حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ ۱۸ جون/ امام باڑہ غفران مآبؒ میں عشرۂ محرم الحرام کی دوسری مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولاناسیدکلب جوادنقوی نے ارکان حج کے ذریعہ عزائے امام حسینؑ پر ہونے والے اعتراضات کی رد کی ۔

انہوں نے کہاکہ آج قبروں کے طواف اور ائمہ معصومینؑ کی زیارت کو شرک اور بدعت کہاجاتاہے جب کہ طواف کعبہ کے دوران انبیاء کی قبروں کا طواف بھی ہوتاہے اور حجر اسود کو بوسہ دیناطواف کا جزہے ۔اگر بھیڑ کی وجہ سے حجر اسود تک پہنچنا دشوار ہوتو دور سے استسلام ضروری ہے ۔لہذا جب دور سے حجر اسود کو استسلام کیاجاسکتاہے تو ائمہ معصومینؑ کو سلام کیوں نہیں کیاجاسکتا۔
انہوں نے کہاکہ عزاداری ارادۂ الہی ہے جس کو ختم نہیںکیاجاسکتا۔انہوں نے کہاکہ عزاداری سے ٹکرانے والے دراصل ارادۂ الہی سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔انہیں معلوم ہوناچاہیے کہ عزائے حسینؑ کی بنیاد اللہ اور اس کے رسولؐ نے رکھی تھی ،اس کے بنیاد گزار ہم نہیں ہیں ۔

مولانا نے کہاکہ محرم کا چاند دیکھتے ہی جو نئےسال کی مبارک باد دیتے ہیں وہ دراصل محرم کے تقدس اور عزائے امام حسینؑ کو نقصان پہونچاناچاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگر حسینؑ کے ماتم میں کوئی عظمت نہیں ہے تو یزید کی نسلیں پریشان کیوں ہوجاتی ہیں ؟۔
مولانا نے کہا کہ اہلبیت رسولؑ کے لئے رضی اللہ نہیں لکھا جاسکتا کیونکہ جو شے حاصل نہیں ہوتی اس کے لئے دعا کی جاتی ہے مگر جو پہلے سے حاصل ہواس کے لئے دعانہیں مانگی جاتی ۔اہلبیت رسولؑ اللہ کی مرضی کے مالک ہیں انہیں اس دعاکی ضرورت نہیں ہے ،دعاان کے لئے کی جاتی ہے جن کے پاس اللہ کی رضا نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ولایت علیؑ کے اعلان سے پہلے تو اللہ نے نہ دین مکمل کیااور نہ دین اسلام سے راضی ہوا۔جس اعلان کی بناپر اللہ دین اسلام سے راضی ہواجب تک اس کی ولایت کا اقرار نہ کیاجائے اللہ مسلمان سے کیسے راضی ہوسکتاہے ۔

مولانانے حسین آباد ٹرسٹ میں ہورہی بدعنوانیوں اور ناجائز قبضوں سے بھی لوگوں کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ سازش یہ ہے کہ امام باڑوں اور مذہبی عمارتوں کو پکنک اسپاٹ بنادیاجائے ۔اسی لئے وہاں پارکنگ بنائی جارہی تھی اور لذیذ گلی تعمیر کی گئی۔مولانانے کہاکہ ٹرسٹ کی زمین پر موسیقی کے پروگرام کئے گئےجس کی ویڈیوموجود ہے۔لہذا ضروری ہے کہ قوم متحد ہوکر ان سازشوں کا مقابلہ کرے ونہ ہمارے امام باڑوں کو سیاحتی مقامات میں تبدیل کردیاجائے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ حسین آباد ٹرسٹ کی سڑکوں کو کرائے دار وںکے ناموں سے موسوم کردیاگیا جب کہ یہ سڑکیں اودھ کے نوابوں اور بادشاہوں کی ملکیت ہیں ۔ہم مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ حسین آباد ٹرسٹ کی تمام سڑکوں کو نوابین اور بادشاہان اودھ سے منسوب کیاجائے ۔

انہوں نے کہاکہ اگر آصفی مسجد سے نماز جمعہ جامع مسجد تحسین گنج منتقل کردی جائے ،جیساکہ بعض لوگ کہتے ہیں ،تو بڑاامام باڑہ پوری طرح ’ٹورسٹ اسپاٹ ‘ بن جائے گا۔ ۔انہیںسازشوں کو ختم کرنے کے لئے ہم نے بڑے امام باڑے میں مجلسیں قائم کیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم رہے کہ یہ امام باڑہ عزاداری کے لئے بنایاگیاہے لوگوں کے سیر سپاٹے کے لئے نہیں۔آصفی مسجد میں نماز جمعہ ہمارے خاندان کے بزرگ عالم آیت اللہ سید ابراہیم نے منتقل کی تھی ۔ان کا مقصد بھی یہی تھاکہ بڑے امام باڑے کا مذہبی کردار باقی رہے اور ان عمارتوں کو پکنک اسپاٹ نہ بننے دیاجائے ۔

مجلس کے آخر میں مولانانے امام حسینؑ کے کربلا میں داخلے اور قبیلۂ بنی اسد سے کربلا کی زمین کی خریداری کے واقعے کو بیان کیا۔










آپ کا تبصرہ