ہفتہ 20 جون 2026 - 20:36
اخلاص، صبر اور اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہیں: مولانا سید اشرف علی الغروی

حوزہ/دفترِ نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی، لکھنؤ میں جاری عشرۂ مجالسِ عزا کے سلسلے میں چوتھی مجلسِ عزاء منعقد ہوئی۔ مجلس کا آغاز مولانا قمر الحسن زینبی نے تلاوتِ کلامِ پاک اور زیارتِ عاشورا سے کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دفترِ نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی، لکھنؤ میں جاری عشرۂ مجالسِ عزا کے سلسلے میں چوتھی مجلسِ عزاء منعقد ہوئی۔ مجلس کا آغاز مولانا قمر الحسن زینبی نے تلاوتِ کلامِ پاک اور زیارتِ عاشورا سے کیا۔

مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کے نمائندہ، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ فرشِ عزا بچھانا، مجالس کا انعقاد کرنا اور عزاداری برپا کرنا دراصل پیغامِ کربلا کی تبلیغ ہے، لہٰذا اس فریضے کی ادائیگی میں قرآنِ کریم کے حکمِ حکمت اور موعظۂ حسنہ کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے ریاکاری اور نمود و نمائش کے نقصانات بیان کرتے ہوئے کہا کہ نماز، روزہ، حج، زیارت اور عزاداری سمیت ہر عبادت میں اخلاص بنیادی شرط ہے۔ اگر عبادت خلوصِ نیت سے خالی ہو تو اس کی روح اور اثر باقی نہیں رہتا۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک سبق آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ضعیفہ خاتون روزانہ آپؐ پر کوڑا پھینک کر آپؐ کو اذیت پہنچایا کرتی تھی، لیکن جب وہ بیمار ہوئی تو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ آپؐ کے حسنِ اخلاق اور رحمت سے متاثر ہو کر وہ خاتون مسلمان ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا، کیونکہ آپؐ کا مقصد بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہِ ہدایت دکھانا تھا۔

انہوں نے باہمی اختلافات کے خاتمے اور معاشرتی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امن و سکون اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ جو شخص وسعتِ ظرف اور برداشت کا مظاہرہ نہیں کرتا، وہ حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔

امامِ زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور اور ان کے انصار کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ امامؑ کے لشکر میں وہی افراد شامل ہوں گے جو حضرت سلمانِ محمدیؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ اور مختار ثقفیؒ کی سیرت، وفاداری اور حق شناسی کو اپنائیں گے۔

انہوں نے حضرت مالک بن نویرہؓ کی شہادت اور ان کے ساتھ روا رکھی گئی بے حرمتی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نظامِ غدیر سے انحراف کا نتیجہ یہ نکلا کہ نااہل افراد اقتدار تک پہنچ گئے، جس کے باعث مسلمانوں کا خون بہایا گیا اور ان کی حرمت پامال ہوئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha