جمعرات 28 مئی 2026 - 21:18
رہبر معظم کی شہادت پر ہندوستان میں بین المذاہب عوامی غم و یکجہتی کی مثال قائم ہوئی: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

حوزہ/ قم المقدسہ میں ایرانی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ شیعیانِ ہند کے موکب کا دورہ کرتے ہوئے ہندوستان میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کو غمزدہ کر دیا اور ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے ان کے غم میں آنسو بہائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں ایرانی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ شیعیانِ ہند کے موکب کا دورہ کرتے ہوئے ہندوستان میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کو غمزدہ کر دیا اور ہر مذہب و ملت کے لوگوں نے ان کے غم میں آنسو بہائے۔

رہبر معظم کی شہادت پر ہندوستان میں بین المذاہب عوامی غم و یکجہتی کی مثال قائم ہوئی: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے موکب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب رہبر معظم کی شہادت کی خبر ہندوستان پہنچی تو دہلی سمیت مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور غم و اندوہ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں سے لوگ مسلسل دہلی آتے رہے اور دفتر میں تعزیت پیش کرتے رہے، جن میں شیعہ، اہلسنت، ہندو، مسیحی اور دیگر مذاہب کے افراد شامل تھے۔

حجۃ الاسلام حکیم الٰہی نے بتایا کہ اُن دنوں دہلی میں روزانہ تقریباً 1700 افراد کے کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا جبکہ صبح سے رات تک تعزیتی اجتماعات اور تقاریر کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان چند دنوں میں دو سو سے زائد تقاریر کیں اور دفتر کے بعض افراد 72 گھنٹے تک آرام کیے بغیر خدمات انجام دیتے رہے۔

رہبر معظم کی شہادت پر ہندوستان میں بین المذاہب عوامی غم و یکجہتی کی مثال قائم ہوئی: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے ہندوستان بھر میں منعقد ہونے والے عظیم اجتماعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک شہر میں ستر ہزار افراد نے رہبر معظم کے غم میں شرکت کی جن میں بڑی تعداد غیر شیعہ برادران کی تھی، جبکہ کئی شہروں میں تیس سے پچاس ہزار تک عوام نے اجتماعات میں شرکت کی۔ انہوں نے لکھنؤ کے چھوٹے امامباڑے اور بڑے امامباڑے میں ہونے والے عظیم پروگراموں، جلالپور میں شدید گرمی کے باوجود چالیس سے پچاس ہزار افراد کی شرکت اور جونپور اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں عوامی مجالس کا خصوصی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ غم صرف شیعوں تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر مذاہب کے افراد بھی رہبر معظم کی شہادت پر اشکبار تھے۔ انہوں نے ایک ہندو شخص کے تاثرات نقل کرتے ہوئے کہا کہ “ہم آج انسانیت کی آواز کھو بیٹھے ہیں، رہبر معظم انسانیت کی آواز تھے۔”

رہبر معظم کی شہادت پر ہندوستان میں بین المذاہب عوامی غم و یکجہتی کی مثال قائم ہوئی: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

حجۃ الاسلام حکیم الٰہی نے کہا کہ اس واقعے نے ہندوستانی عوام کی انسان دوستی، وفاداری اور اخلاقی عظمت کو دنیا کے سامنے واضح کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی عوام نے مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت، عدالت اور وفاداری کا عملی مظاہرہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پر شیعہ اور سنی کے درمیان فاصلے بھی کم ہوتے دکھائی دیے اور بہت سے اہلسنت علماء نے کھلے الفاظ میں کہا کہ شیعوں نے عزت و وقار کا راستہ اختیار کیا ہے کیونکہ امام حسین علیہ السلام نے کبھی ذلت قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض ایسے افراد بھی تعزیت کے لیے آئے جو پہلے شیعوں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے تھے، لیکن اس موقع پر انہوں نے اعتراف کیا کہ شیعہ اور سنی ایک امت ہیں۔

رہبر معظم کی شہادت پر ہندوستان میں بین المذاہب عوامی غم و یکجہتی کی مثال قائم ہوئی: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کو تمام مذاہب و ادیان کے درمیان مشترک محبوب شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایک جغرافیے تک محدود نہیں تھے بلکہ پوری انسانیت کی آواز تھے۔

آخر میں انہوں نے ایران میں موجود ہندوستانی عوام اور موکب کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی، ثقافتی اور دینی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha