حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے مشتہرہ محرم پروگرام کے تحت وادیٔ کشمیر کے مختلف علاقوں میں جلوس ہائے عزاء کی برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 4 محرم الحرام کو ہمدانیہ کالونی بمنہ، عشائی باغ سرینگر اور گنائی دوری سرینگر میں علم شریف کے عظیم الشان جلوس برآمد ہوئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقان اہل بیتؑ نے شرکت کرکے حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو پُرخلوص عقیدت پیش کی۔
جلوس ہائے عزا کے دوران مرثیہ خوانی، نوحہ خوانی اور ذکر مصائب اہل بیتؑ کا اہتمام کیا گیا، جبکہ دنیا بھر میں ظلم و جبر کا سامنا کرنے والے مظلوم عوام، بالخصوص فلسطین، لبنان، ایران اور دیگر خطوں کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا۔

اس موقع پر غزہ کے نہتے عوام، فلسطینی شہداء، مزاحمتی محاذ کے شہداء اور راہ حق میں قربانیاں پیش کرنے والے تمام جانبازوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
ہمدانیہ کالونی بمنہ میں جلوس علم شریف کی برآمدگی سے قبل منعقدہ مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید مجتبیٰ عباس موسوی نے واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے حضرت امام حسینؑ، اہل بیتؑ اور ان کے وفادار اصحاب و انصار کی عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق، عدل، حریت اور انسانی وقار کے تحفظ کا ایک دائمی منشور ہے جو ہر دور کے مظلوموں کو ظلم و استبداد کے خلاف قیام کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے، تو پیغام کربلا انسانیت کو حق و صداقت کے ساتھ وابستگی اور باطل قوتوں کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے فلسطین، لبنان اور ایران کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم قربانیوں نے امت مسلمہ کے ضمیر کو بیدار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجلس کے اختتام پر عالم اسلام کے اتحاد، ملک و ملت کی سلامتی، شہدائے اسلام کے درجات کی بلندی اور مظلوم اقوام کی نصرت و کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔









آپ کا تبصرہ