حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران/ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ جارحیت کے دوران، جب ایران نے تقریباً چالیس روز تک استقامت، حوصلہ اور مقاومت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا، اسی دوران ایران بھر میں عوامی سطح پر یکجہتی، تعاون اور حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مقامات پر موکب قائم کیے گئے۔ ان موکبوں میں عوام کو خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقاومت، شہداء اور ایرانی قوم کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا رہا۔

اسی سلسلے کی ایک خوبصورت اور مؤثر مثال تہران کے علاقے سعادت آباد خوردین اور دادمان سرکل میں دیکھنے کو ملی، جہاں ہندوستانی طلبہ، دینی مدارس کے طلاب اور یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی جانب سے “موکبِ ہندوستان” قائم کیا گیا۔ اس موکب کا انعقاد بسیجِ دانشجویان دانشگاہ امام صادق علیہ السلام تہران کے تعاون سے کیا گیا، جبکہ اس کی ذمہ داری ہندوستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم مرزا لبیب رضا اصفہانی جو انجینئرنگ دانشگاہ علم و صنعت تہران کے طالب علم ہیں انجام دے رہے ہیں۔
موکب میں شہدائے ایران بالخصوص رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای اور دیگر شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی، دعا اور مختلف روحانی پروگرام منعقد کیے گئے، جبکہ ہندوستانی مسلمانوں سمیت معصوم بچوں نے بھی بھرپور شرکت کر کے ایرانی عوام کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی کا اظہار کیا۔

اس موکب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ یہاں ڈیجیٹل اسکرین اور ٹی وی کے ذریعے ایران پر ہونے والے مظالم، جنگی حملوں اور ایرانی قوم کی استقامت پر مبنی ڈاکومنٹریز مختلف زبانوں میں دکھائی جا رہی ہیں، تاکہ دنیا بھر سے آنے والے افراد حقیقتِ حال سے آگاہ ہو سکیں۔ اسی طرح ہندوستان کے مختلف علاقوں، کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک، مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جانب سے ایران کے حق میں ہونے والی حمایت، امدادی سرگرمیوں اور اظہارِ یکجہتی کے ویڈیوز اور مختصر کلپس بھی نشر کیے جا رہے ہیں، تاکہ ایرانی عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ وہ اس معرکے میں تنہا نہیں ہیں۔
مرزا لبیب رضا اصفہانی جو مولانا مرزا رضوان اصفہانی کے فرزند ہیں نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اس موکب کا مقصد صرف ایک رسمی پروگرام منعقد کرنا نہیں بلکہ ایرانی عوام تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ ہندوستان کے نوجوان، طلبہ اور عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران ظلم و استکبار کے خلاف ڈٹا ہوا ہے تو دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے دل بھی اس کے ساتھ دھڑک رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظم شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت نے نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران بلکہ پورے عالمِ اسلام اور دنیا جہاں کے مظلومین کو غمزدہ کر دیا ہے، تاہم ان کی فکر، مقاومت اور حق گوئی آج بھی زندہ ہے اور یہی پیغام اس موکب کے ذریعے دنیا تک پہنچایا جا رہا ہے۔
اسی موکب میں خدمات انجام دینے والے چنئی سے تعلق رکھنے والے اسلامی اسکالر مولانا شبیر خان، جو ایم بی اے مکمل کرنے کے بعد اس وقت ایران میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ہندوستانی عوام ہمیشہ حق، عدالت اور مظلوم کی حمایت کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موکب کے ذریعے ہم ایرانی عوام کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ان کی استقامت اور قربانیوں کو دنیا فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مقاومت نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ دیا ہے۔

موکب میں آنے والی مختلف دینی، حوزوی، علمی اور سماجی شخصیات نے ہندوستانی نوجوانوں کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ثقافتی یا فلاحی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سطح پر امتِ مسلمہ اور آزادگانِ عالم کی یکجہتی کا عملی اظہار ہے۔ ایرانی عوام نے بھی اس موکب کو بے حد سراہا اور ہندوستانی عوام کے جذبۂ محبت، وفاداری اور حمایت پر خوشی کا اظہار کیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات ملتوں کے درمیان محبت، اخوت اور استقامت کے رشتوں کو مضبوط کرتے ہیں اور یہ پیغام دیتے ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔














آپ کا تبصرہ