جمعہ 29 مئی 2026 - 20:36
ایرانی عوام کی استقامت اور اطمینان حیرت انگیز ہے/ غدیر مؤمنوں کی عظیم عید ہے: مولانا سید رضا حیدر زیدی

حوزہ/ شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں 22 مئی 2026 کو نماز جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفران مآب رحمۃ اللہ علیہ کی اقتدا میں ادا کی گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید رضا حیدر زیدی نے لکھنؤ میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں نمازیوں کو تقوائے الٰہی کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ پروردگار سے دعا ہے کہ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے صدقہ میں ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہمارا راستہ متقین کا راستہ ہو۔ ہم اسی راستے پر چلیں جس کی ہدایت قرآنِ مجید اور اہلِ بیت علیہم السلام نے فرمائی ہے۔

نمازِ جمعہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثِ شریف ہے کہ ‘ہماری امت کے غریب لوگوں کا حج نمازِ جمعہ ہے۔’ حج کی سعادت جو کثیر مال خرچ کرکے حاصل ہوتی ہے، وہ نمازِ جمعہ کے ذریعہ بھی نصیب ہو جاتی ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے اس سال عیدِ غدیر (18 ذی الحجہ 1447ھ) کے جمعہ کے دن واقع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے خطبہ کا یہ فقرہ نقل کیا: “اللہ تعالیٰ نے آج کے دن تم مؤمنین کے لئے دو عظیم اور بڑی عیدیں جمع کر دی ہیں، جن میں سے ایک دوسری کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

مولانا نے کہا کہ اس سال اللہ تعالیٰ نے دو عظیم اور کریم عیدوں کو ایک ہی دن میں جمع فرما دیا ہے، جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ اور غدیر میں چولی دامن کا ساتھ ہے، مگر افسوس کہ کچھ لوگوں نے جمعہ کو اختیار کر لیا اور غدیر کو چھوڑ دیا، جبکہ بعض نے غدیر کو اپنایا اور جمعہ سے دور ہو گئے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خطبہ کے حوالے سے مولانا نے کہا کہ ولایت اور نماز ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ولایت مرکز ہے اور اس تک پہنچنے کا راستہ نمازِ جمعہ ہے۔ نمازِ جمعہ بے حد اہم عبادت ہے۔

دورِ حاضر کی مشکلات، پریشانیوں اور بے چینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ مشکلات، پریشانیوں اور بے چینی کی ایک اہم وجہ خدا سے دوری ہے۔ یہی دوری انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا دیتی ہے اور بعض اوقات وہ خودکشی تک کر لیتا ہے۔ خبروں کے مطابق اسرائیلی فوجیوں میں خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو حقیقی سکون دولت اور طاقت سے نہیں بلکہ یادِ خدا سے حاصل ہوتا ہے۔

انہوں نے ظلم کو بھی موجودہ مشکلات اور اضطراب کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشاہدہ کریں کہ ظلم کس قدر بڑھ چکا ہے۔ لبنان کی بستیاں اجاڑ دی گئی ہیں اور غزہ میں ہزاروں بچوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یاد رکھیں کہ ظلم کی بنیاد پر معاشرے میں اصلاح نہیں ہو سکتی؛ حقیقی اصلاح صرف عدل و انصاف کی بنیاد پر ممکن ہے۔

اخلاقی زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جھوٹ، مکاری، خیانت، حسد، چغلخوری اور مادہ پرستی عام زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں، جس کے باعث انسانیت شدید پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی انسان کسی کے جھوٹ کو پکڑ پائے یا نہ پکڑ پائے، لیکن اللہ تعالیٰ سے نہ جھوٹ پوشیدہ ہے اور نہ سچ، اور اسی کی بارگاہ میں سب کو جواب دہ ہونا ہے۔

خاندانی نظام کی تباہی کو بھی معاشرتی بے سکونی کی ایک اہم وجہ قرار دیتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ آج طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ والدین کا احترام کمزور پڑ گیا ہے اور اولاد نافرمانی و گمراہی کا شکار ہو رہی ہے۔ گھروں کے بکھرنے سے انسانی سکون اور اطمینان ختم ہوتا جا رہا ہے۔

جہالت اور گمراہی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ جاہل خود کو عالم ظاہر کر رہا ہے اور گمراہ شخص خود کو ہدایت یافتہ سمجھ رہا ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ غدیر کے دن کھانا کھلانے کی تاکید وارد ہوئی ہے، جبکہ سوم اور چالیسویں میں کھانا کھلانے کا کوئی حکم نہیں ہے، بلکہ روایت میں آیا ہے کہ اہلِ مصیبت کے گھر کھانا کھانا عملِ جاہلیت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر نئے دولت مند لوگ کہتے ہیں کہ ہم سوم اور چالیسویں میں کھانا کھلائیں گے اور امام علیہ السلام کی حدیث کی تاویل کرتے ہیں۔

آخر میں مولانا نے کہا کہ کہاں ہے تمہاری انسانیت کہ ایک یتیم سسکیاں لے رہا ہو اور تم اسی کے دسترخوان پر بیٹھ کر روٹیاں توڑ رہے ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha