حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عیدِ سعیدِ مباہلہ کی بابرکت مناسبت سے حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا میں مدرسۂ علمیہ شہیدِ ثالث کے طلاب کی رسمِ عمامہ گذاری کی ایک روح پرور اور یادگار تقریب منعقد ہوئی۔ اس معنوی اجتماع میں حوزۂ علمیہ قم کے اساتذۂ کرام، ہندوستانی علماء و فضلاء اور مؤمنین کی قابلِ ذکر تعداد نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز نعتیہ و منقبتی کلام سے ہوا، جس میں شیخ کمیل، مولانا عرفان عالمپوری، مولانا شفیع بھیکپوری اور آقای حسینی نژاد نے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ شعراء و ذاکرین کے پُرمحتوا کلام نے حاضرین کو واقعۂ مباہلہ کی عظمت اور معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کی نورانی تعلیمات کی جانب متوجہ کیا۔

اس کے بعد مدرسے کے سرپرست، حجۃ الاسلام والمسلمین مہدی مہدوی پور نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے طلابِ علومِ دینیہ کی علمی، اخلاقی اور تبلیغی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عمامہ صرف ایک ظاہری لباس نہیں، بلکہ دینِ خدا کی خدمت، مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی پاسداری اور معاشرے کی فکری و معنوی رہنمائی کی ایک عظیم ذمہ داری کی علامت ہے۔ انہوں نے طلاب کو اخلاص، تقویٰ، علمی جدوجہد اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا محور بنانے کی تلقین کی۔

خطاب کے اختتام پر مدرسۂ علمیہ شہیدِ ثالث کے آٹھ فاضل طلاب کی رسمِ عمامہ گذاری انجام پائی۔ اس موقع پر حاضرین نے نو معممین کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ وہ علم و عمل کے زیور سے آراستہ ہو کر دینِ مبین اسلام اور معارفِ اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت میں مؤثر کردار ادا کریں۔

تقریب میں حوزۂ علمیہ قم کے اساتذۂ کرام، نامور ہندوستانی علماء، فضلاء اور طلابِ علومِ دینیہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

تقریب کے اختتام پر مدرسۂ علمیہ شہیدِ ثالث کے مدیر، حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر جعفر جویباری، اور مدیرِ اجرا، حجۃ الاسلام والمسلمین جہان دیدہ نے نو معممین طلاب کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے لیے مزید علمی و عملی کامیابیوں کی دعا کی۔ نیز انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے والے اساتذۂ کرام، علماء، فضلاء، مؤمنین اور تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا اور اس بابرکت محفل کی کامیابی میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا۔











آپ کا تبصرہ