حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ امام باڑہ غفران مآبؒ میں عشرہ ٔ محرم الحرام کی ساتویں مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے کہاکہ خدانے وعدہ کیاہے کہ جو لوگ اس کا ذکر زندہ رکھتے ہیں خداکبھی ان کے ذکر کو مٹنے نہیں دے گا۔مولانانے کہاکہ اہلبیتؑ رسول نے اللہ کے ذکر اور اس کے دین کو بچانےکے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا، لہذا اللہ نے اہلبیتؑ کی یاد کو زندہ رکھاہے ۔دنیا کی کوئی طاقت اس یاد کو مٹانہیں سکتی کیونکہ اس یاد کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری اللہ کی ہے ۔

مولانا نے کہا کہ عزاداری کی بقا اور اس میں مسلسل اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا وعدہ پوراہورہاہے۔کیونکہ ہمیشہ دولت، حکومت اور میڈیا کی طاقت عزاداری کے خلاف رہی، مگر عزاداری کے خلاف نہ دولت کام آئی، نہ حکومت کامیاب ہوئی اور نہ میڈیا اس تحریک کو ختم کرسکا۔ مولانا نے کہاکہ یزید اور اس کے حامیوں نے واقعۂ کربلا کو دبانے اور چھپانے کے لئے دولت بھی خرچ کی اور اپنے مولویوں اور مفتیوں کاسہارالیامگر واقعۂ کربلا آج بھی لوگوں کے دلوں حرارت بن کرموجود ہے ۔

مولانانے اللہ کی وحدانیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کائنات کا نظم اللہ کے وجود پر گواہ ہے ۔بعض وہ لوگ جو ’بگ بینک ‘ تھیوری کے قائل ہیں ان سے پوچھاجائے کہ مادے میں یہ دھماکہ پہلے کیوں نہیں ہوا۔اگر اتفاق سے یہ دھماکہ ہواتو یہ اتفاق پہلے کیوں نہیں ہوا۔مولانانے کہاکہ اگر کائنات اتفاق کانام ہے تو پھر کبھی یہ اتفاق کیوں نہیں ہواکہ زمین میں گیہوں بویاجائے اور اس بیج سے سیب کا درخت نکل آئے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات اتفاق کانام نہیں بلکہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے جس نے کائنات میں نظم رکھا ہے ۔

مجلس کے آخر میں مولانانے امام حسنؑ مجتبیٰ کے کم سن فرزند حضرت قاسم ؑ کی شہادت کے واقعے کو بیان کیا۔










آپ کا تبصرہ