حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما شیخ ابراہیم زکزاکی نے منگل کی شب کربلا کے حوزاتِ علمیہ میں زیرِ تعلیم اپنی تحریک کے طلبہ اور محققین سے ملاقات کی اور انہیں دین کی خدمت اور معارفِ اہل بیتؑ کی اشاعت کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا۔
شیخ زکزاکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداء کا راستہ حق اور عزت کا راستہ ہے اور دشمن ہمیشہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ بڑی دینی شخصیات کو شہید کرکے اسلام اور مکتبِ اہل بیتؑ کو کمزور کیا جا سکتا ہے، لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ شہادت ہمیشہ حق کے پیغام کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ سید خامنہ ایؒ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے یہ گمان کیا تھا کہ اس واقعے سے یہ تحریک کمزور ہو جائے گی، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ شہادت نے ان کے نام، فکر اور راستے کو مزید زندہ کر دیا۔
شیخ زکزاکی نے واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایک شخصیت کی شہادت سے کسی مکتب کا خاتمہ ممکن ہوتا تو سب سے پہلے امام حسینؑ کی شہادت کے بعد مکتبِ اہل بیتؑ ختم ہو جانا چاہیے تھا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عاشورا نے اس مکتب کو مزید وسعت اور استحکام عطا کیا۔
انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ دورانِ تعلیم زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں تاکہ اپنے وطن واپس جا کر لوگوں کو اہل بیتؑ کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پہلے سے کہیں زیادہ لوگ ان معارف کے طلبگار ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر شیخ زکزاکی نے کہا کہ عزت اور کامیابی صرف خدا کی راہ میں استقامت اور قربانی سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ حق کا محاذ کبھی شکست نہیں کھائے گا، کیونکہ آخری کامیابی ہمیشہ حق اور اہل ایمان کے حصے میں آتی ہے۔









آپ کا تبصرہ