محمد کاظم سلیم
حوزہ نیوز ایجنسی | برصغیر کے نامور عالم دین، محقق، ادیب اور شعلہ بیان مقرر علامہ سید سلمان حسینی ندوی کی وفات علم و تحقیق کے سنجیدہ حلقوں کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا بڑا حصہ مذہبی، تاریخی اور فکری موضوعات پر تحقیق، تنقیدی مطالعے اور حقائق کی جستجو میں صرف کیا۔
برصغیر میں مذہبی اور تاریخی مسائل پر غیر جانب دار تحقیق اور حقائق تک رسائی کی کوشش کو اکثر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ خصوصاً جب کوئی محقق رائج تصورات سے ہٹ کر تحقیق کی بنیاد پر کوئی نتیجہ پیش کرتا ہے تو اسے علمی دلائل سے جواب دینے کے بجائے اس کی شخصیت، نیت اور عقیدے کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ یوں علمی مکالمے کی فضا فرقہ وارانہ کشمکش کی نذر ہو جاتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مسلمان اپنی روزمرہ زندگی کے معمولی معاملات میں تحقیق، احتیاط اور حقیقت پسندی کی تلقین کرتے ہیں، لیکن جب مذہب، عقیدہ اور تاریخ کا معاملہ آتا ہے تو انہی اصولوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے مذہبی حلقوں میں سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور روایت کو علمی معیار پر پرکھنا گویا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص دیانت دارانہ تحقیق کے نتیجے میں رائج بیانیے سے مختلف رائے اختیار کرے تو اسے علمی دلائل سے جواب دینے کے بجائے فرقے یا مذہب سے خارج قرار دینے کی روش اختیار کی جاتی ہے جبکہ یہی رویہ علمی ارتقا کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ماضی قریب میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم اور حالیہ دور میں مولانا محمد اسحاق مرحوم اور مولانا طارق جمیل بھی مختلف مواقع پر اسی انتہا پسندانہ طرز فکر کی تنقید کا سامنا کر چکے ہیں۔ تاہم علامہ سید سلمان حسینی ندوی کی حیثیت اس اعتبار سے منفرد تھی کہ وہ برصغیر کے عظیم علمی خانوادے اور تاریخی درسگاہ ندوۃ العلماء سے تعلق رکھتے تھے۔ اس خاندان نے کئی نسلوں تک برصغیر کی دینی اور فکری روایت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
علامہ سید سلمان حسینی ندوی نے اپنے خاندانی علمی ورثے کو محض روایت کی حفاظت تک محدود نہیں رکھا بلکہ تحقیق، تنقیدی مطالعے اور حقیقت کی جستجو کو اپنا شعار بنایا۔ انہوں نے برسوں کی علمی محنت اور عرق ریزی کے بعد جن نتائج تک رسائی حاصل کی، انہیں بلا خوف و مصلحت علمی دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہی ایک حقیقی محقق کا امتیاز ہوتا ہے کہ وہ اپنی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دلیل اور تحقیق کی بنیاد پر گفتگو کرے، خواہ اس کی قیمت مخالفت، تنقید یا تنہائی کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔
اختلاف رائے ہر علمی معاشرے کا حسن ہے لیکن تحقیق کے جواب میں تکفیر، تحقیر اور کردار کشی کسی بھی مہذب علمی روایت کو کمزور کر دیتی ہے۔ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جو سوال کرنے، تحقیق کرنے اور دلیل کی بنیاد پر اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ علامہ سید سلمان حسینی ندوی کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی علمی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ