اتوار 21 جون 2026 - 13:59
عشقِ علیؑ اور غمِ حسینؑ انسان کو نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچاتے ہیں: حجۃ الاسلام سید عقیل الغروی

حوزہ/ بارگاہِ شہدائے کربلا انچولی کراچی میں 3 محرم الحرام 1448ھ کو منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین سید عقیل الغروی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان کے دل کی تھرتھراہٹ، اضطراب اور بے یقینی ختم ہو جائے اور وہ نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچ جائے، یہ دین کا ایک اہم تربیتی اور تعلیمی پہلو ہے کہ انسان اپنی روح اور نفس کی ایسی تربیت کرے کہ اس کے اندر اطمینان، استقامت اور یقین پیدا ہو جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بارگاہِ شہدائے کربلا انچولی کراچی میں 3 محرم الحرام 1448ھ کو منعقدہ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین سید عقیل الغروی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان کے دل کی تھرتھراہٹ، اضطراب اور بے یقینی ختم ہو جائے اور وہ نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچ جائے، یہ دین کا ایک اہم تربیتی اور تعلیمی پہلو ہے کہ انسان اپنی روح اور نفس کی ایسی تربیت کرے کہ اس کے اندر اطمینان، استقامت اور یقین پیدا ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ قیامت تک کوئی بھی امام حسین علیہ السلام جیسا نہیں بن سکتا، لیکن ہر انسان یہ کوشش ضرور کر سکتا ہے کہ اس کا کردار، قربانی اور وابستگی ایسی ہو کہ اس کی زندگی اور وفات لوگوں کو امام حسین علیہ السلام اور کربلا کے پیغام کو سمجھنے پر مجبور کر دے۔

عشقِ علیؑ اور غمِ حسینؑ انسان کو نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچاتے ہیں: علامہ سید عقیل الغروی

حجۃ الاسلام سید عقیل الغروی نے ولایت اور اہل بیت علیہم السلام سے مضبوط نسبت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دل، ایمان، یقین، اطاعت اور ولایت کی نسبت اگر مضبوط ہو تو اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرتی ہے۔ انہوں نے شہید رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ معصوم نہیں تھے اور نہ ہی ان کو اس معنی میں امام کہا جا سکتا ہے جس معنی میں بارہ ائمہ علیہم السلام کو امام کہا جاتا ہے، کیونکہ امام بارہ ہیں اور معصوم چودہ۔ تاہم ان کی غدیر اور کربلا سے وابستگی اور نسبت اس قدر مضبوط تھی کہ ان کی شہادت کے بعد دنیا بھر میں امام حسین علیہ السلام، کربلا اور انقلاب اسلامی کے پیغام کے بارے میں سوالات اور تجسس پیدا ہوا۔

عشقِ علیؑ اور غمِ حسینؑ انسان کو نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچاتے ہیں: علامہ سید عقیل الغروی

انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کون ہیں، کربلا کیا ہے اور وہ کون سا جذبہ ہے جو ایک قوم کو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کی طاقت دیتا ہے۔ ان کے بقول یہی وابستگی اور نظریاتی استحکام دراصل کربلا کے پیغام کی طاقت ہے۔

اپنے خطاب میں مولانا موصوف نے حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے پرچم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ پرچم دراصل توحید، رسالت، امامت اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پرچم ہے، لیکن کربلا کے بعد قیامت تک اسے حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں مختلف ادوار میں اس پرچم کے نیچے مخلص اور منافق دونوں جمع ہوتے رہے، لیکن کربلا میں حضرت عباس علیہ السلام کے ہاتھ میں آنے کے بعد اس کے نیچے موجود افراد نے وفاداری اور استقامت کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔

عشقِ علیؑ اور غمِ حسینؑ انسان کو نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچاتے ہیں: علامہ سید عقیل الغروی

انہوں نے کہا کہ ایران کی قوم اسی پرچم اور اسی فکر کے زیر سایہ پروان چڑھی ہے، اسی لیے استکباری طاقتیں اس قوم سے خوفزدہ رہتی ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے حسینی جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے پرچم کے سائے تلے عزاداری کرتے ہیں تو انہیں اپنے اندر استقامت، اطمینانِ نفس اور قربانی کا وہی جذبہ پیدا کرنا ہوگا جو کربلا کے وفاداروں کی پہچان تھا۔

برصغیر کے معروف خطیب نے کراچی کے عزاداروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عاشورا کے جلوس پر ہونے والے دہشت گرد حملوں اور بم دھماکوں کے باوجود عزاداروں نے اپنے حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور پرچمِ عزا کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اطمینانِ نفس، صبر اور ثابت قدمی کا وہ جوہر ہے جسے مزید مضبوط اور پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کے نفس میں اطمینان، صبر اور استقامت پیدا کرنے والی بہت سی چیزیں ہیں، لیکن ان میں دو چیزیں سب سے زیادہ مؤثر ہیں: عشقِ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور غمِ امام حسین علیہ السلام۔ ان کے بقول اگر یہ دو نعمتیں کسی انسان کے اندر موجود ہوں تو وہ اپنی مضطرب روح کو نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

حجۃ الاسلام عقیل الغروی نے واضح کیا کہ یہ محض جذباتی یا رسمی مذہبی گفتگو نہیں بلکہ انسانی نفسیات، اخلاقیات اور فلسفے کے گہرے مطالعے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سقراط، ارسطو، افلاطون اور بعد کے متعدد مفکرین نے علمِ اخلاق اور علم النفس کے میدان میں جو مباحث پیش کیے ہیں، ان کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانی شخصیت کو مضبوط، پُرامید اور باوقار بنانے کے لیے عشقِ علی علیہ السلام اور غمِ حسین علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی مؤثر ذریعہ نہیں۔

انہوں نے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اگر انسان اپنی روح اور نفس کی تربیت ان دو عظیم سرچشموں کے ذریعے کرے تو وہ مایوسی، کمزوری اور اضطراب سے نجات حاصل کرکے اطمینان، قوتِ ارادی اور معنوی استحکام کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha