جمعرات 7 مئی 2026 - 14:54
مسلمان حکمرانوں کی اکثریت ہمیشہ منافق اور گمراہ رہی ہے

حوزہ/ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ باطل ہمیشہ تلوار سے کم اور پروپیگنڈے سے زیادہ جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔ یزید جانتا تھا کہ حسینؑ کو قتل کرنا آسان ہے، مگر حسینؑ کے پیغام کو ختم کرنا مشکل ہے، اس لیے اُس نے پہلے لوگوں کے ذہن خریدے، ضمیر سُلائے، دین کو دربار کا غلام بنایا، اور پھر کربلا برپا ہوئی۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سے عصرِ حاضر تک حق و باطل کی ایک مسلسل تاریخ:

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے جب مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں “قولوا لا إلہ إلا اللہ تفلحوا” کی صدا بلند کی تھی، تو اُس وقت زمین پر سب سے زیادہ کمی اگر کسی چیز کی تھی تو وہ “سچے اہلِ ایمان” کی تھی۔ زبانوں پر قریش کی شرافت تھی، ہاتھوں میں کعبہ کی تولیت تھی، پیشانیوں پر قبیلوں کی عزت تھی، مگر دلوں میں حق کے لیے جگہ نہ تھی۔

ابولہب جیسے دولت مند اور ابوجہل جیسے بااثر لوگ اُس وقت عرب کے سردار سمجھے جاتے تھے، ان کی بیٹھکیں آباد اور آوازیں بلند تھیں۔ مگر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے ساتھ کھڑے ہونے والے زیادہ تر وہ لوگ تھے جو دنیا کی نگاہ میں کمزور، غریب اور بے سہارا تھے؛ جیسے بلالؓ، عمارؓ، سلمانؓ، مقدادؓ اور ابوذرؓ۔ لوگوں کو وہ چند افراد معمولی دکھائی دیتے تھے، لیکن اللہ کی بارگاہ میں وہی حق کے اصل سپاہی تھے۔ اسی حقیقت کو قرآن نے یوں بیان کیا: ﴿وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ﴾. “اور اُن کے ساتھ ایمان نہ لائے مگر بہت تھوڑے لوگ۔”

مدینہ میں اسلام ایک حکومت بن گیا، اذانیں بلند ہونے لگیں، مسجدیں آباد ہوگئیں، لیکن قرآن بار بار خبردار کرتا رہا کہ ہر “کلمہ گو” مومن نہیں ہوتا۔ کچھ وہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے سامنے بیٹھتے، نمازیں پڑھتے، جہاد کے نعرے لگاتے، مگر دلوں میں اسلام نہیں بلکہ اقتدار، قبیلہ اور دنیا پل رہی تھی۔ سورۂ منافقون نازل ہوئی تو گویا مدینہ کے چہروں سے نقاب اتر گیا۔ قرآن نے فرمایا: ﴿وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ﴾

“مدینہ والوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو نفاق پر اَڑے ہوئے ہیں۔”

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ جانتے تھے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو وقت بدلتے ہی دین کے جسم میں خنجر اتار دیں گے۔

پھر وہ دن آیا جب غدیر کے میدان میں لاکھوں کے مجمع نے علیؑ کے ہاتھ پر بیعت کی، “من كنت مولاه فهذا علي مولاه” کی صدا آسمانوں سے ٹکرائی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے پردہ فرمانے کے چند دن بعد ہی مسجدِ نبویؐ کی فضا بدل گئی۔ کل تک “یا علیؑ” کہنے والے خاموش تھے، اور درِ فاطمہؑ پر آگ لے جانے والے زیادہ۔ حضرت علی علیہ السلام تنہا کھڑے تھے؛ اُن کے پاس حق تھا مگر اکثریت نہیں۔ وہ جانتے تھے کہ بھیڑ ہمیشہ سچ کی ساتھی نہیں ہوتی۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا یہ دردناک بیان نہج البلاغہ کے خطبۂ شقشقیہ میں مذکور ہے، جہاں آپؑ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے بعد کے حالات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فَصَبَرْتُ وَفِي الْعَيْنِ قَذًى، وَفِي الْحَلْقِ شَجًا، أَرَى تُرَاثِي نَهْبًا

“پس میں نے صبر کیا، اس حال میں کہ آنکھ میں کانٹا چبھ رہا تھا اور گلے میں ہڈی پھنسی ہوئی تھی، اور میں اپنی میراث کو لٹتا ہوا دیکھ رہا تھا۔”

یہاں “تراثی” سے مراد وہ حقِ ولایت، خلافت اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی وہ امانت ہے جسے غدیر میں واضح فرمایا گیا تھا۔ 📚 نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 3 (خطبۂ شقشقیہ)

پھر تاریخ نے دیکھا کہ ہر امامؑ اپنے زمانے میں حق کا چراغ تھا، مگر اُس چراغ کے گرد پروانوں سے زیادہ تماشائی تھے۔ امام حسنؑ نے جب صلح کی تو اُن کے لشکر ہی نے خیمہ لوٹ لیا۔ امام حسینؑ نے کربلا میں آواز دی: “هل من ناصر ينصرنا” تو ہزاروں نمازیوں، قاریوں اور حاجیوں کے درمیان صرف بہتر وفادار نکلے۔ باقی سب یا یزید کے لشکر میں تھے یا خاموش تماشائی۔ فرات کے کنارے پیاسا حسینؑ دراصل پوری تاریخ کو یہ سمجھا رہا تھا کہ “حق ہمیشہ تعداد سے نہیں پہچانا جاتا۔”

امام زین العابدینؑ کے دور میں مدینہ کے بازار آباد تھے مگر کربلا کے اسیر تنہا تھے۔ امام باقرؑ اور امام صادقؑ نے علم کے سمندر بہائے، ہزاروں شاگرد پیدا کیے، مگر جب وقتِ امتحان آیا تو مخلص بہت کم نکلے۔ امام موسیٰ کاظمؑ زندانوں میں رہے اور امت خاموش رہی۔ امام رضاؑ کو ولایت عہدی کے سنہری جال میں قید کیا گیا اور اکثریت نے اسے “عزت” سمجھا۔ امام جوادؑ، امام ہادیؑ اور امام عسکریؑ سامرہ کی نگرانی میں زندگی گزارتے رہے، اور وہی امت جو خود کو “مسلمان” کہتی تھی، اُن کے گرد خوف، دنیا اور خاموشی کی دیواریں کھڑی کرتی رہی۔

یہ تاریخ صرف ماضی کا قصہ نہیں، یہ ہر دور کا آئینہ ہے۔ وقت کے چہرے بدلتے رہے، لباس بدلتے رہے، سلطنتوں کے نام بدلتے رہے، مگر حق و باطل کی جنگ کبھی نہیں بدلی۔ کل ابو سفیان مکہ کے بازاروں میں اسلام کے خلاف سازش کرتا تھا، آج وہی کردار عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں بیٹھا انسانیت کے خلاف فیصلے کرتا ہے۔ کل یزید کے دربار میں حق کو “بغاوت” کہا جاتا تھا، آج اسی حق کو “دہشت گردی” اور “انتہا پسندی” کے نام سے بدنام کیا جاتا ہے۔ کل ابن زیاد سونے اور عہدوں کے ذریعے ضمیر خریدتا تھا، آج میڈیا، سیاست، ڈالر اور عالمی ادارے انسانوں کے ایمان، فکر اور غیرت کا سودا کر رہے ہیں۔

تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ باطل ہمیشہ تلوار سے کم اور پروپیگنڈے سے زیادہ جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔ یزید جانتا تھا کہ حسینؑ کو قتل کرنا آسان ہے، مگر حسینؑ کے پیغام کو ختم کرنا مشکل ہے، اس لیے اُس نے پہلے لوگوں کے ذہن خریدے، ضمیر سُلائے، دین کو دربار کا غلام بنایا، اور پھر کربلا برپا ہوئی۔ آج بھی یہی ہورہا ہے۔ پہلے میڈیا کے ذریعے حق کو مشکوک بنایا جاتا ہے، پھر ظالم کو “مہذب” اور مظلوم کو “خطرہ” قرار دیا جاتا ہے، پھر امت کے اندر ایسے خطیب، دانشور اور حکمران پیدا کیے جاتے ہیں جو باطل کے جرائم پر خاموش رہیں اور اہلِ حق کے خلاف زبان کھولیں۔

آج غزہ کے ملبے تلے دبے ہوئے بچوں کی چیخیں دراصل پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر کا امتحان ہیں۔ ایک طرف بھوک سے بلکتے معصوم بچے ہیں، جن کے ہاتھوں میں کھلونے نہیں بلکہ کفن ہیں، اور دوسری طرف وہ مسلم حکمران ہیں جن کے محلات میں روشنیوں کی چمک کم نہیں ہوتی۔ ایک طرف فلسطین کی مائیں اپنے بچوں کے کٹے ہوئے جسم اٹھا رہی ہیں، دوسری طرف عالمِ اسلام کے بڑے بڑے ایوانوں میں ناچ گانے اور فحاشی کی محفلیں سجی ہوئی ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ کی حرمت پامال ہو رہی ہے، مگر بہت سی زبانیں صرف اس لیے خاموش ہیں کہ کہیں واشنگٹن ناراض نہ ہو جائے۔

ایران نے جب امریکہ و اسرائیل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا، فلسطین کی حمایت کو اپنا دینی و انسانی فریضہ قرار دیا، اور مقاومت کو زندہ رکھا، تو اُس کے خلاف صرف مغرب ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے اندر موجود بہت سے درباری ذہن بھی کھڑے ہوگئے۔ پابندیاں لگیں، پروپیگنڈے ہوئے، میڈیا نے نفرت پھیلائی، مگر اس کے باوجود ایران نے یہ اعلان کیا کہ “ظالم کے سامنے خاموش رہنا ایمان نہیں، بزدلی ہے۔” یہی وہ نقطہ ہے جہاں تاریخ دوبارہ کربلا کی یاد دلاتی ہے۔ اُس وقت بھی حسینؑ کے مقابل صرف یزید نہیں تھا، بلکہ وہ تمام خاموش لوگ بھی تھے جنہوں نے حق کا ساتھ دینے کے بجائے اپنی دنیا بچائی۔

آج بھی امت کا ایک بڑا طبقہ حق کو حق کہنے سے ڈرتا ہے۔ کچھ لوگ امریکہ کو “امن کا ضامن” کہتے ہیں، اسرائیل کو “حقیقت” ماننے کا مشورہ دیتے ہیں، اور مقاومت کو امت کا مسئلہ نہیں بلکہ “سیاسی تنازع” قرار دیتے ہیں۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو کل ابن سعد کے لشکر میں تھی؛ نماز بھی پڑھتی تھی، قرآن بھی سناتی تھی، مگر وقتِ امتحان حسینؑ کے مقابل کھڑی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں باطل نے دین کے نام لیواؤں ہی کو حق کے خلاف استعمال کیا ہے۔

عجیب منظر ہے؛ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے بعض حکمران امریکہ کی خوشنودی کے لیے فیصلے کرتے ہیں، اور تہران، غزہ، لبنان یا یمن سے اٹھنے والی صدائے مقاومت کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ گویا امت کا مسئلہ اب قبلہ نہیں بلکہ طاقتور کی رضا بن چکا ہے۔ یہی وہ زہر ہے جس نے امت کو اندر سے کھوکھلا کیا۔ قرآن اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ﴾

“اگر تم زمین والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔”

لیکن تاریخ کا دوسرا رخ بھی ہمیشہ زندہ رہا ہے۔ ہر دور میں کچھ لوگ ایسے ضرور رہے جو ہجوم کے شور میں بھی حق کی آواز پہچان لیتے تھے۔ کربلا میں حبیب ابن مظاہرؓ تھے، کوفہ کے زندانوں میں میثم تمارؓ تھے، فرعون کے دربار میں مؤمنِ آلِ فرعون تھا، اور آج بھی غزہ کے ملبے، لبنان کی سرزمین، یمن کے صبر، اور ایران کی مقاومت میں کچھ ایسے ہی کردار زندہ ہیں جو دنیا کی طاقتوں سے نہیں ڈرتے۔ یہ لوگ تعداد میں کم ہوتے ہیں، مگر تاریخ انہی کے نام سے زندہ رہتی ہے۔ کیونکہ خدا کو ہجوم نہیں، وفاداری چاہیے؛ نعرے نہیں، استقامت چاہیے؛ اور زبان کا اسلام نہیں، کردار کا ایمان چاہیے۔

خدا ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرمائے جو ہجوم کے شور میں بھی حق کی صدا پہچان لیں، جو اکثریت کے فریب میں نہ آئیں، اور جو ہر دور کے حسینؑ کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha