حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تارا گڑھ اجمیر میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اعلیٰ اللّہ مقامہ کی شہادت کے پر تین روزہ سوگ اور امام بارگاہ آل ابو طالب علیہ السّلام میں "رہبر شھید" کے عنوان سے تین دن مجالسِ عزاء و جلوس کا انعقاد کیا گیا، ان مجالس کو امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے خطاب فرمایا جس میں مؤمنین و مؤمنات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ: رہبر نے محفوظ پناہ گاہ میں پناہ کیوں نہ لی؟ آج بعض تجزیہ نگار مادی اور دنیاوی اصولوں کی روشنی میں یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر رہبر کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا جاتا تو شاید وہ شہادت سے محفوظ رہتے۔ بعض حلقے اس واقعے کو سیکیورٹی کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں اور اسے محض حفاظتی تدابیر کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ لیکن درحقیقت دنیاوی اور الٰہی قیادت میں بنیادی فرق یہی ہے۔ دنیا کے اکثر سیاسی رہنما سب سے پہلے اپنی جان، مال، اولاد اور اقتدار کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہیں، پھر قوم اور نظریے کی بات کرتے ہیں۔ اسی زاویۂ نگاہ سے جب کسی الٰہی رہبر کا تجزیہ بھی ان کی طرف سےکیا جاتا ہے تو نتیجہ بھی محض مادی معیار پر مبنی ہوتا ہے۔ البتہ الٰہی رہبروں کے پیش نظر سب سے اہم چیز ان کا مقصد، ہدف اور نصب العین ہوتا ہے۔ وہ جس مشن کے لیے قیام کرتے ہیں، اس کی خاطر اپنی جان، اولاد اور ہر متاع کو قربان کرنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔ بلکہ شہادت کو اپنے عہد کی تکمیل اور اپنے ایمان کی تصدیق سمجھتے ہیں۔
رہبرِ انقلاب نے اپنی جوانی کے آغاز ہی سے اسلامی بیداری اور عالمی اسلامی تحریک کے احیا کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ ان کے افکار و نظریات واضح، ہمہ گیر اور استکباری نظام کے خلاف دوٹوک تھے۔ شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد ہو یا عالمی استکبار، بالخصوص صہیونی نظام کے خلاف مزاحمت۔انہوں نے ہمیشہ استقامت کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ: شدید خطرات کے پیش نظر انہیں محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا، مگر انہوں نے کہا: "اگر آپ ملک کے کروڑوں عوام کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکتے ہیں تو پھر میں بھی منتقل ہو جاؤں گا؛ بصورتِ دیگر میرا مقام وہیں ہے جہاں میرے عوام ہیں۔"
یہ جملہ محض جذباتی بیان نہیں بلکہ ان کی فکری اساس کی ترجمانی ہے۔ ان کے نزدیک قیادت کا تقاضا یہ تھا کہ رہبر خطرے کی گھڑی میں عوام کے درمیان رہے، نہ کہ خود کو محفوظ حصار میں محصور کر لے۔
حجۃ الاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: یہی وہ فرق ہے جو ایک عام سیاسی قائد اور ایک نظریاتی و الٰہی رہبر میں امتیاز قائم کرتا ہے۔ جب مقصد ذاتی بقا نہیں بلکہ ایک الٰہی مشن ہو، تو پناہ گاہوں سے زیادہ اہم عوام کا اعتماد اور نظریے کی سچائی ہوتی ہے۔
امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے استاد رحیم پور ازغدی کا بیان نقل کرتے ہوئے کہا کہ: استاد رحیم پور ازغدی اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں کچھ عرصہ پہلے شہید آیت اللہ خامنہ ای کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، میں نے ان سے کہا کہ جب امام (خمینی) زندہ تھے، تو امام خمینی کے بغیر انقلاب کا تصور کرنے کی ہماری ہمت نہیں ہوتی تھی۔ ہم ڈرتے تھے ایسا سوچنے سے بھی۔ کہ ایک دن آئے جس میں ہم زندہ ہوں اور امام خمینی نہ ہوں۔
استاد رحیم پور ازغدی کہتے ہیں کہ میں نے سادگی اور جرأت سے کام لیتے ہوئے رہبر معظم سے کہا کہ اب بھی ہمیں فکر ہے کہ آپ کے بعد اس انقلاب کا کیا بنے گا۔
رہبر معظم انقلاب نے فرمایا: "جس اللہ نے امام (خمینی) کے بعد انقلاب کو آگے بڑھایا، وہی ہمارے بعد بھی اسے آگے بڑھائے گا اور وقت آنے پر مجھ سے بہتر انسان لائے گا۔ جب وقت آئے گا، وہ لائے گا۔ یہ انقلاب ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے"۔
رہبر معظم انقلاب نے مزید بتایا کہ ایک بار میں نے امام (خمینی) سے خطرات اور دھمکیوں کے بارے میں بات کی تو امام نے فرمایا:"اس انقلاب میں، میں بھی کچھ نہیں ہوں ۔ کوئی بھی کچھ نہیں ہے۔ اس انقلاب کی رہنمائی اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ ہی اسے چلا رہا ہے۔ جب تک لوگ اللہ کے ساتھ رہیں گے، اللہ ان لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا"۔
امام جمعہ تارا گڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: اِسلامی انقلاب کی آبیاری کرنے والا، مزاحمت و استقامت کا وہ مُجسّم استعارہ، جو عہدِ حاضر کے طاغوت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا رہا! وہ بُوڑھا شیر مقتل میں بھی پوری قامت کے ساتھ کھڑا رہا، اور جب جام شہادت نوش کیا تو تنہا نہیں کیا، بلکہ اپنی آل و اولاد کی قربانیاں دے گئے۔ ان کا بدن زخموں سے چُور تھا اور اپنے نظریات کی گواہی انہوں نے اپنے لہو سے تحریر کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ: شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنے پیشوا، امامِ مظلوم حضرت حسین ابن علی علیھما السلام سے کئی پہلُوؤں میں مشابہ ٹھہرے۔ دونوں نے آخری سانس تک میدانِ حق میں استقامت دکھائی، دونوں نے آخری دم تک ذلت کو قبول نہ کیا، اور دونوں کی شہادت پر ان کے زمانے کے طاغوت، دُشمنانِ انسانیت اور اس کے اتحادیوں نے جشن منایا۔ اور بے شک یہی امر ان کی بلندیٔ مرتبہ کی سب سے روشن دلیل ہے۔
خطیب مجلس نے کہا کہ: آنکھیں اشک بار ہیں آنسو ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے، سینے میں غم و اندوہ کا ایک طوفان ہے جو پھٹ رہا ہے، اضطراب ہے کہ کم نہیں ہو رہا۔
آہ! یہ اُمّت اپنے ایک باپ، ایک راہبر اور ایک علمبردار سے محروم ہو گئی ہے۔









آپ کا تبصرہ