منگل 5 مئی 2026 - 12:58
شیخ ابراہیم زکزاکی: مکتبِ اہل بیت سے وابستگی، امت اسلامیہ کی عزت اور فتح کا راستہ/ ایران کی استقامت اور کامیابی، اہل بیت (ع) کی راہ اور تعلیمات پر استقامت کی مرہونِ منّت ہے

حوزہ/حجت الاسلام والمسلمین شیخ ابراہیم زکزاکی نے ابوجا میں شعراء یونین کی جانب سے منعقدہ دوسری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکتبِ اہل بیت علیہم السّلام سے وابستگی، امت اسلامیہ کی عزت اور فتح کا راستہ ہے۔ آج ایران کی استقامت اور کامیابی، اہل بیت (ع) کی راہ اور تعلیمات پر استقامت کی مرہونِ منّت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین شیخ ابراہیم زکزاکی نے ابوجا میں شعراء یونین کی جانب سے منعقدہ دوسری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکتبِ اہل بیت علیہم السّلام سے وابستگی، امت اسلامیہ کی عزت اور فتح کا راستہ ہے۔ آج ایران کی استقامت اور کامیابی، اہل بیت (ع) کی راہ اور تعلیمات پر استقامت کی مرہونِ منّت ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین شیخ ابراہیم زکزاکی نے اہل بیت علیہم السلام کے اعلیٰ مقام کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پوری تاریخ میں اہل بیت علیہم السّلام کے فضائل و مناقب کو کم کرنے اور چھپانے کی بہت سی کوششیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے مکتبِ اہل بیت علیہم السّلام کے رہنما کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مکتب سے وابستگی، امت اسلامیہ کی عزت اور فتح کا راستہ ہے۔ آج ایران کی استقامت اور کامیابی بڑی حد تک اس کا مقابلہ کرنے کے لیے دباؤ اور وسیع کوششوں کے باوجود، اہل بیت (ع) کی راہ اور تعلیمات پر استقامت کی مرہونِ منّت ہے۔

انہوں نے ان کوششوں کا موازنہ بھی اسلام کے ابتدائی دور میں یہودیوں، عیسائیوں اور منافقین کی طرف سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اسلام کو تباہ کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے کیا اور مزید کہا کہ آج انہی اتحادوں کی مثالیں تحریکِ مزاحمت بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

تحریکِ اسلامی نائیجیریا کے رہنما نے اپنے خطاب میں دینی اور سماجی پیغامات پہنچانے میں شعر اور ہنر کے اہم کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاعری معاشرے میں شعور بیدار کرنے اور رائے عامہ کی رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں شاعروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے شاعروں اور ثقافتی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ شاعری کی صلاحیتوں سے استفادہ کریں، تاکہ وہ روشن خیالی، سازشوں کا مقابلہ کریں اور نسلی اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوششوں کو بے اثر کریں۔

آخر میں شیخ زکزاکی نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ مسلمانوں میں نسلی تنوع موجود ہے، لیکن دین اسلام قومیتوں اور نسلوں سے بالاتر ہے اور اسے امت اسلامیہ کے اتحاد اور یکجہتی کا محور ہونا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha