حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملاقات کے آغاز میں تمام اداروں کے نمائندوں نے اپنے اپنے اداروں کی تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں، طلبہ کی علمی پیش رفت اور مختلف جاری منصوبوں کے حوالے سے مختصر رپورٹ پیش کی۔
حسینیہ بقیت الله الاعظم عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی جانب سے آقائے شیخ خادم آخوندی نے انجمنِ صاحب الزمان عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف اور حسینیہ بقیت اللہ کی چند سالہ فعالیت منجملہ ثقافتی، علمی تحقیقی اور تبلیغی کارناموں کی تفصیلی رپورٹ کے ساتھ ساتھ آئمہ معصومین علیہم السلام کی اعیاد اور وفیات، انقلابی تقریبات 22 بھمن، برسی امام، چہلم شہید امت اور یوم قدس جیسے عالمی تحریکِ بیداری کا ذکر کیا۔
ہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے انقلابی پروگراموں کا کرگل اور لداخ کے دینی مراکز کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر حجت الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے دینی اداروں کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور انسجام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز کا مقابلہ صرف مشترکہ حکمتِ عملی اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام دینی اداروں کو اپنے مشترکہ اہداف اور اعلیٰ مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے تجربات اور صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ ملت کے لیے زیادہ مؤثر خدمات انجام دی جا سکیں۔
ملاقات کے دوران سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات بھی گفتگو کا اہم موضوع رہے۔
حجت الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے طلبہ کو جدید ذرائع ابلاغ سے مؤثر استفادے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں دینی پیغام، اخلاقی اقدار اور صحیح معارف کی ترویج کے لیے سوشل میڈیا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ تاہم اس کے استعمال میں ذمہ داری، تحقیق اور اخلاقی اصولوں کی پابندی کو بھی ضروری قرار دیا گیا۔
انہوں نے طلاب کو مختلف زبانوں پر عبور حاصل کرنے کی ضرورت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر میں عربی، اردو، انگریزی، فارسی اور مقامی زبانوں سے واقفیت نہ صرف علمی ترقی، بلکہ دینی پیغام کو وسیع تر حلقوں تک پہنچانے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق زبانوں کا علم نوجوان علماء اور مبلغین کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے اور انہیں عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔
گفتگو کے دوران بچوں اور نسلِ جدید کی دینی و اخلاقی تربیت کا موضوع بھی خصوصی طور پر زیرِ بحث آیا۔
حجت الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل مختلف فکری، ثقافتی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، لہٰذا دینی اداروں، علماء، اساتذہ اور والدین کو مل کر ایسی تربیتی حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے جو بچوں اور نوجوانوں کی فکری، روحانی اور اخلاقی نشوونما میں مددگار ثابت ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی میدان میں جدت، مطالعے کی عادت، تحقیقی ذوق، اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں کو معاشرے کی خدمت اور امت کی فکری رہنمائی کے لیے بروئے کار لائیں۔
تمام اداروں کے اراکین سے مختلف موضوعات پر اپنی آراء اور تجاویز پیش کرتے ہوئے دینی اداروں کے درمیان روابط کے فروغ، مشترکہ علمی پروگراموں کے انعقاد اور نوجوان نسل کی بہتر تربیت کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات کے اختتام پر حجت الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی نے طلبہ کی علمی و دینی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ کرگل اور لداخ کے دینی ادارے مستقبل میں بھی علم، اخلاق، اتحاد اور خدمتِ دین کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تمام اداروں کے مسئولین سے اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ دینی اور انقلابی پروگراموں کا انعقاد کرنے پر زور دیا،
تمام اداروں کے طلاب نے قیمتی رہنمائی اور حوصلہ افزائی پر حجت الاسلام والمسلمین عبد المجید حکیم الٰہی کا شکریہ ادا کیا اور ملت کی بہتر خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔









آپ کا تبصرہ