آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر — امریکہ و اسرائیل پر ایک اور کاری ضرب

حوزہ/ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایران ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ نئی قیادت کے ساتھ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی، جوہری مذاکرات اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو کس سمت میں لے جاتا ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی I مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ ایران میں قیادت کی تبدیلی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر سامنے آنا ایک ایسا واقعہ ہے جسے بعض حلقے ایران کی پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ مغربی دنیا اسے ایک نئی سیاسی و تزویراتی چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ایران کی اسلامی جمہوریہ میں سپریم لیڈر کا منصب سب سے بااختیار اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عہدہ نہ صرف ملک کی سیاسی سمت متعین کرتا ہے بلکہ دفاعی، سفارتی اور نظریاتی پالیسیوں کا بھی اصل مرکز ہوتا ہے۔ ایسے میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت اور پس منظر انہیں ایک مضبوط اور سخت گیر رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وہ برسوں سے ایران کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب سمیت اہم اداروں کے ساتھ ان کے قریبی روابط بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت کو ایران کے اسٹریٹجک نظریے کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے ایران کی جوہری پالیسی، علاقائی اثر و رسوخ اور مزاحمتی بلاک کی حمایت کو اپنے لیے خطرہ قرار دیتے آئے ہیں۔ لبنان، شام، عراق اور یمن میں ایران کے اتحادی گروہوں کی موجودگی بھی مغربی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ اس پس منظر میں مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر بننا بعض مبصرین کے نزدیک ان طاقتوں کے لیے ایک نئی آزمائش ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کے اندر اس تبدیلی کو انقلابِ اسلامی کے نظریے کے تسلسل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقے اسے قومی استحکام اور مزاحمت کی پالیسی کو مزید مضبوط بنانے کا موقع قرار دے رہے ہیں۔ ایران کے حامی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی قیادت کے ساتھ ملک اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور مغربی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی پالیسی کو جاری رکھے گا۔

دوسری جانب مغربی دنیا اور بعض ناقدین اس پیش رفت کو ایران کی سیاسی ساخت میں خاندانی اثر و رسوخ کے بڑھنے سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے اندر بھی مختلف سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایران کی سیاسی ساخت میں مذہبی قیادت کا کردار ہمیشہ مرکزی رہا ہے اور اسی نظام کے تحت قیادت کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایران ہمیشہ ایک کلیدی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ نئی قیادت کے ساتھ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی، جوہری مذاکرات اور خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو کس سمت میں لے جاتا ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

اگر تاریخ کو دیکھا جائے تو ایران نے ہمیشہ دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں میں مزاحمت اور خودمختاری کا عنصر برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی قیادت کو بعض حلقے امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک نئی "کاری ضرب" کے طور پر بھی پیش کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ تبدیلی صرف قیادت کی تبدیلی ہے یا مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز۔

امریکہ اور اسرائیل کو امید تھی کہ رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کسی حد تک سیاسی خلاء یا تعطل کا شکار ہو جائے گا اور قیادت کے سوال پر داخلی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن مجلسِ خبرگان کی جانب سے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو فوری طور پر نیا رہبر منتخب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ایران کا نظام نہ صرف مستحکم ہے بلکہ کسی بھی بحران میں تیزی سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اقدام نے ان طاقتوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جو ایران کو کمزور دیکھنا چاہتی تھیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی باوقار مذہبی و آئینی مجلس، مجلسِ خبرگان کی جانب سے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا رہبر مقرر کیے جانے پر ہم دلی خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ انتخاب نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک قابلِ فخر اور امید افزا لمحہ ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس اہم منصب کے لیے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ایران کی انقلابی و اسلامی اقدار کے تسلسل اور استحکام کی علامت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ان کی قیادت میں ایران اپنی خودمختاری، اسلامی اصولوں اور عالمی سطح پر حق و انصاف کے مؤقف کو مزید مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھائے گا۔

ہم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی خدمت میں اپنی جانب سے دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حکمت، بصیرت اور استقامت عطا فرمائے تاکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ترقی، استحکام اور اتحاد کی راہ پر کامیابی سے آگے لے جا سکیں۔

اسی کے ساتھ ہم ان کی قیادت پر اپنے اعتماد اور حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کی رہنمائی میں ایران امتِ مسلمہ کے اتحاد، عزت اور خودداری کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسلامی جمہوریہ ایران کو ہمیشہ امن، استحکام اور ترقی سے ہمکنار فرمائے اور امتِ مسلمہ کو اتحاد و اتفاق کی نعمت عطا کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha