تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی
حوزہ نیوز ایجنسی|
بسم الله الرحمٰن الرحیم
اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هٰذَا الْيَوْمِ الَّذِي جَعَلْتَهُ لِلْمُسْلِمِينَ عِيدًا.
عید الاضحٰی اطاعتِ خداوندی، ایثارِ ابراہیمیؑ اور انسانیت نوازی کا عظیم پیغام لے کر آتی ہے۔ یہ مبارک دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے دنیا کی ہر محبوب شے قربان کی جاسکتی ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، غرور، نفرت اور خود غرضی کو رضائے الٰہی کے لیے قربان کرنے کا درس بھی ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:“لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ”“اللہ تک نہ ان قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”— سورۃ الحج: 37
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ عید الاضحٰی کے موقع پر غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کریں، ملکی قوانین اور سماجی نظم و ضبط کا احترام کریں، صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور اپنے کردار سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو نمایاں کریں۔
قربانی کی حقیقی روح
عید الاضحٰی اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم الشان مذہبی اور روحانی تہوار ہے، جو انسان کو محض عبادت ہی نہیں بلکہ انسانیت، ایثار، باہمی ہمدردی، سماجی ذمہ داری اور قانون پسندی کا درس بھی دیتا ہے۔ یہ مقدس دن حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہؑ کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے، جہاں اطاعتِ الٰہی، تسلیم و رضا اور جذبۂ بندگی کی ایسی عظیم مثال قائم ہوئی کہ ہر محبوب شے راہِ خدا میں قربان کردی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ عید الاضحٰی کو “عیدِ قرباں” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد اخلاص، ایثار اور قربانی کے عظیم جذبہ پر قائم ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:“فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ”“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”— سورۃ الکوثر: 2
ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:“لَنۡ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوۡمُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلٰـكِنۡ يَّنَالُهُ التَّقۡوٰى مِنۡكُمۡ”“اللہ تک نہ ان قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”— سورۃ الحج: 37
یہ آیات اس حقیقت کی وضاحت کرتی ہیں کہ اسلام میں قربانی کا اصل مقصد محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ انسان کے اندر تقویٰ، اطاعت، صبر، قربانی اور انسان دوستی کے جذبات پیدا کرنا ہے۔ اگر قربانی کے ساتھ اخلاق، نظم و ضبط، صفائی، قانون کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کا خیال نہ رکھا جائے تو اس عبادت کی روح متاثر ہوجاتی ہے۔
انسانیت اور خدمتِ خلق کا درس
عید الاضحٰی کا سب سے روشن پہلو انسانیت کی خدمت اور معاشرتی مساوات ہے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت میں غریبوں، محتاجوں، یتیموں اور نادار افراد کا حق مقرر کرکے سماجی انصاف کی ایک خوبصورت مثال قائم کی۔ قربانی دراصل یہ اعلان ہے کہ معاشرہ کے کمزور اور محروم طبقات کو خوشیوں میں شریک کرنا اہلِ ایمان کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:“خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ”“سب سے بہتر انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔”
اسی طرح ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا گیا:“المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده”“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
ان تعلیمات کی روشنی میں عید الاضحٰی صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ امن، محبت، رواداری اور انسانی احترام کا عملی پیغام ہے۔
ہندوستانی تناظر اور قانون پسندی
ہندوستان ایک عظیم جمہوری اور کثرت میں وحدت کا حامل ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب، تہذیبیں اور ثقافتیں صدیوں سے باہمی احترام اور آئینی اصولوں کے تحت زندگی گزار رہی ہیں۔ ہندوستان کا دستور ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ آئینِ ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، مذہبی رسومات ادا کرنے اور مذہبی آزادی حاصل ہے، بشرطیکہ وہ عوامی امن، اخلاقیات اور ملکی قوانین کے خلاف نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمان عید الاضحٰی کی عبادات آزادی کے ساتھ انجام دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ملکی قوانین، ریاستی ضابطوں، شہری نظم و نسق اور عوامی جذبات کا احترام بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
اسلام خود قانون پسندی، صفائی، نظم و ضبط اور دوسروں کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ چنانچہ قربانی کے موقع پر ایسے تمام اعمال سے اجتناب ضروری ہے جن سے عوامی پریشانی، ماحولیاتی آلودگی، گندگی یا فرقہ وارانہ حساسیت پیدا ہو۔ قربانی کو ہمیشہ ملکی قوانین اور انتظامی ہدایات کے دائرے میں انجام دینا چاہیے۔ جانوروں کی خرید و فروخت، نقل و حمل، قربانی کی جگہ، صفائی ستھرائی اور باقیات کو ٹھکانے لگانے کے تمام مراحل میں قانونی اصولوں کی پابندی ایک ذمہ دار شہری اور باشعور مسلمان ہونے کی علامت ہے۔
صفائی، نظم و ضبط اور اسلامی تعلیمات
اسلام نے طہارت اور صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ لہٰذا قربانی کے بعد سڑکوں، گلیوں اور عوامی مقامات پر گندگی پھیلانا، خون یا آلائشوں کو کھلا چھوڑ دینا یا عوامی نظم کو متاثر کرنا اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنی عبادت کے ساتھ دوسروں کے سکون، ماحول کی پاکیزگی اور سماجی ہم آہنگی کا بھی خیال رکھے۔
عید الاضحٰی کا اخلاقی و سماجی پیغام
عید الاضحٰی ہمیں یہ بھی درس دیتی ہے کہ انسان اپنی خواہشات، غرور، خود غرضی اور نفرت کو قربان کرے۔ موجودہ دور میں انسان مادّیت پرستی، تعصب، فرقہ واریت اور اخلاقی زوال کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں عید الاضحٰی کا پیغام انسانیت کے لیے امید کی روشن کرن ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی قربانی ہمیں وفا، یقین اور اطاعت کا درس دیتی ہے، جبکہ حضرت اسماعیلؑ کا کردار صبر، رضا اور فرمانبرداری کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔
اگر مسلمان عید الاضحٰی کی حقیقی روح کو سمجھ لیں تو معاشرہ میں محبت، اخوت، رواداری اور ہمدردی کا فروغ ممکن ہوسکتا ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس، انا، لالچ، ظلم اور نفرت کو قربان کرنے کا نام ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو ایک مثالی، مہذب اور پرامن معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔
اختتامیہ
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عید الاضحٰی کو محض رسم و رواج یا ظاہری نمائش تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے حقیقی مقاصد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ غریبوں کی مدد کریں، یتیموں اور بیواؤں کا سہارا بنیں، سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیں، ملکی قوانین کا احترام کریں اور اپنے کردار سے اسلام کی خوبصورت تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔
بلاشبہ عید الاضحٰی انسانیت، ایثار، قربانی، قانون پسندی، اخلاقیات اور خدمتِ خلق کا عظیم پیغام ہے۔ اگر اس پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھ لیا جائے تو نہ صرف فرد کی اصلاح ممکن ہے بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت اور انسانی اقدار کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عید الاضحٰی کی حقیقی روح کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے، خدمتِ انسانیت کا ذریعہ بننے اور حقیقی معنوں میں سیرتِ ابراہیمیؑ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔









آپ کا تبصرہ