تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تاریخِ انسانی کے بعض ادوار ایسے ہوتے ہیں جب قوموں کے سامنے یہ سوال نہیں ہوتا کہ وہ کتنی زندہ ہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے زندہ ہیں۔ آج عالمِ اسلام، بالخصوص مکتبِ اہلِ بیتؑ، اسی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔
دشمن نے اپنے ہتھیار بدل دیے ہیں۔ اب وہ صرف بارود اور بندوق سے حملہ نہیں کرتا، بلکہ افکار پر حملہ کرتا ہے، عقیدوں کو متزلزل کرتا ہے، نوجوانوں کے ذہنوں کو مسخر کرتا ہے، تعلیم کو کمزور کرتا ہے، تہذیب کو بدلتا ہے، میڈیا کے ذریعے اقدار کو مسخ کرتا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے ترجیحات تبدیل کرتا ہے، اور پھر خاموشی سے ایک ایسی نسل تیار کر دیتا ہے جس کے ہاتھوں میں موبائل تو ہوتا ہے، مگر ذہن میں مقصد نہیں؛ زبان پر حسینؑ کا نام تو ہوتا ہے، مگر کردار میں حسینؑ کا پیغام نہیں۔
یہ حقیقت بھی تلخ ہے کہ ہم نے اپنے دشمن کو پہچاننے میں تاخیر کی اور اپنے نوجوانوں کو زمانے کے چیلنجز کے مطابق تیار کرنے میں بھی کوتاہی کی۔ ہم نے اجتماعات تو بڑھا لیے، لیکن افراد کی تعمیر کو نظرانداز کر دیا۔ ہم نے ہجوم پیدا کیا، مگر قیادت پیدا نہ کر سکے۔ ہم نے جذبات کو گرمایا، مگر شعور کو وہ حرارت نہ دے سکے جو ایک زندہ قوم کی پہچان ہوتی ہے۔
آج ہمارے اطراف نظر دوڑائیے۔ دینی کمزوری، تعلیمی پسماندگی، معاشی بے بسی، اخلاقی بحران، سماجی انتشار، فکری الجھن، سیاسی بے وزنی اور نوجوان نسل کی بے سمتی… کیا یہ سب ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟ اگر اتنی عظیم عزاداریوں، لاکھوں اجتماعات اور بے شمار مجالس کے باوجود ہماری اجتماعی زندگی میں مطلوبہ تبدیلی پیدا نہیں ہو رہی تو ہمیں اپنے طریقۂ فکر اور اپنی ترجیحات پر ضرور غور کرنا ہوگا۔
یہ تحریر کسی رسم کی مخالفت نہیں، کسی شعیرۂ حسینی کی تنقیص نہیں، اور نہ ہی عزاداری کے تقدس پر کوئی سوال ہے۔ عزاداری ہماری روح ہے، ہماری شناخت ہے، ہماری بقا ہے، اور محبتِ اہلِ بیتؑ کا روشن ترین اظہار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عزاداری کا وہ مقصد بھی ہماری زندگی میں زندہ ہے جس کے لیے کربلا برپا ہوئی تھی؟
امام حسینؑ نے ہمیں صرف رونے کا سلیقہ نہیں سکھایا، بلکہ جاگنے کا شعور دیا۔ صرف غم نہیں دیا، بلکہ ذمہ داری دی۔ صرف آنسو نہیں دیے، بلکہ عزم دیا۔ صرف مصیبت کا بیان نہیں کیا، بلکہ ایک ایسا راستہ دکھایا جس پر چل کر ہر دور میں ظلم کو شکست دی جا سکتی ہے اور انسانیت کو عزت و وقار بخشا جا سکتا ہے۔
آج اگر ہم واقعی حسینؑ کے وفادار ہیں تو ہمیں اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کرنا ہوگا:
کیا ہم شبیہیں بنا رہے ہیں یا مستقبل بنا رہے ہیں؟
کیا ہم صرف رسومات کو محفوظ کر رہے ہیں یا اپنی نسلوں کو بھی؟
کیا ہم صرف ماضی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں یا مستقبل کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں؟
یہی وہ سوالات ہیں جنہوں نے اس قلم کو مجبور کیا کہ وہ محرم و صفر کے اس مقدس موسم میں چند درد بھری گزارشات اہلِ ایمان، بالخصوص اپنی نوجوان نسل کی خدمت میں پیش کرے۔
کیونکہ وقت کی آواز یہی ہے کہ...
شبیہہ سازی نہیں، تقدیر سازی کی ضرورت ہے
یہ کون سی عقیدت کا اظہار ہے؟
یہ سوال صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر سے کیا جانے والا ایک سنجیدہ سوال ہے۔
ہم آخر کہاں جا رہے ہیں؟
ہماری منزل کیا ہے؟
ہم کس سمت گامزن ہیں؟
بنامِ عقیدت، بنامِ عزاداری اور بنامِ حسینؑ ہم کیا کچھ کر رہے ہیں، اور کیا کچھ کرنا بھول چکے ہیں؟
ہر گزرتے زمانے کے ساتھ ہماری عزاداری کے مظاہر تو بڑھتے جا رہے ہیں، لیکن کیا ہمارے اندر شعورِ حسینی بھی اسی رفتار سے پروان چڑھ رہا ہے؟
اجتماعات وسیع ہو رہے ہیں، جلوس طویل ہو رہے ہیں، انتظامات شاندار ہوتے جا رہے ہیں، مگر کیا ہماری قوم علم، کردار، اتحاد، اخلاق، تعلیم، معیشت اور سماجی شعور میں بھی آگے بڑھ رہی ہے؟
اگر نہیں، تو پھر ہمیں رک کر اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کہیں ہم مقصد سے دور اور وسائل میں تو نہیں الجھ گئے؟
حضرت امام حسینؑ نے کربلا میں صرف ایک معرکہ نہیں لڑا تھا، بلکہ ایک ایسی فکری، اخلاقی اور انسانی تحریک کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد انسان کو بیدار کرنا، امت کی اصلاح کرنا، ظلم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا اور معاشرے میں عدل، انصاف، دیانت، عزتِ نفس اور انسانی کرامت کو زندہ کرنا تھا۔ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ درسگاہ ہے۔
تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا
دل اس وقت خون کے آنسو روتا ہے جب ہر سال محرم و صفر کے ان مقدس ایام میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسا افسوس ناک واقعہ پیش آ جاتا ہے جو عزاداری کے تقدس، وقار اور مقصد کو مجروح کر دیتا ہے۔ پھر چند لمحوں کی ایک غیر دانشمندانہ حرکت مہینوں بلکہ برسوں کی دینی، تبلیغی اور سماجی خدمات کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔ مخالفین کو اعتراض کا موقع مل جاتا ہے، نوجوانوں کے ذہنوں میں سوالات جنم لیتے ہیں، اور ہماری صفوں میں احساسِ ذمہ داری کے بجائے صفائیاں پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم جذبات کے ساتھ شعور، عقیدت کے ساتھ بصیرت اور عزاداری کے ساتھ ذمہ داری کو بھی اپنی شناخت بنائیں۔
میرے نوجوانو!
ملک و سماج کے بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی، فکری اور تہذیبی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم امام حسینؑ کے مقاصدِ قیام، تعلیمات، ارشادات اور سیرتِ طیبہ کو اپنی زندگی کا عملی منشور بنائیں۔
میرے عزیزو!
شعورِ حسینی پیدا ہوگا تو عزاداری میں ذمہ داری خود پیدا ہوگی۔
"عزاداری کو دشمن سے اتنا خطرہ نہیں جتنا بعض اوقات عزاداری کے نام پر ہونے والی غیر ذمہ دارانہ حرکات سے پہنچتا ہے۔ شعائرِ حسینی کا سب سے مضبوط دفاع یہ ہے کہ انہیں ہمیشہ امام حسینؑ کے مقصد، سیرت اور اخلاق کے مطابق پیش کیا جائے۔"
میرے عزیزویاد رکھو!
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شبِ ہجراں! کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے!
دو حق و صداقت کی شہادت سرِ مقتل اٹھو! کہ یہی وقت کا فرمانِ جلی ہے!
ہم راہ روِ دشتِ بلا روزِ ازل سے
اور قافلہ سالار حسینؑ ابنِ علیؑ ہے!
میرے نوجوانو!
امام حسینؑ کے مقصد کو سمجھ لیجیے، پھر آپ کو عزاداری کا مفہوم بھی سمجھ آ جائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی تقدس پامال کرے گا، نہ شعائر کی بے حرمتی ہوگی، نہ دشمن کو اعتراض کا موقع ملے گا؛ کیونکہ جہاں مقصد زندہ ہوتا ہے، وہاں ذمہ داری خود جنم لیتی ہے۔
آج قوم کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو صرف جذباتی وابستگی نہ رکھتے ہوں بلکہ شعور، بصیرت، علم، کردار اور ذمہ داری کے ساتھ میدانِ عمل میں اتریں۔
ہمیں اپنی قوم و ملت کی بگڑتی ہوئی دینی، تعلیمی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ہماری نئی نسل تعلیم میں کیوں پیچھے رہ گئی؟
ہماری صفوں میں اتحاد کے بجائے انتشار کیوں پیدا ہو گیا؟
ہمارے ادارے کمزور کیوں ہیں؟
ہمارے نوجوان بے مقصد کیوں ہیں؟
ہماری عزاداری ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کا ذریعہ کیوں نہیں بن رہی؟
محرم و صفر کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بدلے، اپنے گھر کو بدلے، اپنے معاشرے کو بدلے اور اپنی قوم کے مستقبل کی تعمیر کا عزم کرے۔
اگر یہ دو مہینے بھی ہمیں اپنی کمزوریوں کا احساس نہ دلا سکیں تو پھر سال کے باقی مہینوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم محرم و صفر کو صرف ظاہری مظاہر اور شبیہہ سازی تک محدود رکھیں، بلکہ ان مقدس ایام کو ’’تقدیر سازی، کردار سازی، انسان سازی، قوم سازی اور معاشرہ سازی‘‘ کی ایک مسلسل تحریک بنا دیں۔
ہر مجلس صرف مصائب سنانے کی مجلس نہ ہو بلکہ علم و آگہی کا مرکز بھی ہو۔ ہر جلوس صرف عقیدت کا اظہار نہ ہو بلکہ نظم، اتحاد، خدمت اور سماجی ذمہ داری کا عملی نمونہ بھی ہو۔ ہر آنسو صرف غم کی علامت نہ ہو بلکہ اپنے کردار کی اصلاح کا عہد بھی بنے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات ہم رسومات کے تحفظ میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھئے! جب مقصد کمزور ہو جاتا ہے تو رسمیں بھی اپنی روح کھو بیٹھتی ہیں۔
حضرت امام حسینؑ نے ہمیں رسم پرستی نہیں، مقصد پرستی کا درس دیا ہے۔ آپؑ نے ہمیں یہ سکھایا کہ باطل کے ساتھ سمجھوتہ نہیں، حق کے ساتھ استقامت زندگی کا معیار ہے۔
یہاں ایک بات پوری وضاحت کے ساتھ عرض کرنا ضروری ہے۔ مجالسِ عزا، جلوسِ عزا، ماتم، مرثیہ، نوحہ اور دیگر شعائرِ حسینی ہماری دینی و مذہبی شناخت کا حصہ ہیں۔
یہ محبتِ اہلِ بیتؑ کے مظاہر ہیں اور ان کا احترام و تحفظ ہر صاحبِ ایمان کی ذمہ داری ہے۔
ان شعائر کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان شعائر کے ساتھ ان کے حقیقی مقاصد کو بھی زندہ رکھا ہے؟
کیا ہماری مجالس سے علم بڑھ رہا ہے؟
کیا ہمارے نوجوان بصیرت حاصل کر رہے ہیں؟
کیا ہمارے جلوس معاشرے میں اخلاق، نظم، اتحاد، خدمت اور قانون پسندی کا پیغام دے رہے ہیں؟
کیا ہماری عزاداری ظلم، بدعنوانی، جہالت، فرقہ واریت، خرافات اور ہر قسم کے فکری و عملی انحراف کے خلاف ایک مضبوط دیوار بن رہی ہے؟
اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں کسی دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔
امام حسینؑ نے صرف آنسو حاصل کرنے کے لیے قربانی نہیں دی، بلکہ ایسے انسان پیدا کرنے کے لیے قربانی دی جو حق کے علمبردار ہوں، عدل کے محافظ ہوں، مظلوم کے حامی ہوں، علم کے طلبگار ہوں، اخلاق کے پیکر ہوں اور خدا کے بندوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے ہوں۔
آج ہمیں ایسے ہی حسینی نوجوانوں کی ضرورت ہے؛ ایسے نوجوان جو مسجد اور امام بارگاہ سے بھی وابستہ ہوں اور درسگاہ و دانش گاہ سے بھی، جو محراب کی روحانیت بھی رکھتے ہوں اور معاشرے کی تعمیر کا شعور بھی، جو عبادت گزار بھی ہوں اور دیانت دار بھی، جو عزادار بھی ہوں اور کردار کے اعتبار سے امام حسینؑ کے حقیقی پیروکار بھی۔
اگر ہم نے اس محرم و صفر میں صرف عزاداری کی، لیکن عزاداری کے پیغام کو اپنی زندگی میں نافذ نہ کیا، تو خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمارے اجتماعات تو بڑھتے جائیں گے مگر ہماری اجتماعی قوت کمزور ہوتی جائے گی۔ پھر ہمارے پاس حسرت، پشیمانی اور کفِ افسوس ملنے کے سوا کوئی چارۂ کار باقی نہیں رہے گا۔
آئیے! اس سال ہم ایک نیا عہد کریں۔
ہم شبیہہ سازی کے بجائے تقدیر سازی کا سفر شروع کریں۔ ہم ہجوم پیدا کرنے کے بجائے انسان تیار کریں۔ ہم صرف تعداد نہ بڑھائیں بلکہ معیار بلند کریں۔ ہم صرف یادِ حسینؑ کا چراغ نہ جلائیں بلکہ فکرِ حسینؑ کی روشنی اپنے گھروں، اپنے تعلیمی اداروں، اپنی مساجد، اپنے امام بارگاہوں اور اپنی سماجی و قومی زندگی میں بھی پھیلائیں۔
کیونکہ جس دن ’’شعائرِ حسینی‘‘ کے ساتھ ’’شعورِ حسینی‘‘ بھی زندہ ہو جائے گا، اسی دن ہماری عزاداری اپنے حقیقی مقصد کو پا لے گی، ہماری قوم اپنے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ حاصل کر لے گی، اور کربلا کا پیغام تاریخ کی کتابوں سے نکل کر ہماری زندگیوں میں اتر آئے گا۔
یہی امام حسینؑ سے حقیقی وفاداری ہے، یہی عزاداری کی روح ہے، اور یہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
اس لئے :
شبیہہ سازی نہیں، تقدیر سازی۔
ہجوم سازی نہیں،انسان سازی۔
فکرِ حسینؑ اپناؤ، مستقبل سنوارو۔
کربلا سے کردار لو، صرف آنسو نہیں۔
مقصد زندہ ہوگا تو عزاداری باوقار ہوگی۔
عزاداری میں شعور، قوم کی تعمیر کا منشورہے۔
حسینؑ کی محبت، کردار کی صورت میں نظر آنی چاہیے۔
عزاداری صرف جذبات نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔
عزاداری عبادت ہے، اسے ذمہ داری کے ساتھ ادا کیجیے۔
شعائرِ حسینی کے ساتھ شعورِ حسینی بھی ضروری ہے۔
عقیدت کے ساتھ بصیرت، یہی ہے عزاداری کی سیرت۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ؕ
ترجمہ:بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں
(سورہ ٔالرعد : آیت 11)
تمام عزادارانِ امام حسینؑ کے لیے ڈھیر ساری نیک تمناؤں اور خالص دعاؤں کے ساتھ...
مولا امام حسینؑ ہم سب کی عزاداری و پرسہ داری کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائیں، ہمیں شعورِ حسینی، بصیرتِ دینی اور مقصدِ حسینؑ پر استقامت نصیب فرمائیں۔(آمین)
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا فِی الدُّنْیَا زِیَارَۃَ الْحُسَیْنِ ؑ وَفِی الْآخِرَۃِ شَفَاعَۃَ الْحُسَیْنِ ؑ









آپ کا تبصرہ