جمعرات 8 جنوری 2026 - 15:24
ایمان و عمل صالح معاشرے کی نجات کا ذریعہ ہیں/ قرآن فکری و اخلاقی بیماریوں کا علاج ہے

حوزہ/ ایران کے مشہور شیعہ عالم دین حجت الاسلام حسین انصاریان نے ایمان اور عمل صالح کے باہمی ربط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں معاشرے کی نجات اور پرواز کے لیے دو پروں کے مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن فکری، اخلاقی اور عملی بیماریوں کا مکمل علاج ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے مشہور شیعہ عالم دین حجت الاسلام حسین انصاریان نے ایمان اور عمل صالح کے باہمی ربط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں معاشرے کی نجات اور پرواز کے لیے دو پروں کے مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن فکری، اخلاقی اور عملی بیماریوں کا مکمل علاج ہے۔

انہوں نے کہا کہ سورہ بقرہ سے لے کر قرآن کے آخری پارے تک خداوند متعال نے بار بار ایمان اور عمل صالح پر زور دیا ہے۔ ایمان بغیر عمل کے بے سود ہے اور عمل بغیر ایمان کے بے ثمر

انصاریان نے کہا: "اگر معاشرے کا ایک چھوٹا سا طبقہ بھی ان اصولوں پر عمل کرے تو اس کا نتیجہ پورے معاشرے پر موسم بہار کی طرح نہیں ہوگا۔ ایمان و عمل کا فائدہ صرف انہی افراد تک محدود رہے گا اور اقلیت کی محنت سے پوری قوم کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔"

انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ۹۵۰ سال تک نبوت دے کر بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو فکری، اخلاقی اور عملی بیماریوں سے نجات دلائیں۔ ان بیماریوں میں بری سوچ، بدنیّتی، بخل، ظلم اور برے اعمال شامل ہیں۔

حجۃالاسلام انصاریان نے واضح کیا: "ان بیماریوں کا علاج قرآن کریم ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب تک دنیا میں ہو، اپنا علاج خود کرو۔ قرآن کہتا ہے: وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءࣱ وَرَحۡمَةࣱ لِّلۡمُؤۡمِنِينَۙ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارࣰا - ’ہم قرآن سے وہ نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔‘" (آیه 82 سوره اسراء)

انہوں نے تنبیہ کی کہ صرف قرآن کا گھر میں ہونا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل ضروری ہے۔ "اگر کوئی شخص بری سوچ، بدنیّتی اور برے عمل میں مبتلا ہے تو محض خوبصورت قرآن رکھنے سے اس کا علاج نہیں ہوگا۔"

انصاریان نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے جنتی ہونے کی چھ شرائط گنوائیں: سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا، نظر کی حفاظت کرنا، پاکدامنی اختیار کرنا، اور ظلم و شر سے پرہیز کرنا۔

انہوں نے معاشرے میں احتکار اور خلف وعده پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حرام مال سے زندگی درست نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ نماز بھی اگر اخلاق اور رحمدلی پر اثر نہ کرے تو قبول نہیں ہوتی۔

آخر میں استاد انصاریان نے تاکید کی: "جو معاشرہ ایمان کے بغیر عمل یا عمل کے بغیر ایمان رکھتا ہے، نہ دنیا میں سکون پاتا ہے نہ آخرت میں نجات۔ قرآن ہدایت کا مکمل نسخہ ہے، مگر یہ تبھی مؤثر ہوگا جب دل سے قبول کیا جائے اور عمل میں لایا جائے۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha