حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ میں 16 اور 17 مئی کو تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ انٹرفیتھ سیمینار اور مجلس عزا میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے علماء، سیاسی و سماجی شخصیات، صحافیوں اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ “رہبر شہید علمبردار انسانیت” کے عنوان سے منعقدہ اس پروگرام میں مقررین نے رہبر شہید سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی خدمات، استقامت اور عالمی مظلومین کی حمایت کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان میں رہبر معظم کے نمائندہ حجۃ الاسلام و المسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نے کہا کہ آج ایران دنیا کا واحد ملک ہے جو ظلم و استکبار کے خلاف ثابت قدمی کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر مظلوم کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مزاحمتی موقف کی وجہ سے ایران کو مسلسل قربانیاں دینی پڑ رہی ہیں، لیکن ملتِ ایران ظالم طاقتوں کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم اس سے بھی بڑی قربانیوں کے لیے تیار ہیں مگر ظالموں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔” خطاب کے اختتام پر انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب بھی بیان کیے۔
پروگرام میں شریک سینئر صحافی اشوک پانڈے نے امریکہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ جمہوریت کے نام پر دنیا میں خوف، بدنظمی اور لوٹ کھسوٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں تاکہ عالمی طاقت بنے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی تاریخ ظلم، خونریزی اور استحصالی سیاست سے بھری ہوئی ہے۔ اشوک پانڈے نے کہا کہ اگر ٹرمپ فردوسی کی شہرۂ آفاق تصنیف “شاہنامہ” کا مطالعہ کرتے تو ایران کے خلاف جارحیت کا تصور بھی نہ کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف کسی ایک فرقے یا ملک کی جنگ نہیں بلکہ دنیا کی آزادی، خودمختاری اور استکباری قوتوں کے تسلط کے خلاف ایک فیصلہ کن معرکہ ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت وجے شرما نے رہبر شہید کی استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکہ کے سامنے جھکنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ دنیا میں انتشار پیدا کرکے اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مدھیہ پردیش سے آئے سوشلسٹ لیڈر اور سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر سنیلم سنگھ نے بھی امریکہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ہر ملک کو اپنی غلامی میں رکھنا چاہتا ہے، مگر ایران نے اس غنڈہ گردی کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔
سیمینار کے مختلف سیشنز سے ملک کے متعدد علماء، دانشوروں اور اہل فکر نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کی نظامت انیس جائسی نے انجام دی جبکہ صدارت تنظیم المکاتب کے صدر آقائے شمیم الملت سید شمیم الحسن نے کی۔ ادارے کے سیکریٹری سید صفی حیدر کی سربراہی میں منعقدہ اس پروگرام میں مولانا سید صبیح الحسین، مولانا سید رضا حسین، مولانا صفدر جونپوری، مولانا عروج، مولانا یعسوب عباس، مولانا کلب رشید اور مولانا وصی حسن خان سمیت کئی ممتاز علماء شریک ہوئے۔
مہمانوں کا استقبال مولانا ممتاز جعفر، مولانا سید تہذیب الحسن اور ان کی ٹیم نے کیا۔
سیمینار کے آخری سیشن میں تنظیم المکاتب کی جانب سے تیار کی گئی رہبر شہید کی سوانح حیات پر مبنی ڈاکیومنٹری بھی پیش کی گئی، جبکہ مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام کے دبیر حجۃ الاسلام و المسلمین رمضانی کے خصوصی پیغام کا اردو ترجمہ بھی حاضرین کو سنایا گیا۔
واضح رہے کہ یہ دو روزہ سیمینار چار مختلف سیشنز پر مشتمل تھا، جس کے اختتام پر حجۃ الاسلام و المسلمین سید صفی حیدر نے تمام شرکاء، مہمانوں اور خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کیا۔









آپ کا تبصرہ