پیر 13 جولائی 2026 - 21:45
قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

حوزہ/ مدرسۂ حجتیہ قم المقدسہ میں ہندوستانی طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ، علماء اور حوزۂ علمیہ کے فضلاء نے شرکت کی۔ اس نشست میں نمائندۂ ولی فقیہ ہندوستان حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ہندوستان حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر کمال حسینی نے خطاب کیا اور ہندوستانی طلبہ کو علمی، معنوی، تبلیغی اور سماجی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسۂ حجتیہ قم المقدسہ میں ہندوستانی طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ، علماء اور حوزۂ علمیہ کے فضلاء نے شرکت کی۔ اس نشست میں نمائندۂ ولی فقیہ ہندوستان حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ہندوستان حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر کمال حسینی نے خطاب کیا اور ہندوستانی طلبہ کو علمی، معنوی، تبلیغی اور سماجی ذمہ داریوں کی جانب متوجہ کیا۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

نشست سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے سب سے پہلے نشست کے انعقاد پر حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر کمال حسینی اور دیگر ذمہ داران کا شکریہ ادا کیا اور ہندوستانی طلبہ کے درمیان حاضری کو باعثِ مسرت قرار دیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی فرد، ادارے یا علمی مرکز کی کامیابی کے لیے تین بنیادی امور پر توجہ ضروری ہے: سب سے پہلے اپنی صلاحیتوں، سرمایہ اور میراث کی شناخت، دوسرے مرحلے میں درپیش رکاوٹوں اور چیلنجز کا ادراک، اور تیسرے مرحلے میں ان دونوں کو سامنے رکھتے ہوئے درست اور جامع منصوبہ بندی۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

حجۃ الاسلام حکیم الٰہی نے کہا کہ حوزۂ علمیہ اور مکتب اہل بیتؑ کے پیروکاروں کے پاس ایک عظیم علمی و معنوی سرمایہ موجود ہے، جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری علمی روایت کا آغاز رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) سے ہوتا ہے، جو امیرالمؤمنین حضرت علیؑ، ائمۂ اہل بیتؑ اور صدیوں کے عظیم علماء و فقہاء کے ذریعے آج حوزۂ علمیہ قم تک پہنچی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ طوسی، شیخ مفید، شیخ صدوق، علامہ حلی، خواجہ نصیرالدین طوسی، صاحب جواہر، شیخ اعظم انصاری، آخوند خراسانی، حضرت امام خمینیؒ، رہبر معظم انقلاب، شہید مطہری اور شہید سید محمد باقر صدر جیسی عظیم شخصیات ہماری علمی میراث اور سرمایۂ افتخار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نہج البلاغہ، صحیفۂ سجادیہ، الکافی، الاستبصار، الخلاف، الاسفار الاربعة، جواہر الکلام، بحارالانوار اور وسائل الشیعہ جیسی عظیم علمی کتابیں اس مکتب کے علمی خزانے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔

نمائندۂ ولی فقیہ ہندوستان نے کہا کہ جس طرح کوئی ملک جنگ کے میدان میں جانے سے پہلے اپنی قوت، وسائل اور تیاری کا جائزہ لیتا ہے، اسی طرح دینی، علمی اور تبلیغی میدان میں قدم رکھنے والوں کو بھی اپنے علمی اور معنوی سرمائے کو پہچاننا چاہیے۔

انہوں نے ہندوستانی طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس ایک عظیم ماضی اور درخشاں علمی تاریخ موجود ہے، لہٰذا اس پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اس ذمہ داری کو بھی محسوس کریں کہ اس میراث کو آگے بڑھانا ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ کامیابی کے لیے صرف ماضی کے سرمایہ پر اکتفا کافی نہیں بلکہ موجودہ مشکلات، کمزوریوں اور رکاوٹوں کی شناخت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی مؤمن کا راستہ نہیں، بلکہ مسلسل جدوجہد، امید اور منصوبہ بندی کے ذریعے منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

اس کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر کمال حسینی نے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام حکیم الٰہی کی گفتگو کو جامع اور مؤثر قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے مکتب تشیع کے عظیم سرمایہ، درپیش چیلنجز اور کامیابی کے راستے کو بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

انہوں نے اپنی گفتگو میں قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں ایک مثالی طالب علم کی خصوصیات بیان کیں اور کہا کہ ایک طالب علمِ دین، خصوصاً وہ طالب علم جو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی تمہید میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، اس کی پہلی خصوصیت حرکت، جدوجہد اور مسلسل کوشش ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ طالب علم کو سستی، جمود اور روزمرگی سے دور رہتے ہوئے ہمیشہ علم، تحقیق اور خدمت کے میدان میں فعال رہنا چاہیے، کیونکہ رسول اکرم (ص) کی تعلیمات کے مطابق جو شخص کوشش کرتا ہے، وہ کامیابی کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

حجۃ الاسلام کمال حسینی نے علماء کی سیرت اور زندگی کے مطالعے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بزرگ علماء کی زندگیوں کا مطالعہ انسان کے اندر عزم، حوصلہ اور حرکت پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے علامہ حلیؒ کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح علامہ حلیؒ نے تشیع کے دفاع کے لیے ایک مخالف کتاب کا علمی جواب تیار کرنے کی خاطر پوری رات محنت کی اور اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھ کر انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی اخلاص، محنت اور احساسِ ذمہ داری علماء کی کامیابی کا راز ہے۔

نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ ہندوستان نے مزید کہا کہ طالب علم کی تمام کوششوں کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہونا چاہیے، کیونکہ جب انسان خلوص کے ساتھ خدا کی راہ میں کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت اور مدد کے دروازے کھول دیتا ہے۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

انہوں نے ہندوستانی طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے وطن واپس جائیں اور اپنی قوم، معاشرے اور دینی مراکز کی خدمت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دینی معرفت کے پیاسے افراد آپ کے منتظر ہیں، اس لیے آپ کو علمی اور معنوی سرمایہ کے ساتھ واپس جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انبیاء علیہم السلام نے معاشروں کی رہنمائی کی تو اس کے پیچھے علم، معرفت اور روحانی سرمایہ موجود تھا، اسی طرح آج کے مبلغین اور علماء کو بھی علمی اور عملی صلاحیتوں سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا۔

حجۃ الاسلام کمال حسینی نے ہندوستانی طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ قم میں موجود تربیتی مراکز سے استفادہ کریں اور علمی تعلیم کے ساتھ ساتھ تبلیغی، سماجی اور ارتباطی مہارتیں بھی حاصل کریں، تاکہ وطن واپسی کے بعد زیادہ مؤثر انداز میں دینی خدمات انجام دے سکیں۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

انہوں نے ہندوستان میں حوزاتِ علمیہ کی ترقی اور تقویت کی ضرورت پر بھی تاکید کی اور کہا کہ ہندوستان کا ماضی حوزوی اور علمی اعتبار سے درخشاں رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے دوبارہ علمی عظمت کی جانب پیش قدمی کی جائے۔

قم المقدسہ میں نمائندۂ ولی فقیہ اور نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ کی طلاب ہندوستان کے ساتھ نشست؛ علمی، تربیتی اور تبلیغی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور

اختتام پر مقررین نے ہندوستانی طلبہ کی کامیابی، علمی ترقی اور دینی خدمت کے لیے دعا کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اخلاص، محنت، اتحاد اور صحیح منصوبہ بندی کے ذریعے ہندوستان میں مکتب اہل بیتؑ کی علمی و تبلیغی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha