حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی معروف مفسرِ قرآن حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی نے حرمِ امام رضاؑ کے رواقِ امام خمینیؒ میں "قائدِ امت" حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی مناسبت سے منعقدہ مجلسِ عزا میں زائرین اور مجاورین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قرآن کریم کی بعض مختصر آیات کی طرف اشارہ کیا جو موجودہ معاشرتی حالات پر بھی منطبق ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا: قرآن میں بعض اوقات دو یا تین الفاظ پر مشتمل مختصر آیات آتی ہیں مگر ان میں بہت گہرا پیغام ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے نکل کر غار میں پناہ لینے گئے تو دشمن غار کے دہانے تک پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھی کو تشویش ہوئی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “اِنَّ مَعِیَ رَبِّی” یعنی میرا رب میرے ساتھ ہے۔
حجت الاسلام محسن قرائتی نے مزید کہا: تاریخ اسلامی میں نقل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے جالے کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت چھوٹے اور سادہ وسیلوں کے ذریعے بھی عظیم کام انجام دے سکتا ہے۔
انہوں نے قرآن کی ایک اور مثال بیان کرتے ہوئے حضرت آدمؑ کے بیٹوں کے واقعے کا ذکر کیا اور کہا: جب ایک بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی لاش کے ساتھ کیا کرے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جس نے زمین کھود کر اسے دفن کرنے کا طریقہ سکھایا۔ یہ بھی اس بات کی مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ سادہ ترین مخلوقات کے ذریعے انسان کو تعلیم دیتا ہے۔
حجت الاسلام قرائتی نے حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حضرت سلیمانؑ جو ایک نبی اور بادشاہ تھے، ہُدہد پرندے کے ذریعے سرزمینِ سبا اور وہاں ایک عورت کی حکمرانی کے بارے میں آگاہ ہوئے۔ پھر انہوں نے اس سرزمین کے لوگوں کو توحید کی دعوت دینے کے لیے خط بھیجا اور اس بات پر زور دیا کہ اصل مقصد لوگوں کو خدا کی عبادت کی طرف بلانا ہے، نہ کہ دنیاوی اور مادی امور۔









آپ کا تبصرہ