تحریر: مولانا سید صفدر حسین زیدی مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام صدر امام بارگاہ جونپور ہندوستان
حوزہ نیوز ایجنسی I تاریخِ عالم میں بعض موڑ ایسے آتے ہیں جہاں باطل یہ گمان کرنے لگتا ہے کہ حق کی شمع گل ہونے والی ہے، لیکن قدرت کسی ایسی شخصیت کو میدانِ عمل میں اتارتی ہے جو دشمن کے تمام ارادوں اندازوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کے تسلسل میں آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای حفظہ الله کا بطور رہبر انتخاب اسی الٰہی سنت کا پرتو ہے، جو طاغوت کے لیے شکستِ فاش کا پیغام اور مستضعفینِ جہاں کے لیے نویدِ سحر ہے۔
انقلابی فکر کی وراثت اور جدید قیادت
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت محض ایک خانوادے تک محدود نہیں، بلکہ وہ اس مکتبِ فکر کے پروردہ ہیں جس کی بنیاد امام خمینیؒ نے رکھی اور جسے سید علی خامنہ ای نے اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ آپ کا انتخاب اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ رہبریتِ اسلامی کسی مصلحت کی محتاج نہیں بلکہ یہ علم، تقویٰ اور شجاعت کا وہ سنگم ہے جو وقت کے یزیدوں کو للکارنے کی ہمت رکھتا ہے۔
آپ کی آمد نے دشمن کے اس پروپیگنڈے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا کہ انقلاب کا چراغ مدہم پڑ جائے گا۔ آپ نے اپنی علمی بصیرت اور خاموش مگر پُراثر جدوجہد سے ثابت کیا کہ آپ اسی "جوان رہبر" کے سچے وارث ہیں جس نے شاہ کے تخت کو الٹ دیا تھا۔
طاغوت کی شکست کا نیا مرحلہ
عالمی استکبار اور صہیونی طاقتیں برسوں سے اس تاک میں تھیں کہ قیادت کی تبدیلی کے وقت ایران میں انتشار پھیلے گا۔ لیکن آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا اسی انقلابی نہج پر منتخب ہونا دشمن کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
بصیرت کاتسلسل۔
آپ کا انتخاب ثابت کرتا ہے کہ ایران کی پالیسیوں میں وہی استقامت برقرار رہے گی جو اسرائیل اور امریکہ کے ناپاک عزائم کے سامنے دیوارِ چین بن کر کھڑی ہے۔
نوجوان نسل کی نمائندگی۔ ایک نو منتخب اور جوان رہبر کی حیثیت سے آپ کی آمد، دنیا بھر کے مسلم نوجوانوں کے لیے ایک نئی روح پھونکنے کے مترادف ہے، جو طاغوتی نظامِ معیشت و سیاست سے بیزار ہیں۔
امامت کا تسلسل اور عالمی پیغام
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ سفر اسی راستے کا تسلسل ہے جس پر چل کر حزب اللہ، حماس اور دیگر مزاحمتی تحریکوں نے جنم لیا۔ آپ کی قیادت میں یہ کارواں اب مزید تیزی سے اپنی منزلِ مقصود یعنی "ظہورِ مہدیؑ" کی جانب گامزن ہوگا۔ یہ انتخاب دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ
"حق کا پرچم گرنے نہیں پائے گا، چاہے باطل کتنا ہی بھیس بدل کر کیوں نہ آئے"
حاصلِ کلام
سید مجتبیٰ خامنہ ای کی رہبریت کا آغاز درحقیقت طاغوت کی اس آخری امید کی موت ہے جو وہ انقلاب کے خاتمے سے وابستہ کیے ہوئے تھا۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں جوان عزم اور قدیم بصیرت مل کر عالمی استبداد کے بتوں کو پاش پاش کر دیں گے۔









آپ کا تبصرہ