منگل 21 جولائی 2026 - 15:43
علامہ محمد تقی جعفریؒ: "میں نے حضرت علیؑ کی ایک لمحے کی زیارت کو ہزار سالہ دنیاوی زندگی پر ترجیح دی"

حوزہ/ معروف اسلامی مفکر مرحوم علامہ محمد تقی جعفریؒ نے اپنی طالب علمی کے زمانے کا ایک ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نجف اشرف میں ایک علمی و دوستانہ نشست کے دوران جب انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کی ایک لمحے کی زیارت کو دنیا کی تمام ظاہری نعمتوں پر ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک غیر معمولی روحانی کیفیت میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زیارت کا شرف عطا فرمایا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، معروف اسلامی مفکر، فلسفی اور مفسر قرآن مرحوم علامہ محمد تقی جعفریؒ سے ایک مرتبہ پوچھا کیا گیا کہ انہیں روحانی کمالات کس طرح حاصل ہوئے؟ اس کے جواب میں انہوں نے نجف اشرف میں طالب علمی کے دور کا ایک یادگار واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی امتحان کے بعد اپنی خاص عنایات سے نوازا۔

علامہ جعفریؒ نے بیان کیا کہ وہ نجف اشرف کے مدرسہ صدر میں مقیم تھے۔ اس زمانے میں طلبہ عید اور اہل بیت علیہم السلام کی ولادت کے ایام میں محفلیں منعقد کرتے تھے اور ایامِ عزا میں مجلس عزاء کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت کی ایک شب نماز مغرب و عشاء کے بعد محفل جاری تھی، جس میں آقا شیخ حیدر علی اصفہانی بھی موجود تھے، جو اپنی حاضر جوابی اور خوش مزاجی کی وجہ سے معروف تھے۔

محفل کے دوران انہوں نے اخبار کا ایک ٹکڑا نکالا، جس پر ایک نہایت خوبصورت خاتون کی تصویر تھی اور اس کے نیچے لکھا تھا: "اپنے زمانے کی سب سے خوبصورت لڑکی"۔ پھر انہوں نے حاضرین سے سوال کیا کہ اگر انہیں ایک طرف اس خاتون سے مکمل شرعی طریقے سے نکاح کر کے ہزار سال خوش و خرم زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے اور دوسری طرف حضرت علی علیہ السلام کی صرف ایک مرتبہ مستحب زیارت کا موقع ملے، تو وہ کس چیز کو ترجیح دیں گے۔

یہ سوال باری باری تمام حاضرین سے پوچھا گیا۔ بعض نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا، کسی نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی زیارت تو مرنے کے بعد بھی نصیب ہو جائے گی، جبکہ بعض نے شرعی جواز کا حوالہ دے کر دنیاوی زندگی کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا، جس پر محفل میں ہنسی کا ماحول پیدا ہو گیا۔

علامہ جعفریؒ نے بتایا کہ جب ان کی باری آئی تو انہوں نے تصویر کو دیکھنے سے بھی انکار کر دیا اور فوراً جواب دیا: "میں حضرت علی علیہ السلام کی ایک لمحے کی زیارت کو اس عورت کے ساتھ ہزاروں سال کی ازدواجی زندگی پر بھی ترجیح دوں گا۔"

انہوں نے کہا کہ یہ الفاظ زبان سے نکلتے ہی ان پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ وہ اپنی حالت پر قابو نہ رکھ سکے اور اپنے حجرے میں چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ایک غیر معمولی روحانی منظر دیکھا۔ ان کے بقول انہوں نے ایک وسیع کمرہ دیکھا، جس کے صدر میں ایک نورانی شخصیت جلوہ افروز تھی، جس کے چہرے اور اوصاف وہی تھے جو شیعہ اور اہل سنت کی روایات میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں بیان کیے گئے ہیں۔

علامہ جعفریؒ نے بتایا کہ ان کے قریب بیٹھے ایک نوجوان سے انہوں نے پوچھا کہ یہ بزرگ شخصیت کون ہیں؟ اس نے جواب دیا: "یہ خود حضرت علی علیہ السلام ہیں۔" اس کے بعد وہ اس نورانی منظر کو دیکھتے رہے اور پھر اچانک معمول کی حالت میں واپس آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ دوبارہ محفل میں پہنچے تو ان کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ حاضرین نے ان کی کیفیت دیکھی اور پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔ ابتدا میں انہوں نے واقعہ بیان کرنے سے گریز کیا، لیکن سب کے اصرار پر پوری روداد سنا دی۔ ان کی بات سن کر حاضرین انتہائی متاثر ہوئے اور مجلس میں ایک روحانی کیفیت طاری ہو گئی۔

علامہ جعفریؒ کے مطابق، مدرسے کے مدیر مرحوم سید اسماعیل اصفہانی نے آقا شیخ حیدر سے کہا: "آئندہ اس طرح کے امتحان نہ لیا کریں، آپ نے ہمیں بڑی سخت آزمائش میں ڈال دیا۔"

مرحوم علامہ محمد تقی جعفریؒ فرمایا کرتے تھے کہ یہ واقعہ ان کی زندگی کے اہم ترین روحانی تجربات میں سے ایک تھا اور ان کے بقول بعد میں جو روحانی برکات اور عنایات انہیں نصیب ہوئیں، ان کی بنیاد اسی الٰہی امتحان میں اخلاص اور اہل بیت علیہم السلام سے محبت پر تھی۔

ماخذ: حکایات و خاطرات علامہ جعفری۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha