حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ امام باڑہ غفران مآبؒ میں عشرۂ محرم کی پانچویں مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے کہاکہ امام حسینؑ کی شہادت حضرت ابراہیمؑ کے خواب کی تعبیر ہے ۔حضرت اسماعیلؑ جب کہ قربان نہیں ہوسکے تھے مگر انہیں ذبیح اللہ کہاجاتاہے لیکن امام حسینؑ نے اپنی شہادت دے کر حضرت ابراہیمؑ کے خواب کی تعبیر پوری کی ،اس لئے آپ ؑ کی شہادت کو ذبح عظیم کہاجاتاہے ۔مولانانے کہاکہ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ اگر ہم کربلا میں ہوتے تو حسینؑ کے ساتھ ہوتے کیونکہ حسینؑ کے راستے پر چلنا آسان نہیں ہے ۔

مولانانے دوران مجلس اہلبیت علیہم السلام کے فضائل بیان کرتے ہوئے کہاکہ پیغمبر اسلامؐ نے حضرت علی ؑ کے بارے میں ارشاد فرمایاتھاکہ تمہارے درمیان سب سے زیادہ با فضیلت ،سب سے زیادہ اعلم اورتمہارے درمیان سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا علی ؑ ہے ۔انہوں نے کہاکہ حضرت علیؑ کبھی کسی کے دروازے پر سوال کرنے نہیں گئے مگر دنیا کا علیؑ کے دروازے پر آنا یہ ثابت کرتاہے کہ علیؑ سے زیادہ نہ کوئی صاحب فضلیت ہے ،نہ کوئی ان سے بڑاعالم ہے اور نہ کوئی علیؑ سے زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والاہے ۔مولانانے کہاکہ علیؑ کو نہ حکومت کی ضرورت تھی اور نہ خلافت کی ۔جس کی حکومت جن و انس اور زمین وآسمان پر ہووہ دنیا کی حکومت کاخواہش مندنہیں ہوسکتا۔یہی وجہ ہے کہ علیؑ خلافت مانگنے کسی کے پاس گئے نہیں گئے بلکہ خلافت خود چل کر علی کے دروازے پر آئی ۔

مجلس کے آخر میں مولانانے حضرت حرؑ بن یزید ریاحی کی معافی اور شہادت کا تذکرہ کیا۔









آپ کا تبصرہ