منگل 5 مئی 2026 - 12:57
عظیم لبنانی قوم نے دنیا کے سامنے استقامت اور ثابت قدمی کی لازوال مثال پیش کر دی / ہم اپنی پوری طاقت سے آپ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں

حوزہ / مقاومتی محور کا اتحاد اور مختلف میدانوں میں اس کی قوتوں کی یکجہتی آج ایک مضبوط حقیقت بن چکی ہے جو ایک باشعور ارادے اور حکیمانہ قیادت پر استوار ہے اور یہ ایک آزاد قوم کی قوتوں کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے جو ایک ہی مقصد کے لیے متحد ہوئی ہیں: عزت کا دفاع اور ظلم و جارحیت کے خلاف استقامت۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ اعرافی کے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم کے نام پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾

﴿إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ﴾

جناب علامہ مجاہد شیخ نعیم قاسم؛ لبنان میں اسلامی مقاومت کے رہبر (حفظه‌الله تعالی و رعاه)

سلام علیکم و رحمة الله و برکاته

میں خود وسطِ میدان (میں حاضر ہوں اور یہیں) سے یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ جہاں (لبنان) آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور توپ خانے کی گرج ہر طرف سنائی دے رہی ہے لیکن ان تمام شور و غل سے بالاتر ایک آواز بلند ہے جسے نہ گرج نے خاموش کیا ہے اور نہ دھوئیں نے دبایا ہے۔

﴿وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ﴾

اللہ کا وعدہ کبھی ٹلتا نہیں اور فتح کی صبح جتنا زیادہ ظلم و جارحیت کی تاریکی بڑھتی ہے، اتنا ہی قریب آتی ہے۔ مقاومتی محور، جو الہی منطق اور اللہ کی ناقابل تبدیلی سنتوں پر قائم ہے، یقین و اطمینان کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے سہارے پر ٹکی ہوئی ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتا اور ایک ایسی مدد سے وابستہ ہے جو اپنے دوستوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

اس موقع پر، میں پوری عزت و تکریم کے ساتھ ان شہیدوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو عزت و سربلندی کی راہ میں شہید ہوئے اور ان میں پیش پیش شہید امام اور الہام بخش رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، اور شہید مقدس اور نادر و تاریخی کمانڈر حضرت سید حسن نصراللہ ہیں۔ جن کی بصیرت مجاہدوں کے لیے مشعلِ راہ تھی، جن کی گفتگو مقاومت کے لیے رہنما تھی اور جن کا پاکیزہ خون اللہ کی نصرت کے وعدے کے پورا ہونے تک جہاد کے پرچم کو بلند رکھنے کا ایک لازوال عہد ہے۔

اے بہادر کمانڈر! تمہارے قہرمان مجاہدین — جو ایمان اور قربانی کے فرزند ہیں — نے عالمی ضمیر کو بیدار کر دیا ہے جو شرمناک خاموشی تلے دبا ہوا تھا اور کمزور و بے اثر موقف کی وجہ سے سستی کا شکار ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنے خون سے ایسے سبق لکھے جو زمانہ کبھی نہیں بھولے گا اور اپنی قربانیوں سے ایسی داستانیں رقم کیں جنہیں نسلیں بیان کرتی رہیں گی۔

اس کے ساتھ ہی عظیم لبنانی قوم نے — اپنے صابر مردوں، عورتوں اور جوانوں کے ساتھ — دنیا کے سامنے استقامت اور ثابت قدمی کی ایک لازوال مثال پیش کر دی ہے، یہاں تک کہ اس کی عوامی مزاحمت عزت کی علامت اور تمام آزادی و کرامت کے پیاسے لوگوں کے لیے سرچشمۂ الہام بن گئی ہے۔ اس مزاحمت کی عظمت صرف اس کے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ اس زندہ قوم کے عزم میں ہے جس نے اسے اپنی آغوش میں پناہ دی اور اس کے ساتھ قربانیوں کا بار اٹھایا ہے۔

آج "جنوب" محض ایک سرزمین نہیں ہے بلکہ ایک ایسا دل ہے جس میں شرافت دھڑکتی ہے اور تھکی ہاری بشریت کی رگوں میں کرامت کی روشنی دوڑاتی ہے۔ وہ "مرکاوا" ٹینکوں کا قبرستان بن گیا ہے جن پر دشمن ہمیشہ فخر کیا کرتا تھا اور ان لازوال داستانوں کا میدان بن گیا ہے جو مکتبِ شہادت کے فرزندوں نے رقم کیں۔

﴿کَم مِّن فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ﴾

آپ نے دنیا کے سامنے ایک ناقابلِ شکست ارادے اور ایک ایسی قوم کی شاندار تصویر پیش کی ہے جو فوجی طاقت کے افسانوں کو توڑنے اور جارحیت کی عدم استحکام کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے — خواہ اس کی جنگی مشین کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو — اور اس کی مکڑی کے گھر کو پاش پاش کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

نیز، مقاومتی محور کے اتحاد اور اس کی قوتوں کی مختلف میدانوں میں یکجہتی آج ایک مضبوط حقیقت بن چکی ہے جو ایک باشعور ارادے اور حکیمانہ قیادت پر استوار ہے اور یہ ایک آزاد قوم کی قوتوں کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے جو ایک ہی مقصد کے لیے متحد ہوئی ہیں: عزت کا دفاع اور ظلم و جارحیت کے خلاف استقامت۔

مقاومت کے فرزندوں نے دنیا کی دلکش چمک و دمک سے اپنا دل موڑا اور ایمان سے لبریز دلوں اور شہادت کے مشتاق جانوں کے ساتھ آپ کی حکیمانہ و شجاع قیادت میں ایثار و قربانی کے راستے پر قدم بڑھائے۔ انہوں نے الہی محبت کے دروازے ہر حقیقت جو کے لیے کھول دیے اور روحانی بے راہ روی اور اخلاقی زوال کے اس دور میں اللہ کی ملاقات کے پیاسے جانوں کو سیراب کیا۔

﴿مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ﴾

اور اس سے بھی بڑھ کر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مقاومت کا تیر بھی حقیقی دشمن کو نشانہ بنانے میں ناکام نہیں ہوا اور یہ خود اس کے جوانوں کی بصیرت کے پاکیزگی اور اس قیادت کی حکمت کی واضح دلیل ہے جو اس راستے کو استقامت اور دور اندیشی کے ساتھ متعین کرتی ہے۔

دشمن نے کچھ اندرونی لغزشوں پر حساب کیا ہوا تھا کہ وہ کوئی اندرونی فتنہ کھڑا کرے گا اور آپ کے درمیان آگ بھڑکائے گا، یا کوئی معمولی و حاشیائی جنگ مسلط کر کے آپ کی توانائیوں کو ختم اور طاقتوں کو منتشر کر دے گا۔ لیکن آپ نے اس سازش کو ناکام بنا دیا اور دشمن کی چالوں کو واضح شکست اور اس کے زہریلے و مذموم منصوبوں کو راکھ میں بدل کر رکھ دیا۔

اس ضمن میں ہم تاکید کرتے ہیں کہ حوزات علمیہ، مراجع دینی اور دنیائے اسلام میں علماء کی کثیر تعداد اس مبارک مقاومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور خاص طور پر سرخرو لبنانی مقاومت سے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور حق و عدالت کی مدد کے لیے ہر قسم کی معنوی، علمی اور عملی مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں۔

بلاشبہ، وہ فتح جس کا اللہ نے مجاہدوں سے وعدہ کیا ہے، آج اپنے واضح ترین مفہوم میں ظاہر ہو رہی ہے۔ اس فتح کی خوشخبریاں ہر لمحے استقامت کے ساتھ اور ہر اس موقف کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہیں جو ثابت کرتا ہے کہ حق ہمیشہ فتح مند ہوتا ہے خواہ کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے اور باطل ختم ہو جانے والا ہے خواہ اس کا شور و غل کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔

﴿وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ﴾

ہم اس پُربرکت استقامت پر آپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اپنی پوری طاقت سے آپ کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو ہمیشہ توفیق و استقامت عطا فرمائے، آپ کے ہاتھوں مکمل فتح اور جارحیت کا خاتمہ مقرر کرے اور آپ کو خیر کا ذریعہ اور شر کو روکنے والا بنائے۔

﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوقًا﴾

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَی أَمْرِهِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ﴾

علی رضا اعرافی

مدیر حوزہ علمیہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha