منگل 23 جون 2026 - 12:03
کربلا کے پیر و جواں اور بچوں نے اخلاص کا لازوال درس دیا: مولانا سید اشرف علی الغروی

حوزہ/ مولانا سید اشرف علی الغروی نے فکر و تدبر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی شخصیت اور مقام کا اندازہ اس کی سوچ سے لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے روایت نقل کی کہ ’’ایک گھنٹے کی فکر ستر سال کی عبادت سے افضل ہے‘‘ اور حاضرین کو بلند فکر، مثبت سوچ اور غور و تدبر کی عادت اپنانے کی تلقین کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ دفترِ نمائندگی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ میں جاری عشرۂ مجالس کی چھٹی مجلس کا آغاز مولانا قمر الحسن زینبی نے تلاوتِ قرآنِ کریم اور زیارتِ عاشورا سے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید محمد عباس واعظ نے بارگاہِ اہلِ بیتؑ میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ کے نمائندہ، حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی تبلیغ کے لئے حکمت اور موعظۂ حسنہ کا حکم دیا ہے۔ اگر اس قرآنی تعلیم کو پیشِ نظر رکھا جائے تو معاشرے میں اختلافات اور نزاعات کی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔

کربلا کے پیر و جواں اور بچوں نے اخلاص کا لازوال درس دیا: مولانا سید اشرف علی الغروی

مولانا سید اشرف علی الغروی نے مشہور روایت ’’ہم وہی نقطہ ہیں جو باءِ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نیچے ہے‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں ایک نہایت چھوٹی چیز میں ہزاروں بلکہ لاکھوں کتابیں محفوظ کی جا سکتی ہیں۔ جب انسان کی بنائی ہوئی اشیاء میں یہ صلاحیت موجود ہے تو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں اس سے کہیں زیادہ وسعت، گہرائی اور اسرار کا ہونا بعید نہیں۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امام سجادؑ کو ’’زین العابدین‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن خود امامؑ نے عبادت، تقویٰ اور بندگی کے اعلیٰ ترین نمونے کے طور پر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امیرالمؤمنینؑ نے اپنی علمی و روحانی تربیت کا سرچشمہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرار دیا۔

انہوں نے ایک روایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب یمن سے شہد آیا تو امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے اپنے دستِ مبارک سے کوفہ کے یتیم بچوں کو شہد کھلایا۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’دین، خالق کی اطاعت اور مخلوق پر شفقت کا نام ہے‘‘ اور امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنی عملی زندگی میں اس تعلیم کا بہترین نمونہ پیش فرمایا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ انسان کی دینداری کا معیار صرف عبادات نہیں بلکہ اس کے معاملات بھی ہیں۔ روایات کی روشنی میں انہوں نے کہا کہ کسی شخص کے کردار، دیانت اور اخلاق کو سفر، قرض، امانت اور راز داری جیسے معاملات کے ذریعہ بہتر طور پر جانچا جا سکتا ہے۔

مولانا سید اشرف علی الغروی نے فکر و تدبر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی شخصیت اور مقام کا اندازہ اس کی سوچ سے لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے روایت نقل کی کہ ’’ایک گھنٹے کی فکر ستر سال کی عبادت سے افضل ہے‘‘ اور حاضرین کو بلند فکر، مثبت سوچ اور غور و تدبر کی عادت اپنانے کی تلقین کی۔

کربلا کے پیر و جواں اور بچوں نے اخلاص کا لازوال درس دیا: مولانا سید اشرف علی الغروی

اخلاص کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر عمل میں خلوصِ نیت بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب، جوانوں، بزرگوں اور حتیٰ کہ بچوں نے بھی دنیا کو اخلاص، وفاداری اور قربانی کا ایسا لازوال درس دیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

مجلس کے اختتام پر مولانا شبیر علی نے پرسوز نوحہ خوانی کی اور عزاداروں نے سینہ زنی کر کے حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی بارگاہ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha