حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ امام باڑہ غفران مآبؒ میں عشرۂ محرم الحرام کی چھٹی مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولاناکلب جوادنقوی نے کہاکہ خدا کے وجود کی معرفت کے لئے فطرت کا مطالعہ کافی ہے ،اس کے لئے کسی منطق اور فلسفے کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ۔مولانانے کہاکہ کائنات کا نظم خداکے وجود پر دلیل ہے ۔فطرت اور کائنات کا نظم خود گواہی دیتاہے کہ ان کا کوئی خالق ہے ۔

مولانانے کہاکہ خداکی وحدانیت دوگواہوں نے ثابت کی ۔ایک خاموش فطرت اور دوسرے محمد رسول اللہؐ کی بولتی ہوئی گواہی ۔جس طرح خداکی وحدانیت کے لئے دوگواہ ہیں اسی طرح رسولؐ کی رسالت کے لئے بھی دوگواہ ہیں جن کا اعلان قرآن مجید نے کیاکہ اے رسول ؐ رسالت کے منکروں سے کہہ دیجیے کہ آپ کی رسالت کی گواہی کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے ۔سوال یہ ہے کہ اللہ نے رسولؐ کی رسالت کی گواہی کب دی؟اگر اللہ سامنے آکر گواہی دے تو وہ خدا نہ رہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے قرآن مجید کے ذریعہ گواہی دی ۔اور دوسری گواہی اس کی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے ۔مولانانے کہاکہ پوری کتاب کا علم اسی کے پاس ہوگاجو منبر کوفہ سے اعلان کررہاتھا کہ’ سلونی سلونی ‘،جو پوچھناچاہتے ہومجھ سے پوچھ لوقبل اس کے کہ تم مجھے کھودو۔

مولانانے کہاکہ کچھ عرب ملکوں نے اپنے یہاں عزاداری پر روک لگادی ہے اور شیعوں کو نکالاجارہاہے ۔چونکہ پوری دنیا میں امریکہ اور اسرائیل جیسے ظالموں کامقابلہ صرف شیعہ کررہے ہیں لہذا انہیں نشانہ بنایاجارہاہے،یہ افسوسناک اورقابل مذمت ہے۔یاد رکھیے جہاں حسینیت نہیں ہوگی وہاں صرف غلامی ہوگی ،اس کا مشاہدہ عرب ملکوں میں کیاجاسکتاہے ۔مولانا نے کہاکہ اگر امام حسینؑ کربلا کے میدان میں قربانی پیش نہ کرتے تو آج یزیدی اسلام ہوتا،محمد یؐ اسلام مٹ جاتا۔انہوں نے کہاکہ امام حسینؑ کی قربانی نے انسانیت کو نئی زندگی بخشی اور اگر آج انسانیت موجودہے تو یہ قربانیٔ حسین کا نتیجہ ہے ۔

مولانانے مجلس کے آخر میں شبیہ پیغمبر اکرمؐ حضرت علی اکبرؑ کی شہادت کا واقعہ بیان کیا۔مولانانے کہاکہ حضرت علی اکبرؑ رسول اللہؐ کی شبیہ تھے ۔جب آپ نے اپنے فرزند کو میدان جنگ کی طرف روانہ کیاتو فرمایامعبود گواہ رہنا اب میں اُسے بھیج رہاہوں جس کی رفتار ،گفتار اور شکل وصورت تیرے رسولؐ سے ملتی ہے ۔









آپ کا تبصرہ