عزاداریِ حسینی؛ احیائے دین، بقائے مکتبِ اہل بیتؑ اور بیداریِ امت کا راز!

حوزہ/ امام حسین علیہ السلام سے محبت درحقیقت محبتِ رسولِ خدا کا تسلسل اور محبتِ الٰہی کا ایک روشن مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں گزر جانے کے باوجود آج بھی کروڑوں دل رنگ و نسل، زبان و جغرافیہ کی تمام سرحدوں سے بالاتر ہو کر اس چراغِ ہدایت کے گرد جمع ہیں اور آپؑ کی محبت میں اپنی آنکھوں کو اشکبار اور اپنے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کرتے ہیں۔

تحریر: مولانا سید تقی رضا رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

’’فکرِ عاشورا، شعائرِ حسینی اور بیداریِ انسانیت کے تناظر میں ایک علمی، فکری اور اصلاحی مطالعہ‘‘

مقدمہ

عشقِ حسینؑ؛ فضلِ الٰہی کی ایک عظیم نعمت

عشقِ حسینؑ محض ایک جذباتی وابستگی یا تاریخی تعلق کا نام نہیں، بلکہ یہ فضلِ الٰہی، عطیۂ ربانی اور نعمتِ خداوندی کا ایک عظیم مظہر ہے۔ یہ وہ دولتِ بے بہا ہے جو نہ صرف عقل و استدلال کا نتیجہ ہے اور نہ ہی محض نسب و حسب کی میراث، بلکہ یہ پروردگارِ عالم کی ایک خاص عنایت ہے جسے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے:

﴿ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾

"یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔"

امام حسین علیہ السلام سے محبت درحقیقت محبتِ رسول ﷺ کا تسلسل اور محبتِ الٰہی کا ایک روشن مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں گزر جانے کے باوجود آج بھی کروڑوں دل رنگ و نسل، زبان و جغرافیہ کی تمام سرحدوں سے بالاتر ہو کر اس چراغِ ہدایت کے گرد جمع ہیں اور آپؑ کی محبت میں اپنی آنکھوں کو اشکبار اور اپنے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کرتے ہیں۔

پھر محرم آتا ہے اور نوائے حسینی کا ایک نیا شور برپا ہو جاتا ہے۔ محرم آتے ہی مردہ رگوں میں خون دوڑنے لگتا ہے، خشک آنکھوں سے اشکوں کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور عشقِ حسینؑ کی حیات بخش بارش دلوں کی بنجر زمینوں کو سیراب کرکے انہیں نئی زندگی عطا کرتی ہے۔ جب شورِ محرم برپا ہوتا ہے تو عقلیں حیرت میں ڈوب جاتی ہیں کہ آخر یہ کیسا عشق ہے جو چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی اسی طرح تازہ، زندہ اور مؤثر ہے؟

جب شہر سیاہ پوشِ عزا بنتے ہیں اور فضائیں ذکرِ حسینؑ سے معطر ہو جاتی ہیں تو بعض اذہان میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر ان عزاداریوں کا راز کیا ہے؟

ان کا فائدہ کیا ہے؟

اور امام حسین علیہ السلام کے غم میں اشک بہانے اور مجالسِ عزا برپا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

بلاشبہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کے اسباب، حکمتیں اور آثار بے شمار ہیں، جنہیں مختلف زاویوں سے بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر ان تمام فوائد میں سے کسی ایک حقیقت کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے تو وہ ’’احیائے دین، بقائے مکتبِ اہل بیتؑ اور بیداریِ امت‘‘ ہے۔

عزاداریِ ٔحسینی؛ محض سوگواری نہیں بلکہ ایک حیات آفریں تحریک

محرم کی عزاداری محض ایک رسمی سوگواری یا چند آنسو بہانے کا نام نہیں، بلکہ یہ آزادی، ایثار، ظلم ستیزی، حق طلبی اور انسانی اقدار کے تحفظ کی ایک دائمی تحریک ہے۔ یہی عزاداری شیعی تشخص کو استحکام بخشتی، امتِ اسلامی کے اتحاد کو مضبوط کرتی اور نسلوں کے امام حسینؑ سے قلبی و روحانی تعلق کے ذریعے امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور دفاعِ حق کی ثقافت کو زندہ رکھتی ہے۔

عاشورا کا احیاء درحقیقت اسلام اور تشیع کی بقا کا راز ہے، کیونکہ یہ ظلم اور انحراف کے خلاف قیام کے مکتب کو زندہ رکھتا ہے اور امت کو فکری، اعتقادی اور اخلاقی انحرافات سے محفوظ کرتا ہے۔ محرم کے عظیم اجتماعات نسل، زبان، قومیت اور طبقاتی تفریق سے بالاتر ہو کر اتحاد، اخوت اور یکجہتی کی بہترین مثال بن جاتے ہیں، جبکہ مجالسِ حسینی واقعۂ کربلا کے اخلاقی، دینی اور انسان ساز اسباق کی تعلیم و تربیت کا ایک عظیم مرکز ہیں۔ حقیقی عزاداری انسان کے اندر ایثار، عدل پسندی اور ظلم و ناانصافی کے خلاف مزاحمت کا جذبہ بیدار کرتی ہے۔

عزاداریِ ٔحسینی کا عظیم ترین ثمر

محرم کی عزاداریوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ واقعۂ کربلا کے پیغام، یعنی حق پر استقامت، ظلم کے خلاف قیام، ایثار، قربانی اور اعلیٰ انسانی و دینی اقدار کو زندہ رکھتی ہیں اور انہیں نسل در نسل منتقل کرتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عزاداریِ حسینی کا عظیم ترین ثمر یہی ہے کہ وہ مکتبِ حسینؑ کو زندہ رکھتی، حق و باطل کے درمیان حدِّ امتیاز قائم کرتی اور معاشرے میں ایثار، عدالت، آزادی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہے۔

عزاداریِ ٔحسینی؛ بقائے اسلام اور وحدتِ امت کا محور

ائمۂ اطہار علیہم السلام نے عزاداریِ حسینی کے انعقاد پر خصوصی تاکید فرما کر اسے امت کے اتحاد و انسجام کا ایک بنیادی محور قرار دیا۔ درحقیقت مجالسِ حسینی کے ذریعے منتشر قوتوں کو مجتمع کیا گیا، بکھرے ہوئے دلوں کو ایک مرکز پر جمع کیا گیا اور امت میں ایسی روح پھونکی گئی جس نے اسے اجتماعی قوت عطا کی۔

آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں انسان، طبقاتی، نسلی اور جغرافیائی تفریق سے بالاتر ہو کر پرچمِ حسینؑ کے زیر سایہ جمع ہوتے ہیں اور اس حقیقت کا اعلان کرتے ہیں کہ حسینؑ صرف ایک فرد یا ایک قوم کا نام نہیں، بلکہ ایک زندہ مکتب اور ایک ابدی پیغام کا عنوان ہیں۔

سیاسی و اجتماعی بیداری کا سرچشمہ

عزاداریِ حسینی کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے ہر دور میں امتِ مسلمہ کے اندر سیاسی، سماجی اور فکری بیداری پیدا کی ہے۔ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ ظلم و استبداد کے خلاف ایک دائمی اعلان اور حق و عدالت کے قیام کا ایک ابدی منشور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ائمۂ اطہار علیہم السلام نے عزاداریِ امام حسینؑ پر خصوصی تاکید فرما کر اسے امت کی بیداری، شعور اور اتحاد کا محور قرار دیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ محرم و صفر، بالخصوص تاسوعا اور عاشورا کے عظیم اجتماعات، ہمیشہ باطل اور طاغوتی قوتوں کے لیے خوف اور اضطراب کا سبب بنتے رہے ہیں۔ یہی وہ مجالس ہیں جنہوں نے سوئی ہوئی قوموں میں احساسِ ذمہ داری پیدا کیا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا اور انسانوں کو عزت و حریت کا سبق سکھایا۔

جرمن محقق "ماربین" اپنی ایک تصنیف میں لکھتا ہے:

"بعض مورخین کی ناواقفیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے شیعہ عزاداری کو جنون اور دیوانگی سے تعبیر کیا، حالانکہ یہ ایک بے بنیاد الزام ہے۔ ہم نے اقوامِ عالم میں شیعوں جیسی زندہ، بیدار اور پرجوش قوم نہیں دیکھی، کیونکہ شیعہ قوم عزاداریِ حسینی کے ذریعے نہایت حکیمانہ انداز میں اجتماعی اور سیاسی شعور پیدا کرتی ہے اور اسی کے نتیجے میں مؤثر مذہبی تحریکیں وجود میں آتی ہیں۔"

اسی مصنف کے بقول:

"مسلمانوں میں سیاسی شعور اور بیداری پیدا کرنے میں عزاداریِ حسینی سے بڑھ کر کوئی عامل مؤثر ثابت نہیں ہوا۔"

دشمنانِ اسلام کی مخالفت؛ عظمتِ عزاداری کا ایک ثبوت

اگر عزاداریِ ٔحسینی محض چند رسمی رسومات کا نام ہوتی تو دشمنانِ اسلام کبھی اس قدر پریشان نہ ہوتے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں باطل قوتوں نے روضۂ امام حسینؑ کو منہدم کرنے، زیارت پر پابندیاں لگانے، عزاداری کے خلاف پروپیگنڈے کرنے اور شعائرِ حسینی کو بے روح بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

کبھی اپنے داخلی ایجنٹوں کے ذریعے شیعوں پر ناروا الزامات لگائے گئے، کبھی رضا خان جیسے کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے عزاداری کے مراسم محدود کرنے کی کوشش کی گئی، اور کبھی ان مجالس کے فکری اور روحانی محتوا کو کمزور بنا کر انہیں محض رسوم و عادات تک محدود کرنے کی سازشیں کی گئیں۔

یہ تمام اقدامات اس حقیقت کے واضح گواہ ہیں کہ دشمنانِ دین اس عظیم روحانی، فکری اور اجتماعی قوت سے ہمیشہ خوف زدہ رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔

تحریکوں اور انقلابوں کے لیے سرچشمۂ الہام

حادثۂ کربلا کے بعد اسلامی تاریخ پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغامِ عاشورا اور مجالسِ حسینی نے ہر دور میں حق کے متوالوں، مجاہدوں اور ظلم و استبداد کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کے لیے مشعلِ راہ کا کردار ادا کیا ہے۔

انقلابِ اسلامی ایران کے دوران محرم و صفر، خصوصاً تاسوعا اور عاشورا کے عظیم اجتماعات نے طاغوتی قوتوں کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا تھا۔ اسی طرح عراق، پاکستان اور دیگر ممالک میں بھی دینی بیداری اور آزادی کی مختلف تحریکوں میں شعائرِ حسینی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

مجالسِ حسینی تاریخ کے ہر دور میں مظلوم، محروم اور ستم رسیدہ طبقات کے لیے ایک مضبوط پناہ گاہ اور امید کا سرچشمہ رہی ہیں۔

مکتبِ حسینؑ؛ تمام انسانیت کے لیے مشعلِ راہ

امام حسین علیہ السلام اور ان کی عظیم قربانی صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی نمونۂ عمل ہے۔ آپؑ کا پیغام حق، عدالت، عزت، آزادی اور ظلم کے خلاف قیام کا ایسا عالمگیر منشور ہے جو ہر دور اور ہر قوم کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

مہاتما گاندھی، رہبرِ تحریکِ آزادیِ ہند، کے معروف قول کے مطابق:

"میں نے امام حسینؑ کی زندگی کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر پوری توجہ کے ساتھ غور کیا ہے۔ مجھ پر یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ اگر ہندوستان کامیابی اور سربلندی چاہتا ہے تو اسے امام حسینؑ کے نقشِ قدم کی پیروی کرنا ہوگی۔"

یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کا نام صرف ایک مذہبی شخصیت کا نام نہیں، بلکہ آزادی، حریت، عزتِ نفس اور انسانی وقار کی ایک عالمگیر علامت ہے۔

ایک ضروری اصلاح

البتہ عزاداریِ حسینی کے یہ عظیم آثار اور ثمرات اسی وقت ظاہر ہوں گے جب نیتیں خالص ہوں، ریا، شہرت طلبی اور نمود و نمائش سے اجتناب کیا جائے، تخریبی رقابتوں کی جگہ تعمیری تعاون کو فروغ دیا جائے، اور مجالسِ حسینی کو اتحاد، معرفت، اخلاق، اخلاص اور اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بنایا جائے۔

اگر خدانخواستہ مجالسِ عزا تعصبات، گروہ بندیوں اور شخصی مفادات کا شکار ہو جائیں تو ان کے مطلوبہ نتائج کمزور پڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عزاداری کو اس کے حقیقی پیغام، یعنی معرفت، تقویٰ، اصلاحِ نفس، خدمتِ خلق، ظلم ستیزی اور بیداریِ امت کے ساتھ زندہ رکھا جائے۔

اختتامیہ

عدل کا قیام اور ظلم کے خلاف قیام کسی خاص قوم، نسل یا مذہب تک محدود نہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں انسانیت کو جو ابدی درس عطا فرمایا، وہ پوری نوعِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عزاداریِ حسینی محض ایک مذہبی رسم یا وقتی جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ احیائے دین، بقائے مکتبِ اہل بیتؑ، بیداریِ امت، اصلاحِ معاشرہ، تحفظِ انسانیت اور ظلم کے خلاف دائمی مقاومت کا نام ہے۔

یہی وہ چراغ ہے جسے ائمۂ اطہار علیہم السلام نے اپنے خونِ جگر سے روشن رکھا، یہی وہ امانت ہے جس نے مکتبِ اہل بیتؑ کو حیاتِ جاوداں عطا کی، اور یہی وہ سرچشمۂ فیض ہے جس سے ہر دور میں حریت پسند، عدالت خواہ اور حق کے متلاشی سیراب ہوتے رہے ہیں۔

جب تک دنیا میں ظلم کے خلاف نفرت، حق کے لیے قربانی اور انسانیت کے لیے محبت باقی ہے، تب تک کربلا زندہ رہے گی، حسینؑ زندہ رہیں گے، اور عزاداریِ حسینی احیائے دین، بقائے مکتبِ اہل بیتؑ اور بیداریِ امت کے راز کے طور پر اپنی نورانیت بکھیرتی رہے گی۔

’’سلام ہو حسینؑ پر، ان کے اہلِ بیتؑ پر، ان کے وفادار اصحاب پر، اور ان تمام نفوسِ قدسیہ پر جنہوں نے حق، عدل اور عزتِ انسانی کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے انسانیت کو حیاتِ جاوداں عطا کی۔‘‘

وہ جس کے سجدے نے باطل کا بھرم توڑدیا اسی حسینؑ سے زندہ ہے اعتبارِ حیات

چراغِ عشقِ حسینؑ اب بھی ضوفشاں ہے وہی اسی سے قائم و دائم ہے کاروانِ حیات

نہ بجھ سکے گا قیامت تلک یہ نورِ وفا

اسی چراغ سے روشن ہے کائناتِ حیات

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha