منگل 24 فروری 2026 - 10:54
امریکہ کی نئی سازش اور ایک نیا راگ: "ایرانی سپریم لڈہر آیت اللہ خامنہ ای نے جانشن نامزد کر دیئے!"

حوزہ/ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانشینی سے متعلق خبروں نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی اخبار The New York Times سمیت مغربی میڈیا میں شائع رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران میں اختیارات کی منتقلی اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے کردار میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ایرانی آئین کے مطابق سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگان رہبری کے اختیار میں ہے، جس کے باعث یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آیا یہ خبریں محض معلومات ہیں یا ایک منظم اطلاعاتی بیانیہ (Information Warfare) کا حصہ۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی | امریکا اور ایران کے درماہن بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل سے تصادم کے تناظر مں عالمی پرنٹ اور الکٹراانک مڈایا، خصوصاً The New York Times ، مں حالیہ دِنوں میں ایسی سنسنی خیز سرخیاں گردش کر رہی ہیں جنہوں نے سفارتی حلقوں سے لے کر عوامی مباحث تک ایک ہلچل پیدا کر دی ہے:

  • ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جانشین نامزد کر دیئے!
  • ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اپنے زیادہ تر اختیارات نشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کو سونپ دیے
  • جلد سے جلد ایران چھوڑ دیں، غرم ایرانی
  • ایران میں حالات سنگنس
  • قیادت کے قتل کا اندیشہ

بظاہر یہ سرخیاں محض خبریں محسوس ہوتی ہں ، مگر درحقیقت یہ ایک بایانیہ(Narrative) تشکیل دیتی ہیں ۔ ایسے نازک حالات میں قیادت سے متعلق غیر یقینی اطلاعات عوامی نفسیات، معاشی رویوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہں ۔ وائرل ہونے والی یہ خبریں ایرانی عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے، ان کے جذبات، سوچ اور عمل کو متاثر کرنے اور داخلی انتشار کی فضا ہموار کرنے کی ایک دانستہ کوشش بھی سمجھی جا سکتی ہیں ۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لئے وسیع تیاریوں میں مصروف ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ملک کے اہم اختیارات بڑی حد تک نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دیے ہںر۔ The New York Times کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے چھ اعلیٰ حکام، پاسدارانِ انقلاب کے تین ارکان اور دو سابق سفارت کاروں کے مطابق جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں اور امریکا کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے بعد علی لاریجانی عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسی سرخیاں محض معلومات فراہم کرتی ہیں یا کسی بڑے سفارتی کھیل کا حصہ ہیں؟

تاریخ گواہ ہے کہ اطلاعات کی جنگ (Information Warfare) روایتی جنگ سے کم اثر انگزر نہیں ہوتی۔ ایران جیسے ملک میں ، جہاں انقلابی نظام کی بنیاد نظریاتی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی توازن پر ہے، قیادت سے متعلق افواہیں یا قیاس آرائیاں ایک بڑے نفسایتی دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کا انتخاب کسی فرد کی براہِ راست نامزدگی سے نہیں ہوتا۔ یہ اختیارات مجلس خبرگان رهبری کے پاس ہے، جو علما پر مشتمل ایک منتخب آئینی ادارہ ہے۔ یہی مجلس سپریم لیڈر کی تقرری اور نگرانی کی مجاز ہے۔

اگرچہ موجودہ لیڈر کی رائے غیر رسمی طور پر اثرانداز ہو سکتی ہے، مگر حتمی فصلہ اسی مجلس کا ہوتا ہے۔ لہٰذا “نامزدگی” کو زیادہ درست معنوں میں ایک اشارہ یا داخلی مشاورت سمجھا جانا چاہے ، نہ کہ آئینی تقرری۔بہر حال، اگر یہ خبر مستند بھی ہو تو اسے طاقت کی منتقلی کی پیشگی منصوبہ بندی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے — ایک ایسا اقدام جس کا مقصد سیاسی استحکام کو یقینی بنانا اور داخلی خلفشار سے بچاؤ ہو سکتا ہے۔ مگر آئینی اعتبار سے فیصلہ بدستور مجلس خبرگان رهبری کے اختیار میں رہے گا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک ایران کے صرف دو سپریم لیڈر رہے ہیں : امام خمینی اور رھبر معظم سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ،تسر ی قیادت کا انتخاب ایرانی انقلابی نظام کے لئے ایک تاریخی مرحلہ ہوگا۔ یہ فیصلہ نہ صرف مذہبی اتھارٹی کے توازن کو متاثر کرے گا بلکہ فوجی و سیکیورٹی اداروں، خصوصاً اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب)، کے کردار کو بھی نئی جہت دے سکتا ہے۔

ایران کو وینزویلا سمجھنے کی غلطی کرنے والے خبط الحواس پالیسی ساز شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایرانی نظام ایک منظم، نظریاتی اور آئینی ڈھانچے پر قائم ہے۔ قیادت کی بحث کو سنسنی میں ڈھال کر پیش کرنا وقتی توجہ تو حاصل کر سکتا ہے، مگر زمینی حقائق اور آئینی پیچیدگیاں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے میں ضروری ہے کہ: خبر کے ماخذ کی تصدیق کی جائے،آئینی و ادارہ جاتی حقیقت کو سمجھا جائے،اور جذباتی ردعمل کے بجائے معروضی تجزیہ اختیار کیا جائے۔کوانکہ اطلاعات کے اس دور میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی — ذہنوں مںی بھی لڑی جاتی ہے، اور ایران اس محاذ پر بھی خود کو کمزور ثابت کرنے کے لے تیار نہیں؛ اس لئے کہ وہ ہتھیاروں کی قوت سے زیادہ اللہ کی ذات اور اس کی نصرت و امداد پر بھروسا رکھتا ہےلہذا اسے وینزویلا سمجھنے کی غلطی ہرگز نہ کی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha