حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سکردو بلتستان پاکستان کی سرزمین اس وقت روحانیت اور محبتِ اہلِ بیتؑ سے سرشار ہو گئی جب حرمِ مطہر حضرت امام رضا علیہ السلام کے معزز مہمانان حرم کے پرچم کے ساتھ سکردو تشریف لائے۔

وفد میں علامہ ڈاکٹر حجۃ الاسلام سید جلال حسینی (نائب متولی حرم امام رضاؑ، مشہد مقدس)، ڈاکٹر کاشانی (رئیس بین الاقوامی آستان قدس رضوی) اور انٹرنیشنل قاری حرم مطہر رضوی محمد رضا شفیعی شامل تھے، جو اپنے ہمراہ گنبدِ مبارک کا پرچم بھی لائے۔

سکردو انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صدرِ انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی، سینیئر نائب صدر شیخ زاہد حسین زاہدی، نائب امامِ جمعہ سکردو شیخ محمد جواد حافظی اور دیگر علمائے کرام نے مہمانانِ گرامی کا پرتپاک استقبال کیا۔

بعد ازاں گمبہ سکردو بازار میں انجمنِ امامیہ گمبہ کے صدر آغا سید احمد کی قیادت میں علماء و مؤمنین نے شاندار استقبال کیا، جہاں مہمانانِ گرامی نے خانقاہ میں مختصر خطاب بھی کیا۔
مرکزی جامع مسجد سکردو پہنچنے پر داعی وحدت، امام جمعہ والجماعت علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔

نمازِ ظہرین کے بعد ایک پروقار اجتماع منعقد ہوا، جس کا آغاز انٹرنیشنل قاری محمد رضا شفیعی نے نہایت دلنشین اور پراثر انداز میں تلاوتِ کلام پاک سے کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔

اس موقع پر علامہ ڈاکٹر سید جلال حسینی نے فارسی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حرمِ امام رضا علیہ السلام کے ایک ادنیٰ خادم ہیں اور ان کے سر پر رکھا گیا عمامہ شہید رہبر معظم کے دستِ مبارک کی نشانی ہے۔
انہوں نے بلتستان کے عاشقانِ اہلِ بیتؑ کے درمیان موجودگی کو اپنے لیے باعثِ افتخار قرار دیا، تاہم رہبر معظم کی جدائی کو ایک عظیم غم بھی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام مضبوطی سے قائم ہے اور محورِ مقاومت آج بھی استوار ہے۔
انہوں نے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے اس تاریخی قول کا حوالہ دیا کہ “مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا” اور کہا کہ پاکستان میں ولایت مداری، اہلِ بیتؑ سے عشق اور رہبری سے وابستگی کا عملی مظاہرہ دیکھ کر وہ بے حد متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے آستان قدس رضوی اور ملتِ ایران کی جانب سے پاکستان کے علماء، مومنین، خواتین، دانشوروں اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ایران کا ساتھ ایک سگے بھائی کی طرح دیا۔
آخر میں حرمِ مطہر امام رضا علیہ السلام کے گنبدِ مبارک کے پرچم کو زیارت کے لیے پیش کیا گیا، جہاں عاشقانِ امام رضاؑ کی عقیدت، والہانہ جذبات اور روحانی کیفیت دیدنی تھی۔ یہ بابرکت لمحے فضا کو ایمان، محبت اور روحانیت سے معطر کر گئے۔
واضح رہے حرم حضرت امام رضا علیہ السّلام کا وفد شہید امام خامنہ ای کے جانثار شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور احتجاجی مظاہروں میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے لیے بلتستان گیا ہے۔









آپ کا تبصرہ