حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ امام باڑہ غفران مآب میں ماہ محرم الحرام کی پہلی مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا سید کلب جواد نقوی نے امام حسین علیہ السّلام کی شہادت پر گریہ و ماتم کی عظمت کو قرآن مجید کی آیات اور احادیث پیغمبر ؐ کی روشنی میں بیان کیا۔مولانانے امام حسینؑ کی شہادت اور عزاداری کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام حسینؑ اپنے نانا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آغوش میں تھے ،اس وقت آپؐ نے ارشاد فرمایاکہ’ حسینؑ کی شہادت سے مومنوں کے دلوں میں ایسی حرارت پیداہوگی جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوگی ۔‘ مولانا نے کہا کہ جو بھی مومن ہوگا اس کے دل میں امام حسینؑ کی شہادت سے حرارت ضرور پیداہوگی ۔انہوں نے کہاکہ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حسینؑ کی شہادت کا اثر اور حرارت قیامت تک باقی رہے گی ،جس کو ہرگز ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مولانا نے مزید کہاکہ امام حسینؑ پر گریے کا ثواب یہ ہے کہ معصومؑ نے ارشاد فرمایا کہ جو حسینؑ کی شہادت پر روئے ،رلائے یا رونے جیسی صورت بنائے اس پر جنت واجب ہے ۔انہوں نے کہاکہ امام حسینؑ کی شہادت پر گریہ کرنا بے حد اجروثواب رکھتاہے ۔پیغمبراسلامؐ نے بھی کربلا کا واقعہ سن کر گریہ فرمایاتھا،جس کے شواہد بلاتفریق تمام کتابوں میں موجود ہیں ۔مولانا نے کہاکہ شہادت حسینؑ کی خبر جبریل نے رسول اللہؐ کو دی تھی جس کے بعد آپ نے گریہ فرمایاتھا۔لہذا آج جو ہم گریہ کرتے ہیں وہ سنت پیغمبرؐ ہے ،بدعت نہیں ہے ۔

مجلس کے آخر میں مولانانے کوفے میں سفیر امام حسینؑ اور آپ کے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل ؑ کی شہادت کے واقعے کو بیان کیا۔










آپ کا تبصرہ