ہفتہ 20 جون 2026 - 10:28
عقل، عدالت اور نظامِ مصطفیؐ ہی انسانیت کی حقیقی کامیابی کا ضامن ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی

حوزہ/مولانا سید اشرف علی الغروی نے دفترِ آیت الله العظمیٰ سیستانی لکھنؤ میں جاری عشرۂ محرم سے خطاب میں کہا کہ عقل، عدالت اور نظامِ مصطفیؐ ہی انسانیت کی حقیقی کامیابی کا ضامن ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دفترِ نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی، لکھنؤ میں جاری عشرۂ مجالسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے، تاکہ وہ اپنی زندگی کو الٰہی تعلیمات کے مطابق منظم کرے اور خواہشاتِ نفس کی اندھی پیروی سے محفوظ رہے۔

انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن انسان کی جزا و سزا کا معیار بھی عقل کا صحیح استعمال اور اس کی رہنمائی میں اختیار کیا گیا طرزِ زندگی ہوگا۔ جو شخص عقل کی پیروی کرتا ہے وہ ملائکہ سے بھی برتر مقام حاصل کر لیتا ہے، جبکہ عقل سے روگردانی کرنے والا حیوان سے بھی بدتر بن جاتا ہے۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے اپنے خطاب میں مختلف سماجی اور سیاسی نظاموں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ رہبانیت کا نظام انسان کو حقیقی امن، سکون اور سلامتی فراہم نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اجتماعی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہنشاہی نظام ہو یا جمہوری نظام، دونوں انسانیت کے مسائل کا مکمل اور پائیدار حل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں، ورنہ عوام کو اپنے منتخب نمائندوں پر بعد میں پشیمانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ صرف نظامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ایسا عادلانہ اور جامع نظام ہے جو انسانیت کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے، جہاں رنگ، نسل، زبان، دولت اور طبقاتی تفریق کے بغیر سب انسان برابر سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے نمازِ جماعت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے امیر و غریب، گورے اور کالے کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے انسانی مساوات کا عملی نمونہ پیش کیا ہے۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے دورِ حکومت کا ایک تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک یہودی کے ساتھ زرہ کے معاملے میں اختلاف عدالت تک پہنچا تو قاضی نے آپؑ کو ’’امیرالمؤمنین‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ اس پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ عدالت میں فریقین کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے اور دونوں کو مساوی حیثیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین علیہ السلام نے دنیا کو عدل و انصاف کا ایسا عملی نظام عطا کیا جس میں قانون کی نظر میں سب برابر تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد اور قومیں نبویؐ و علوی نظامِ حیات کی پیروی کرتی ہیں، وہ ظلم و استبداد کے سامنے نہ جھکتی ہیں اور نہ ہی اپنے اصولوں کا سودا کرتی ہیں۔

اسی تناظر میں انہوں نے عالمِ اسلام کی عظیم دینی شخصیات کی استقامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید آیۃ اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ حق، عدالت اور مظلوموں کی حمایت کا پرچم بلند رکھا ہے۔ شہادت قبول کر لی لیکن استعمار کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے تاریخی فتویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بصیرت افروز اقدام نے دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور مختصر مدت میں اس فتنے کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔

عقل، عدالت اور نظامِ مصطفیؐ ہی انسانیت کی حقیقی کامیابی کا ضامن ہے: مولانا سید اشرف علی الغروی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha