حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میٹنگ میں محرم الحرام کی آمد اور شیعہ سنی اتحاد اور باہمی برادرانہ تعلقات پر غور کیا گیا۔ اس بات پر افسوس اور برہمی کا اظہار کیا گیا کہ کچھ عاقبت نااندیش اور جاہل افراد ایک منظم منصوبے کے تحت ملی اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی خاطر منافرت پھیلانے کے ساتھ ساتھ بد اخلاقی پر مبنی کلام ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر رہے ہیں۔ علاقہ ریناواری سے تعلق رکھنے والے کسی بد قماش اور بدبخت شخص کے آڈیو کلپ پر تبصرہ کرتے ہوے کہا گیا ہے کہ مذکورہ کلپ نہ صرف دل آزار کلام پر مبنی تھا بلکہ اس کلپ سے بزرگ مذہبی اور روحانی شخصیات کی بے حرمتی ہوئی جو کسی بھی طور ناقابل قبول ہے۔
اس حوالے سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق "رینا واری پولیس سرگرم ہو چکی ہے اور مذکورہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو کہ بہتر قدم ہے اور ہم ریناواری پولیس کے اس بروقت اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں" اور امید کرتے ہیں کہ اس طرح کے بیہودہ پروپیگنڈہ میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں بخشا جائے گا، ملی اتحاد کونسل سرینگر پولیس سے دگر علاقوں میں بھی ایسے اشخاص کے خلاف فوری نوعیت کے تسلی بخش اقدامات اٹھانے کی اپیل کرتی ہے۔
میٹنگ میں سلفی جماعت سے تعلق رکھنے والے معروف عالم دین مشتاق احمد ویری صاحب کی وضاحت کو اگر چہ بروقت قرار دیا گیا، تاہم اس ضمن میں ویری صاحب اتحاد ملت اسلامیہ کے حق میں اور بھی بہتر انداز سے اپنی بات رکھ سکتے تھے جو کہ نہیں کی گئی، ملت اسلامیہ کشمیر ان کی بہتر اور غیر مبہم الفاظ پر مبنی وضاحت کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔
مٹینگ میں نوجوانانِ ریاست کو منافرت اور دل آزار مواد پھیلانے والوں سے ہوشیار رہیں اور ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے امن و قانون بنانے والے اداروں کو مطلع کریں۔
کونسل نے علمائے کرام اور ذاکرین حضرات سے بھی دردمندانہ اپیل کی کہ وہ تبلیغ و تقریر میں مثبت انداز اور بہتر الفاظ کا انتخاب کرنے کی کوشش کریں اور اپنی تحریر، تبلیغ اور تقاریر میں دوسروں کے تالیفِ قلوب کا خیال رکھیں.









آپ کا تبصرہ