ لاکھوں شہری، جو بیرونِ ملک اپنی جان اور کمائی دونوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ملک کے لئے زرمبادلہ بھیج رہے ہیں، ان کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کرے۔ ریاستِ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ خارجہ پالیسی میں کس کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہر کسی کو خوش کرنے کی پالیسی کی قیمت ملک کے غریب ترین شہری ادا کر رہے ہیں۔ '’سب کو ساتھ لے کر چلنے‘' والی حکمت عملی میں جب کوئی ایک فریق ناراض ہو جائے، تو سب سے آسان نشانہ وہی پاکستانی مزدور اور غریب لوگ ہوتے ہیں، جس کی کوئی سیاسی اور مضبوط پشت پناہی نہیں ہوتی۔

چمکتی سیاست، روشن شاہی محلات کی شطرنجی بساط میں مزدور کی پھٹی قمیص، خالی جیب اور تاریک تقدیر پر سوال ایک دن ضرور اُٹھے گا۔ اُس دن کسی کے پاس کوئی جواب نہ ہو گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha