حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے کہا کہ یہ مجلس آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کی جانب سے رہبرِ شہید اور دیگر شہداء کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تاکہ ان کی یاد اور اسلامی خدمات کو زندہ رکھا جا سکے۔
انہوں نے رہبرِ شہید کو ممتاز مرجع، مفسرِ قرآن، تاریخ دان، فقیہ، مجاہد اور امتِ مسلمہ کا مخلص خادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی علمی اور عملی صلاحیتیں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کر دیں اور آخرکار اسی راہ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
ڈاکٹر رفیعی نے عراق کے عوام، علمائے نجف اور حوزۂ علمیہ نجف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے باوجود لاکھوں عراقیوں نے نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں رہبرِ شہید کی تاریخی تشییع میں شرکت کر کے اپنی وفاداری اور محبت کا بے مثال اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیات میں گہری معنویت، دعا و توسل، تہجد، قرآن سے انس اور خدا محوری شامل تھیں۔ ان کے بقول، رہبرِ شہید ہر فیصلہ رضائے الٰہی کو سامنے رکھ کر کرتے تھے اور شہادت کو خدا کے ساتھ بہترین سودا قرار دیتے تھے۔
حجۃ الاسلام رفیعی نے کہا کہ اسلام میں صرف عمل کی کثرت نہیں بلکہ "عملِ احسن" مطلوب ہے، اور رہبرِ شہید نے تقریباً نصف صدی تک مختلف ذمہ داریوں میں اسی معیار کے ساتھ عوام کی خدمت کی۔ ان کے بقول، شجاعت، تواضع، اخلاق، وسعتِ نظر، انصاف اور خالص خدا محوری رہبرِ شہید کی وہ نمایاں صفات تھیں جو انہیں امتِ مسلمہ کے لیے ایک مثالی رہنما بناتی ہیں۔









آپ کا تبصرہ