جمعہ 23 جنوری 2026 - 12:38
فطرس کا امام حُسین (ع) کے جھولے سے شفاء پانے کا واقعہ

حوزہ/جب فطرس نے اپنا ٹوٹا ہوا پر امام حسین (ع) کی طرف بڑھایا تو وہ شفاء یاب ہو گیا اور ہوا میں اڑ گیا اور عرض کیا: یا رسول الله! آپ کے حسین (ع)کی زیارت کرنے والے ہر زائر کی زیارت، سلام کرنے والے کا سلام اور جو ان کی ولادت پر مبارکباد دے گا وہ میں امام حسین کی خدمت میں پیش کرتا رہوں گا؛ یہ کہہ کر فطرس آسمان کی طرف اڑ گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی؛ حضرتِ سید الشہداء ابا عبداللہ الحسین علیہ السّلام کے یومِ ولادت کے موقع پر "امام حسین علیہ السّلام کے جھولے کی برکت سے فطرس ملک کی شفاء یابی“ کا واقعہ پیش خدمت ہے۔

«عَنْ إِبْرَاهِیمَ بْنِ شُعَیْبٍ الْمِیثَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع یَقُولُ إِنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ع لَمَّا وُلِدَ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ جَبْرَئِیلَ ع أَنْ یَهْبِطَ فِی أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَةِ فَیُهَنِّئَ رَسُولَ اللَّهِ ص مِنَ اللَّهِ وَ مِنْ جَبْرَئِیلَ ع قَالَ وَ کَانَ مَهْبِطُ جَبْرَئِیلَ ع عَلَی جَزِیرَةٍ فِی الْبَحْرِ فِیهَا مَلَکٌ یُقَالُ لَهُ فُطْرُسُ کَانَ مِنَ الْحَمَلَةِ فَبُعِثَ فِی شَیْ‌ءٍ فَأَبْطَأَ فِیهِ فَکُسِرَ جَنَاحُهُ وَ أُلْقِیَ فِی تِلْکَ الْجَزِیرَةِ یَعْبُدُ اللَّهَ فِیهَا سِتَّمِائَةِ عَامٍ حَتَّی وُلِدَ الْحُسَیْنُ ع فَقَالَ الْمَلَکُ لِجَبْرَئِیلَ ع أَیْنَ تُرِیدُ- قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی أَنْعَمَ عَلَی مُحَمَّدٍ ص بِنِعْمَةٍ فَبُعِثْتُ أُهَنِّئُهُ مِنَ اللَّهِ وَ مِنِّی فَقَالَ یَا جَبْرَئِیلُ احْمِلْنِی مَعَکَ لَعَلَّ مُحَمَّداً ص یَدْعُو اللَّهَ لِی قَالَ فَحَمَلَهُ فَلَمَّا دَخَلَ جَبْرَئِیلُ عَلَی النَّبِیِّ ص وَ هَنَّأَهُ مِنَ اللَّهِ وَ هَنَّأَهُ مِنْهُ وَ أَخْبَرَهُ بِحَالِ فُطْرُسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص یَا جَبْرَئِیلُ أَدْخِلْهُ فَلَمَّا أَدْخَلَهُ أَخْبَرَ فُطْرُسُ النَّبِیَّ ص بِحَالِهِ فَدَعَا لَهُ النَّبِیُّ ص وَ قَالَ لَهُ تَمَسَّحْ بِهَذَا الْمَوْلُودِ وَ عُدْ إِلَی مَکَانِکَ قَالَ فَتَمَسَّحَ فُطْرُسُ بِالْحُسَیْنِ ع وَ ارْتَفَعَ وَ قَالَ یَا رَسُولَ اللَّهِ ص أَمَا إِنَّ أُمَّتَکَ سَتَقْتُلُهُ- وَ لَهُ عَلَیَّ مُکَافَاةُ أَنْ لَا یَزُورَهُ زَائِرٌ إِلَّا بَلَّغْتُهُ عَنْهُ وَ لَا یُسَلِّمَ عَلَیْهِ مُسَلِّمٌ إِلَّا بَلَّغْتُهُ سَلَامَهُ وَ لَا یُصَلِّیَ عَلَیْهِ مُصَلٍّ إِلَّا بَلَّغْتُهُ عَلَیْهِ صَلَاتَهُ قَالَ ثُمَّ ارْتَفَعَ.»

ابراہیم بن شعیب میثمی سے منقول ہے:

میں نے امام صادق علیہ السّلام کو فرماتے ہوئے سنا: جب حسین بن علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو خداوند متعال نے جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ زمین پر اتریں اور خدا اور اپنی طرف سے رسولِ خدا (ص) کو مبارکباد دیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام جس جگہ اترے وہ سمندر کے بیچ میں ایک جزیرہ تھا اور اس جزیرے پر ایک فرشتہ جس کا نام فطرس تھا جو آسمانی فرشتوں میں شمار ہوتا تھا، خدا نے اسے کسی کام سے بھیجا اور جب اس نے کام میں سستی کا مظاہرہ کیا تو اس کا پر ٹوٹ گیا اور وہ اس جزیرے پر گر گیا اور چھ سو سال تک خدا کی عبادت کرتا رہا یہاں تک کہ حسین بن علی (ع) کی ولادت ہوئی۔

بہر حال، فطرس نے جبرائیل علیہ السّلام سے پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل کو ایک نعمت عطا کی ہے اور مجھے ان کے پاس بھیجا ہے، تاکہ میں خدا اور اپنی طرف سے مبارکباد پیش کروں اور اب میں آنحضرت کی بابرکت بارگاہ میں جا رہا ہوں۔

فطرس نے عرض کیا: اے جبرائیل مُجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں، شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اہل خانہ میرے لیے دعا کریں۔

امام صادق علیہ السّلام نے فرمایا: جبرائیل اپنے ساتھ فطرس کو لے گئے اور جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر پہنچے تو فطرس کو باہر چھوڑ دیا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آنحضرت کی خدمت میں خدا اور اپنی طرف سے مبارکباد دی اور پھر فطرس کے حال سے آگاہ کیا۔

حضرت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل، اسے اندر لے آؤ، جبرائیل اسے اندر لے آئے اور فطرس نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنا حال بیان کیا۔

پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی اور فرمایا: ”اپنا ٹوٹا ہوا پر اس نومولود بچے کی طرف بڑھاؤ اور اپنی جگہ لوٹ جاؤ۔

امام صادق علیہ السّلام نے فرمایا: فطرس نے اپنا ٹوٹا ہوا پر امام حُسین علیہ السّلام کی طرف بڑھایا اور وہ تندرست ہو کر ہوا میں اڑ گیا اور عرض کیا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ یقینی ہے کہ آپ کی امت عنقریب اس بچے کو قتل کر دے گی اور اس بچے کے مجھ پر جو حق ہے اس کے بدلے میں مجھ پر واجب ہے کہ میں ہر اس زائر کی زیارت کو امام حسین تک پہنچاؤں گا جو آنحضرت کی زیارت کرے گا، ان پر سلام کرنے والے کا سلام آنحضرت تک پہنچاؤں گا اور ہر اس شخص کی مبارکبادی کو آنحضرت تک پہنچاؤں گا جو ان کی ولادت پر پیش کرے گا؛ فطرس یہ کہہ کر آسمان کی طرف اڑ گیا۔

ماخذ: کامل الزیارات، صفحہ 66

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha