جمعہ 20 فروری 2026 - 11:51
قناعت کے ذریعے انسان ذلت، قرض اور اخلاقی سقوط سے محفوظ رہتا ہے

حوزہ/ تہران کی مسجد حضرت امیر(ع) میں ماہِ مبارک رمضان کی پہلی شب خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام حسین انصاریان نے کہا کہ قناعت انسان کو ذلت، قرض داری اور اخلاقی سقوط سے محفوظ رکھتی ہے، جبکہ حرص و طمع انسان کو ذلت و خواری کی طرف لے جاتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کی مسجد حضرت امیر(ع) میں ماہِ مبارک رمضان کی پہلی شب خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام حسین انصاریان نے کہا کہ قناعت انسان کو ذلت، قرض داری اور اخلاقی سقوط سے محفوظ رکھتی ہے، جبکہ حرص و طمع انسان کو ذلت و خواری کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے انبیاء اور اولیائے الٰہی کی سیرت کو نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی عزت سادہ اور باوقار زندگی میں ہے۔

انہوں نے مرحوم آیت‌الله العظمی اراکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ زہد، تقویٰ اور علم و عمل کی روشن مثال تھے اور نصف صدی تک حوزہ علمیہ قم کے اکابر علماء ان کی اقتدا میں نماز ادا کرتے رہے، جو ان کی عدالت اور تقویٰ کا واضح ثبوت ہے۔

حجۃ الاسلام انصاریان نے ایک زاہد عالم آخوند ملا محمد کبیر کا واقعہ نقل کیا جو استحقاق کے باوجود “سہمِ امام” لینے سے گریز کرتے اور کاشتکاری کے ذریعے قناعت کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہی طرزِ عمل انسان کو محتاجی سے بچاتا ہے۔

انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا “عفاف و کفاف” کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ عفاف گناہ سے حفاظت اور کفاف ایسی معیشت ہے جس میں انسان دوسروں کا محتاج نہ ہو۔ اسی طرح انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کی سادہ حکومتی زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے بیت المال کو ذاتی مصرف میں استعمال نہیں کیا اور ہمیشہ عدل و احتیاط کو مقدم رکھا۔

انہوں نے قرآن کریم کو زندہ حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح قرآن نے ایک زاہد کی دعا سے آگ کو بجھا دیا، اسی طرح یہ تکبر، حسد اور ریا کی آگ کو بھی خاموش کر سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے روزے کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حدیث کے مطابق “الصوم لی و انا اجزی بہ” روزہ اللہ کے لیے ہے اور اس کا اجر وہ خود عطا فرماتا ہے، جو اس عبادت کی بے مثال اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha