حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن آیت اللہ محسن اراکی نے ایک پیغام میں آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہای کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا: “امت کے امام اور ملت کے عظیم شہید، حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہای کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ اور عظیم نقصان ہے۔ میں اس مصیبت پر حضرت ولیِ عصرؑ کی خدمت میں ایران کے عوام، عالمِ اسلام اور دنیا بھر کے تمام مظلوموں کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا: حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہای کو حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہای کے جانشین کے طور پر منتخب کیا جانا ایک اہم اور بابرکت فیصلہ ہے۔ میں اس انتخاب پر ایرانی قوم، عالم اسلام، مزاحمتی محاذ اور تمام مستضعفین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
مجلس خبرگان کے رکن نے کہا: الحمدللہ حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کا منصبِ ولایتِ امر پر انتخاب مجلس خبرگان کی گہری تحقیق، باریک بینی اور دور اندیشی کے بعد انجام پایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: بیشک، اس اہم ذمہ داری کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور صالح شخصیت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای ہیں۔
آیت اللہ اراکی نے کہا: کافی عرصے سے مجلس خبرگان اس بات پر غور کر رہی تھی کہ اسلامی معاشرے کی قیادت کون سنبھال سکتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ شخصیات میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ بعض افراد وفات پا جاتے ہیں یا شہید ہو جاتے ہیں، اس لیے قیادت کے لیے سب سے زیادہ صالح شخصیت کی شناخت کا عمل بھی وقت کے ساتھ نئے نتائج تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام کی میدان میں موجودگی اور اسلامی معاشرے کے لیے اس قیادت کا انتخاب دراصل الٰہی ہدایت اور امام زمانؑ کی عنایت سے ممکن ہوا ہے۔ دشمن بھی سمجھ چکا ہے کہ ایرانی قوم کے امور کی پشت پر ایک ماورائی قوت موجود ہے۔ اسی لیے امریکہ کا وزیر خارجہ کہتا ہے کہ "ایران کے ساتھ ہماری اصل جنگ امام زمانؑ کے ساتھ جنگ ہے"، اور یقیناً حقیقت بھی یہی ہے۔
مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن نے آخر میں کہا: اس میں کوئی شک نہیں کہ ایرانی قوم ایک مہدوی قوم ہے؛ یہ قوم محمدی، علوی، فاطمی، حسنی، حسینی اور مہدوی اقدار کی حامل ہے۔ یہی الٰہی شعور اور ایمان قوم کی رہنمائی کرتا ہے اور عوام کو استحکام، اتحاد اور فولادی ارادہ عطا کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ