حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ضلع پونے، مہاراشٹر کے شہر جنیر میں واقع مدرسہ سجادیہ کی بنیاد سن 1950ء میں مولانا رضی الدین فضل حسین صاحب نے رکھی تھی۔ اس وقت مدرسہ میں طلبہ کی تعداد تقریباً 30 تا 35 تھی، جبکہ آج بحمد اللہ طلبہ کی تعداد 450 تک پہنچ چکی ہے۔ فی الحال مدرسہ میں 22 مدرسین اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مدرسہ سجادیہ کے قیام کے 76 سال مکمل ہونے کے موقع پر مدرسہ سجادیہ کی انتظامیہ کمیٹی کے نائب منتظم و رکن جناب سید تسنیم مہدی نذیر حسین صاحب نے "تاریخِ مدرسہ سجادیہ" کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی ہے۔ اس کتاب میں مدرسہ کی ابتدا سے لے کر آج تک کی مکمل تاریخ اور تفصیلات کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اس کتاب کی رسمِ اجرا بروز سنیچر 6 جون 2026ء، مطابق 19 ذی الحجہ 1447ھ، بعد نمازِ مغربین، شیعہ جامع مسجد سید باڑا، جنیر، ضلع پونے، مہاراشٹر میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں مدرسہ سجادیہ کے سابق و موجودہ اساتذہ، طلبہ اور انتظامیہ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔
پروگرام کی نظامت مدرسہ سجادیہ کے مدرس جناب واجد حسن صاحب نے انجام دی، جبکہ صدارت مدرسہ سجادیہ کے سابق صدر جناب حاجی سید امیر علی رستم علی صاحب نے فرمائی۔
اس موقع پر شیعہ جامع مسجد کے امام جمعہ و جماعت اور مدرسہ سجادیہ کے مدرس مولانا محمد ظفر دلاور حسین صاحب نے اپنے خطاب میں کتاب کے مؤلف جناب سید تسنیم مہدی صاحب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مدرسہ سجادیہ کے لیے باعثِ افتخار امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک سید باڑا، جنیر کے کسی بھی ادارے کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی کتاب شائع نہیں ہوئی اور غالباً یہ سید باڑا کی پہلی تاریخی کتاب ہے۔
اسی موقع پر مسجد صاحب الزمانؑ کے امام جماعت مولانا حسین عباس صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدرسہ سجادیہ کی مفصل اور منظم تاریخ پہلے موجود نہیں تھی، لہٰذا یہ کتاب مدرسہ کے لیے ایک اہم تاریخی دستاویز اور قیمتی سرمایہ ثابت ہوگی۔
آخر میں کتاب کے مؤلف جناب سید تسنیم مہدی نذیر حسین صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کتاب کی ضرورت، اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مدرسہ سجادیہ کے قیام و ارتقا کے مختلف مراحل، درپیش مشکلات اور ان قربانیوں کا تذکرہ کیا جن کے نتیجے میں آج یہ ادارہ ترقی کی اس منزل تک پہنچا ہے۔
انہوں نے مدرسہ کی تاریخ، خدمات اور تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بھی تفصیلی معلومات پیش کیں۔










آپ کا تبصرہ