لبیک یا حسینؑ: ایک نعرہ نہیں، ایک عہد، ایک ذمہ داری اور ایک طرزِ حیات

حوزہ/دنیا میں بہت سے نعرے، تحریکیں اور انقلابی آوازیں وقت کے ساتھ خاموش ہو جاتی ہیں، لیکن تاریخِ انسانیت میں چند صدائیں ایسی ہیں جو صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی زندہ ہیں، دلوں کو گرما رہی ہیں، ضمیروں کو جگا رہی ہیں اور انسانوں کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ انہی دائمی اور زندہ صداؤں میں ایک صدا "لبیک یا حسینؑ" بھی ہے۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

تمہید

دنیا میں بہت سے نعرے، تحریکیں اور انقلابی آوازیں وقت کے ساتھ خاموش ہو جاتی ہیں، لیکن تاریخِ انسانیت میں چند صدائیں ایسی ہیں جو صدیوں گزرنے کے باوجود آج بھی زندہ ہیں، دلوں کو گرما رہی ہیں، ضمیروں کو جگا رہی ہیں اور انسانوں کو حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ انہی دائمی اور زندہ صداؤں میں ایک صدا "لبیک یا حسینؑ" بھی ہے۔

محرم الحرام کے ایام میں دنیا کے مختلف ممالک، شہروں اور بستیوں میں کروڑوں زبانوں پر یہی نعرہ جاری ہوتا ہے۔ عزادار، ماتمی، زائرین اور محبانِ اہل بیتؑ اس شعار کو انتہائی عقیدت کے ساتھ بلند کرتے ہیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا "لبیک یا حسینؑ" صرف ایک جذباتی نعرہ ہے یا اس کے پس منظر میں کوئی عظیم فکری، اخلاقی اور عملی ذمہ داری بھی موجود ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ "لبیک یا حسینؑ" محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عہد، ایک میثاق، ایک تحریک اور ایک مکمل نظامِ حیات کا عنوان ہے۔ یہ نعرہ انسان کو کربلا سے جوڑتا ہے، اسے اصحابِ حسینؑ کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے اور اس کے کندھوں پر حق و عدالت کی سربلندی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

لبیک یا حسینؑ کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم

عربی زبان میں "لبیک" کا معنی ہے: "میں حاضر ہوں"، "میں نے آپ کی دعوت قبول کر لی"، "میں آپ کی اطاعت کے لیے آمادہ ہوں"۔

لہٰذا "لبیک یا حسینؑ" کا مفہوم یہ ہے:

اے حسینؑ! ہم آپ کی دعوت قبول کرتے ہیں، آپ کے راستے پر چلنے کا عہد کرتے ہیں، آپ کے مشن کی حمایت کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آپ کی راہ میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ حقیقی لبیک صرف زبان سے ادا نہیں ہوتا بلکہ دل، فکر، کردار اور عمل سے ادا ہوتا ہے۔

دعوتِ امام حسینؑ: مکہ سے کربلا تک

8 ذی الحجہ 60 ہجری کو امام حسینؑ نے مکہ معظمہ سے روانگی اختیار فرمائی۔ اس وقت بہت سے لوگ حیران تھے کہ حج جیسی عظیم عبادت کو ادھورا چھوڑ کر آپؑ کیوں جا رہے ہیں؟

امامؑ نے واضح فرمایا کہ ان کا مقصد صرف سفر کرنا نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو بیدار کرنا ہے۔ آپؑ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

"جو شخص ہماری راہ میں اپنا خون بہانے اور خدا سے ملاقات کے لیے آمادہ ہے، وہ ہمارے ساتھ چلے۔"

درحقیقت یہ دعوت صرف چند افراد کے لیے نہیں تھی بلکہ رہتی دنیا تک تمام حق طلب انسانوں کے لیے تھی۔ آج بھی کربلا زندہ ہے، عاشورا زندہ ہے اور امام حسینؑ کی دعوت زندہ ہے۔

جب ہم "لبیک یا حسینؑ" کہتے ہیں تو گویا ہم اسی دعوت کا جواب دیتے ہیں۔

لبیک یا حسینؑ: نعرہ یا عہد؟

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات نعرے اپنی روح کھو دیتے ہیں اور صرف رسم بن کر رہ جاتے ہیں۔ اگر "لبیک یا حسینؑ" صرف زبان تک محدود ہو تو اس کی حقیقت ختم ہو جاتی ہے۔

حقیقی لبیک یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کا محاسبہ کرے اور خود سے سوال کرے:

کیا میں سچ بولتا ہوں؟

کیا میں امانت دار ہوں؟

کیا میں ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہوں؟

کیا میں احکامِ خدا کی پابندی کرتا ہوں؟

کیا میں اپنے نفس کی اصلاح کر رہا ہوں؟

اگر ان سوالات کا جواب مثبت ہے تو ہمارا لبیک حقیقی ہے، ورنہ ہمیں اپنے دعوے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

لبیک یا حسینؑ اور اصلاحِ نفس

امام حسینؑ کی تحریک صرف سیاسی یا عسکری تحریک نہیں تھی بلکہ یہ ایک عظیم اخلاقی اور روحانی انقلاب بھی تھی۔ کربلا انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "لبیک یا حسینؑ" کا پہلا تقاضا اپنی ذات کی اصلاح ہے۔

اگر انسان اپنے دل میں حسد، کینہ، بغض، عداوت، تکبر اور خود پسندی کو جگہ دے اور پھر "لبیک یا حسینؑ" کا نعرہ بلند کرے تو اسے سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی وہ حسینؑ کے راستے پر ہے؟

امام حسینؑ نے جس دین کی خاطر قربانی دی، اس دین کی بنیاد تقویٰ، اخلاص، محبت، عدل اور اخلاقِ حسنہ پر قائم ہے۔ لہٰذا حقیقی عزادار وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اپنی کمزوریوں کو پہچانے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرے۔

"لبیک یا حسینؑ" کا مطلب ہے کہ انسان جھوٹ سے سچائی کی طرف، خیانت سے امانت داری کی طرف، نفرت سے محبت کی طرف اور گناہ سے اطاعتِ الٰہی کی طرف سفر کرے۔

لبیک یا حسینؑ اور احکامِ الٰہی کی پابندی

امام حسینؑ نے کربلا میں اپنی جان اس لیے قربان نہیں کی کہ لوگ صرف ان پر آنسو بہائیں، بلکہ اس لیے قربان کی کہ دینِ محمدیؐ زندہ رہے۔

اگر کوئی شخص نماز کو اہمیت نہ دے، روزے سے غفلت برتے، حقوق العباد پامال کرے، حلال و حرام کی تمیز نہ کرے اور پھر خود کو حسینی کہے تو اسے اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ:

نماز کے بغیر حسینیّت ادھوری ہے۔

تقویٰ کے بغیر حسینیّت نامکمل ہے۔

اطاعتِ خدا کے بغیر حسینیّت بے روح ہے۔

امام حسینؑ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خدا کے احکام کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے۔

لبیک یا حسینؑ اور معاشرتی اصلاح

امام حسینؑ نے مدینہ سے نکلتے وقت اپنے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلے ہیں۔

یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ حسینی تحریک کا ایک اہم مقصد معاشرے کی اصلاح ہے۔

آج اگر ہم "لبیک یا حسینؑ" کہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرے میں موجود برائیوں کے خلاف بھی کھڑا ہونا ہوگا۔

رشوت، سود، بدعنوانی، ناانصافی، جھوٹ، فرقہ واریت، تعصب، استحصال اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرنا بھی "لبیک یا حسینؑ" کا حصہ ہے۔

ایک حقیقی حسینی صرف اپنے لیے نہیں جیتا بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے بھی سوچتا اور کام کرتا ہے۔

لبیک یا حسینؑ اور ظلم کے خلاف مزاحمت

کربلا کا سب سے بڑا درس ظلم کے سامنے نہ جھکنا ہے۔

یزید صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک فکر کا نام ہے؛ ایسی فکر جو طاقت کے بل پر حق کو دبانا چاہتی ہے، انصاف کو پامال کرنا چاہتی ہے اور انسانوں کو غلام بنانا چاہتی ہے۔

اسی طرح حسینؑ بھی صرف ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام کا نام ہے؛ ایسا پیغام جو آزادی، عزت، عدل اور انسانی کرامت کا علمبردار ہے۔

جب کوئی شخص "لبیک یا حسینؑ" کہتا ہے تو گویا وہ اعلان کرتا ہے کہ:

میں ظلم کا ساتھی نہیں بنوں گا۔

میں مظلوم کا ساتھ دوں گا۔

میں حق کے لیے آواز بلند کروں گا۔

اور میں کسی قیمت پر باطل کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔

یہی پیغام کربلا کو ہر زمانے میں زندہ رکھتا ہے۔

لبیک یا حسینؑ اور انتظارِ امام مہدیؑ

"لبیک یا حسینؑ" کا ایک نہایت اہم اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان منتقمِ خونِ حسینؑ، حضرت امام مہدیؑ کے ظہور کے لیے خود کو آمادہ کرے۔ کیونکہ کربلا ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل تحریک ہے جو ظہورِ امام مہدیؑ تک جاری رہے گی۔

روایات میں حضرت مہدیؑ کو "ثار اللہ" اور "منتقمِ خونِ حسینؑ" کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ صرف ایک تاریخی انتقام لیں گے، بلکہ وہ دنیا سے ظلم، جبر، استحصال اور یزیدی فکر کا خاتمہ کرکے عدلِ الٰہی کا عالمی نظام قائم کریں گے۔

لہٰذا جو شخص "لبیک یا حسینؑ" کہتا ہے، اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر آج امام زمانہؑ ظہور فرما دیں تو کیا وہ ان کے حقیقی انصار میں شمار ہو سکے گا؟

کیا اس کا کردار مہدوی ہے؟

کیا اس کی زندگی تقویٰ اور دیانت سے مزین ہے؟

کیا وہ حق و باطل میں تمیز رکھتا ہے؟

کیا وہ معاشرے کی اصلاح کے لیے کوشاں ہے؟

اگر نہیں، تو اسے اپنے دعوائے محبت کا ازسرِ نو جائزہ لینا چاہیے۔

ظہور کی فردی اور اجتماعی زمینہ سازی

انتظار کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں بلکہ مسلسل تیاری اور جدوجہد ہے۔

ظہور کی فردی زمینہ سازی یہ ہے کہ انسان اپنے عقائد، اخلاق، عبادات اور کردار کی اصلاح کرے۔

اجتماعی زمینہ سازی یہ ہے کہ معاشرے میں عدل، اخوت، تعلیم، شعور، اخلاق اور دینی اقدار کو فروغ دیا جائے، ظلم، جہالت، تعصب اور فساد کے خلاف جدوجہد کی جائے اور امت کو وحدت و بیداری کی طرف لے جایا جائے۔

جو شخص اپنی ذات اور معاشرے کی اصلاح میں مصروف ہے، درحقیقت وہی ظہور کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

عصرِ حاضر میں لبیک یا حسینؑ کے تقاضے

آج "لبیک یا حسینؑ" کا مطلب صرف مجالس میں شرکت، جلوسوں میں حاضری اور نعرے بلند کرنا نہیں، بلکہ:

• دین پر عمل کرنا۔

• احکامِ الٰہی کی پابندی کرنا۔

• نماز کو زندگی کا محور بنانا۔

• جھوٹ، غیبت، حسد، رشوت، سود اور حرام خوری سے اجتناب کرنا۔

• مظلوموں کا ساتھ دینا۔

• ظالموں کی مخالفت کرنا۔

• اتحادِ امت کے لیے کوشش کرنا۔

• نوجوان نسل کو فکرِ حسینیؑ سے آشنا کرنا۔

• اور امام زمانہؑ کے ظہور کے لیے خود کو تیار کرنا۔

یہی حقیقی حسینیّت ہے اور یہی حقیقی عزاداری ہے۔

اختتامیہ

"لبیک یا حسینؑ" صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک عہدِ وفا ہے؛ ایک ایسا عہد جو انسان کو کربلا سے جوڑتا، اس کے کردار کو سنوارتا، اس کی روح کو بیدار کرتا اور اسے حق و عدالت کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

یہ اعلان ہے کہ ہم امام حسینؑ کی دعوت کو قبول کرتے ہیں، ان کے مشن کو اپنا مشن سمجھتے ہیں، ان کے راستے کو اپنا راستہ مانتے ہیں اور منتقمِ خونِ حسینؑ حضرت امام مہدیؑ کی نصرت و حمایت کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔

پس حقیقی "لبیک یا حسینؑ" یہ ہے کہ ہماری فکر حسینی ہو، ہمارا کردار حسینی ہو، ہماری زندگی حسینی ہو اور ہمارا انتظار مہدوی ہو۔

لبیک یا حسینؑ

یعنی حق کے ساتھ وفاداری،

باطل سے بیزاری،

اصلاحِ نفس کا عزم،

اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد،

اور ظہورِ امام مہدیؑ کی تیاری۔

حسینؑ سے جو وفا کا سبق سیکھ لے بشر

مہدیؑ کے کارواں میں وہی ہم سفر بنے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha