کربلا؛ تجلی گاہِ عشقِ الٰہی اور امام حسینؑ؛ عشقِ الٰہی کی معراجِ کامل

حوزہ/واقعۂ کربلا بھی ایسا ہی ایک عظیم اور جاوداں واقعہ ہے جس کی معنویت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ کربلا صرف ایک جنگ کا نام نہیں، نہ یہ محض ایک سیاسی یا سماجی تحریک تھی، بلکہ یہ عشقِ الٰہی کی وہ عظیم تجلی گاہ ہے جہاں بندگی اپنے کمال کو پہنچی، وفا نے معراج پائی اور انسانیت نے اپنے حقیقی وقار کا مشاہدہ کیا۔

تحریر:مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

مقدمہ

تاریخِ انسانیت میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک زمانے یا ایک قوم تک محدود نہیں رہتے بلکہ حق و باطل، وفا و جفا، ایثار و خود غرضی اور عشق و عقل کے درمیان ایک ابدی معیار بن جاتے ہیں۔

واقعۂ کربلا بھی ایسا ہی ایک عظیم اور جاوداں واقعہ ہے جس کی معنویت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ کربلا صرف ایک جنگ کا نام نہیں، نہ یہ محض ایک سیاسی یا سماجی تحریک تھی، بلکہ یہ عشقِ الٰہی کی وہ عظیم تجلی گاہ ہے جہاں بندگی اپنے کمال کو پہنچی، وفا نے معراج پائی اور انسانیت نے اپنے حقیقی وقار کا مشاہدہ کیا۔

اگر کربلا کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو وہ لفظ "عشق" ہے؛ ایسا عشق جو ہر مصلحت، ہر منفعت اور ہر تعلق سے بلند ہو کر صرف رضائے الٰہی کا طالب ہو۔ یہی عشق حضرت ابراہیمؑ کو آتشِ نمرود میں لے گیا، یہی عشق حضرت اسماعیلؑ کو قربان گاہ تک لے آیا، یہی عشق رسولِ اکرم ﷺ کو طائف کی سنگ باریوں اور شعبِ ابی طالب کی صعوبتوں میں ثابت قدم رکھتا رہا، اور یہی عشق اپنے کامل ترین اور درخشاں ترین جلوے کے ساتھ سرزمینِ کربلا میں امام حسینؑ کی صورت میں جلوہ گر ہوا۔

بقول شاعر علامہ اقبال؎

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم نہایت اس کی حسینؑ، ابتدا ہے اسماعیلؑ

امام حسینؑ کی پوری زندگی عشقِ خدا، معرفتِ الٰہی اور رضائے پروردگار کی عملی تفسیر ہے۔ آپؑ نے اپنے قول و عمل سے ثابت کیا کہ بندگی کا کمال صرف عبادت اور ریاضت میں نہیں بلکہ خدا کی رضا کے لیے اپنی عزیز ترین متاع کو قربان کر دینے میں ہے۔ چنانچہ جب دینِ خدا کو خطرات لاحق ہوئے، جب اسلامی اقدار کو مسخ کیا جانے لگا اور جب یزیدی نظام نے دینِ محمدی ﷺ کی روح کو پامال کرنے کی کوشش کی، تو امام حسینؑ نے اپنی جان، اپنے اہلِ بیتؑ، اپنے اصحاب اور اپنی تمام ہستی کو راہِ خدا میں پیش کر دیا، مگر باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔

کربلا درحقیقت عشقِ الٰہی کا وہ آفتاب ہے جس کی کرنیں رہتی دنیا تک انسانیت کو حرارتِ ایمان، روشنیِ ہدایت اور قوتِ استقامت عطا کرتی رہیں گی۔ اس سرزمین پر امام حسینؑ نے اپنے خونِ مقدس سے یہ حقیقت ثبت کر دی کہ جب دل خدا کی محبت سے لبریز ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت، کوئی خوف اور کوئی آزمائش انسان کو حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔

زیرِ نظر مضمون میں امام حسینؑ کی حیاتِ مبارکہ کے ان پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا جو آپؑ کے عشقِ الٰہی، رضائے پروردگار، ایثار و وفا اور شوقِ وصالِ محبوب کی آئینہ داری کرتے ہیں۔ اس سفر میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح امام حسینؑ نے عشقِ خدا کی ایسی معراج حاصل کی جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ اور سالکانِ راہِ حق کے لیے سرچشمۂ الہام بنی رہے گی۔

امام حسینؑ؛ عشقِ الٰہی کی معراجِ کامل

تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو زمانے کے دھارے میں بہنے کے بجائے زمانے کا رخ متعین کرتی ہیں۔ وہ صرف اپنے عہد کی نہیں بلکہ تمام نسلوں کی رہنما بن جاتی ہیں۔ حضرت امام حسینؑ انہی عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کی حیاتِ طیبہ عشقِ الٰہی، بندگیِ خدا، ایثار، وفا اور رضائے پروردگار کی روشن ترین تفسیر ہے۔ اگر عشقِ خدا کی کوئی عملی تصویر دیکھی جا سکتی ہے تو وہ کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں امام حسینؑ اور ان کے باوفا ساتھیوں کی صورت میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔

کربلا محض ایک تاریخی سانحہ نہیں، بلکہ عشقِ الٰہی کی وہ عظیم درسگاہ ہے جہاں ایک بندۂ کامل نے اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنی جان، اپنے اہلِ بیتؑ، اپنے اصحاب اور اپنی تمام متاعِ حیات قربان کر کے یہ ثابت کر دیا کہ محبتِ خدا کا دعویٰ زبان سے نہیں بلکہ قربانی، وفا اور کامل سپردگی سے سچا ثابت ہوتا ہے۔

عشقِ الٰہی کی حقیقت

عشقِ الٰہی وہ مقدس جذبہ ہے جو بندے کے دل کو اپنے خالق کی محبت سے اس طرح بھر دیتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات، ترجیحات اور آرزوئیں رضائے خدا کے تابع ہو جاتی ہیں۔ جب دل میں محبتِ الٰہی راسخ ہو جائے تو دنیا کی چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے اور بندہ ہر حال میں اپنے رب کی رضا اور قرب کا طالب بن جاتا ہے۔ یہی عشق انسان کو ایثار، قربانی، صبر، وفا اور بندگی کے اعلیٰ ترین مقامات تک پہنچاتا ہے، اور امام حسینؑ کی حیاتِ طیبہ اسی عشقِ الٰہی کی کامل ترین تفسیر ہے۔

لیکن بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام حسینؑ نے کس طرح دنیا اور اس کی تمام دلکشیوں سے منہ موڑ لیا اور اپنی ہر چیز راہِ خدا میں قربان کر دی؟ اس سوال کا جواب عشقِ الٰہی کی حقیقت میں پوشیدہ ہے۔

دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں، آسائشوں اور لذتوں کے باوجود فانی اور محدود ہے، جبکہ خدا اور اس پر ایمان کی لذت ابدی اور لا محدود ہے۔ جو شخص ایمان کی حلاوت چکھ لیتا ہے، اس کے لیے دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی اپنی کشش کھو دیتی ہے۔

جیسے شہد اور حلوہ دونوں میٹھے ہوتے ہیں، لیکن جو شخص پہلے شہد کی خالص مٹھاس چکھ لے، اس کے بعد حلوے کی مٹھاس اسے غیر معمولی محسوس نہیں ہوتی۔ اسی طرح دنیا اگرچہ بظاہر شیریں ہے، لیکن خدا اور ایمان کی مٹھاس اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ جو دل محبتِ الٰہی سے سرشار ہو جائے، اس کے نزدیک دنیا کی تمام لذتیں ہیچ ہو جاتی ہیں۔

امام حسینؑ اسی مقامِ معرفت و محبت پر فائز تھے۔ آپؑ نے خدا کو پہچانا، اس کی محبت کو اپنے دل میں بسایا اور اس کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب دینِ خدا خطرے میں پڑا تو آپؑ نے دنیا کے تمام مفادات، آرام و آسائش اور یہاں تک کہ اپنی جان اور اپنے اہلِ بیتؑ کی قربانی دینے میں بھی ذرہ برابر تامل نہ کیا۔

مدینہ سے کربلا تک؛ عشقِ خدا کے سفر کا آغاز

جب امام حسینؑ نے مدینہ سے رختِ سفر باندھا تو بہت سے مخلص افراد نے آپؑ کو کوفہ جانے سے منع کیا۔ ان میں آپؑ کے بھائی محمد بن حنفیہ بھی شامل تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کوفہ کا سفر خطرناک ہے اور وہاں آپؑ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

لیکن امام حسینؑ کی نگاہ دنیاوی منفعت پر نہیں بلکہ رضائے الٰہی پر تھی۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ جب دینِ خدا خطرے میں ہو تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ اگر حق کی بقا اور اسلام کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنا پڑے تو یہ سودا نقصان کا نہیں بلکہ کامیابی کا سودا ہے۔

جب عرض کیا گیا کہ اگر آپؑ کو اپنی شہادت کا علم ہے تو پھر اہلِ بیتؑ اور بچوں کو ساتھ کیوں لے جا رہے ہیں؟ تو امامؑ نے فرمایا کہ جس خدا کو یہ پسند ہے کہ میں اس کی راہ میں شہید ہو جاؤں، اسی خدا کو یہ بھی پسند ہے کہ میرے اہلِ بیتؑ مصائب برداشت کریں اور اس عظیم مقصد میں شریک ہوں۔

یہی عشقِ خدا تھا جس نے امام حسینؑ کو اس مقام تک پہنچا دیا تھا جہاں جان، مال، خاندان اور دنیا کی ہر محبوب چیز خدا کی رضا کے سامنے ہیچ ہو جاتی ہے۔

عشقِ خدا کی زبان

امام حسینؑ سے منسوب یہ اشعار عشقِ الٰہی کی اسی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں:

تَرَکتُ الخَلقَ طُرّاً فی هَواکا وَ أیتَمتُ العِیالَ لِکَی أراکا

فَلَو قَطَّعتَنی بِالحُبِّ إرباً لَمَا مالَ الفُؤادُ إلی سِواکا

"اے میرے پروردگار! تیری محبت میں میں نے سب کو چھوڑ دیا اور تیرے دیدار کی خاطر اپنے اہل و عیال کو یتیمی کے سپرد کر دیا۔ اگر تو مجھے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دے تب بھی میرا دل تیرے سوا کسی اور کی طرف مائل نہیں ہوگا۔"[1]

یہ اشعار دراصل ایک ایسے عاشقِ صادق کے دل کی آواز ہیں جس کی تمام محبتیں، تمام آرزوئیں اور تمام تمنائیں اپنے رب کے گرد گردش کرتی ہیں۔

حضرت زینبؑ؛ آئینہ دارِ عشقِ حسینؑ

کربلا کے بعد جب اہلِ بیتؑ اسیر بنا کر دربارِ یزید میں لائے گئے تو یزید نے غرور اور تمسخر کے انداز میں حضرت زینبؑ سے پوچھا:

"دیکھا، خدا نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا؟"

مگر دخترِ علیؑ نے عشقِ خدا اور رضائے الٰہی کے بلند ترین مقام سے جواب دیا:

"ما رأیتُ إلا جمیلاً"

"میں نے تو زیبائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔"[2]

یہ جملہ درحقیقت کربلا کی پوری روح کی ترجمانی کرتا ہے۔ جب انسان خدا کی رضا کو اپنا مقصد بنا لے تو مصیبت بھی نعمت بن جاتی ہے اور قربانی بھی کامیابی۔

شبِ عاشور؛ محبوب سے راز و نیاز

نو محرم کی شام جب دشمن کی طرف سے حملے کی تیاریوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو امام حسینؑ نے اپنے بھائی حضرت عباسؑ کو بھیجا کہ دشمن سے ایک رات کی مہلت طلب کریں۔

یہ مہلت نہ جنگی تیاری کے لیے تھی اور نہ جان بچانے کے لیے؛ بلکہ اس لیے تھی کہ آخری رات اپنے محبوبِ حقیقی کے ساتھ عبادت، دعا، تلاوتِ قرآن اور راز و نیاز میں گزاری جا سکے۔

تاریخ بیان کرتی ہے کہ اس رات خیموں سے تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور مناجات کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ گویا میدانِ کربلا عبادت گاہ میں تبدیل ہو چکا تھا اور عاشق اپنے محبوب سے آخری ملاقات کی تیاری کر رہا تھا۔

عاشورا؛ عشق کا نقطۂ عروج

عاشورا کے دن امام حسینؑ نے وہ عظیم اور جاوداں الفاظ ارشاد فرمائے جو عشقِ الٰہی کی معراج کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں:

"اِنْ کانَ دِینُ مُحَمَّدٍ لَمْ یَسْتَقِمْ اِلَّا بِقَتْلِی فَیَا سُیُوفُ خُذِینِی"

"اگر دینِ محمد ﷺ میرے قتل کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا تو اے تلوارو! آؤ اور مجھے اپنے آغوش میں لے لو۔"[3]

یہ اعلان اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام حسینؑ کی نگاہ میں دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر دینِ خدا اور رضائے الٰہی کی اہمیت تھی۔

وارثِ عشقِ علیؑ و رسولؐ

امام حسینؑ درحقیقت اسی علیؑ کے فرزند تھے جنہوں نے لیلۃ المبیت کی رات رسولِ خدا ﷺ کی حفاظت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دی تھی۔

جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ سے فرمایا کہ وہ ان کے بستر پر سو جائیں تو علیؑ نے یہ نہیں پوچھا کہ ان کی جان محفوظ رہے گی یا نہیں، بلکہ صرف یہ پوچھا:

"کیا اس طرح آپؐ محفوظ رہ جائیں گے؟"

جب جواب اثبات میں ملا تو علیؑ نے مسکراتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

کربلا میں یہی روحِ ایثار، یہی عشقِ خدا اور یہی محبتِ رسولؐ امام حسینؑ کی صورت میں جلوہ گر ہوئی۔

لمحۂ وصالِ محبوب

عاشورا کے آخری لمحات میں جب امام حسینؑ میدان کی طرف روانہ ہوئے تو اہلِ حرم سے فرمایا کہ خیموں سے باہر نہ آئیں۔

اس وصیت میں ایک نہایت لطیف راز پوشیدہ ہے۔ امامؑ جانتے تھے کہ محبوبِ حقیقی سے ملاقات کا وقت قریب آ چکا ہے۔ آپؑ نہیں چاہتے تھے کہ بچوں کی سسکیاں یا اہلِ حرم کی آہیں اس لمحۂ وصال میں دل کو اپنی طرف متوجہ کریں۔

آپؑ سراپا محبت و شفقت تھے۔ اگر بچوں کی آوازیں سن لیتے تو باپ کا دل انہیں اپنے سینے سے لگانے کے لیے تڑپ اٹھتا، لیکن عاشق کا دل اپنے محبوب کی طرف پرواز کے لیے بے قرار تھا۔

اسی لیے آپؑ چاہتے تھے کہ ملاقاتِ خدا کے اس عظیم ترین لمحے میں دل کا ہر رخ صرف خدا کی طرف متوجہ رہے۔خیمے سے نکلے سب سے رخصت ہوئے میدان میں آئے جنگ کی اور جب ندائےغیبی آئی ۔۔۔تو اپنا سر اپنے معبود و معشوق حقیقی کے آگے جھکا دیا :

إِلَهِي رِضًا بِقَضَائِكَ ، وَتَسْلِيمًا لِأَمْرِكَ ، لَا مَعْبُودَ سِوَاکَ ، يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ

میرے اللہ! میں تیری قضا و تقدیر پر راضی اور تیرے حکم کے آگے سراپا تسلیم ہوں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے فریاد رسی چاہنے والوں کے فریاد رس![4]

نتیجہ

کربلا صرف غم و الم کی ایک داستان نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان برپا ہونے والا ایک لازوال معرکہ ہے۔کربلا اطاعت و بندگیِ الٰہی اور عشقِ خداوندی کی معراج ہے، جہاں وفا، ایثار، صبر و استقامت اور تسلیم و رضا اپنے کامل ترین جلووں کے ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔یہ شعور و بیداری، حریت و وقار اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔

کربلا انسانیت کو یہ درس دیتی ہے کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے، مگر باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔اس لیے ضروری ہے کہ کربلا کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ اس کی حقیقی روح، آفاقی پیغام اور انقلابی فکر کے ساتھ سمجھا اور پہچانا جائے۔

محسن انسانیت ،راکب دوش رسول ؐ فرزند علی و بتول حضرت امام حسینؑ کی پوری زندگی بندگی الہی اور عشقِ خدا کی عملی تفسیر ہے۔ کربلا کا ہر منظر، ہر قربانی، ہر آنسو اور ہر شہادت اسی عشقِ الٰہی کی داستان سناتی ہے۔ امام حسینؑ نے انسانیت کو یہ درس دیا کہ جب دل خدا کی محبت سے لبریز ہو جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی قربانی بھی معمولی محسوس ہوتی ہے۔اسی لیے کربلا صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ اطاعت و بندگی خدا اور عشقِ الٰہی کی معراج، رضائے خدا کا مظہر، حریتِ انسانی کا منشور اور بندگیِ کامل کا وہ روشن مینار ہے جس کی روشنی قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

عشق کی انتہا تو دشتِ کربلا میں دیکھیے
سر کٹا کر بھی حسینؑ ابنِ علیؑ سجدے میں ہیں۔

حوالہ جات:

[1] ۔ الصحیح من سیرة امام علی/ 2/ 204

[2] ۔ بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج 45، ص 116 (متعدد طرق سے نقل)

[3] ۔ اعیان الشیعه/ 1/ 581

[4] ۔ بحار الأنوار، جلد 45، باب مقتل امام حسینؑ،اللهوف على قتلى الطفوف

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha