حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد کو نکالا گیا، انہیں نہ صرف ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا بلکہ ان کے اثاثے بھی ضبط کر لیے گئے۔ جس کی وجہ سے وہ پاکستان واپسی پر عملاً بے سروساماں تھے۔
یہ اقدام ان جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں سے منسلک بتایا جا رہا ہے جو پاکستان کے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں کردار سے جڑی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب امارات نے بظاہر پاکستان سے وہ تقریباً 2 ارب ڈالر واپس مانگے ہیں جو اس نے پہلے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے اس کے مرکزی بینک میں جمع کرائے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس مالی دباؤ کے باعث سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کی مدد کے لیے قدم بڑھایا ہے۔









آپ کا تبصرہ